پشاور ڈوبا رہا، حکومت غائب

تحریر : عابد حمید


حالیہ بارشوں نے خیبرپختونخوا میں جس طرح تباہی مچائی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔پہاڑی علاقوں سے لے کر میدانی شہروں تک ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔

 محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ پچاس سال میں اس قدر شدید بارش ایک دن میں نہیں ہوئی تھی۔ لیکن کیا یہ صرف بارشوں کی شدت تھی یا ہماری اپنی کوتاہیوں نے بھی اس تباہی کو بڑھایا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ہمیں گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ بارشوں سے مکان منہدم ہونے اور دیگر واقعات میں 47 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 27 کے قریب بچے تھے۔ سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ لوگوں کو چھتوں پر پناہ لینی پڑی، پانی گھروں میں داخل ہوگیااور سامانِ زیست تباہ ہوا۔یہ ایک آفت ناگہانی ہے،اس میں کوئی شک نہیں انسان کا اس پر کنٹرول نہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بے بس ہو کر بیٹھ جائیں۔ آفت کے بعد جو کردار ادا کیا جاتا ہے وہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ایسی ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت عوام کی دادرسی کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔یہ حکومت کا پہلا فرض ہوتا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں ایسا نہیں ہوا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ان حالات میں بھی اسلام آباد میں براجمان رہے۔ ان کی کابینہ کے وزرا بھی اکثروبیشتر وہیں نظر آئے۔ایسے میں جب صوبے کا سب سے بڑا شہر پانی میں ڈوب رہا ہو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے تڑپ رہے ہوں وزیراعلیٰ کا اسلام آباد میں رہنا کیا پیغام دیتا ہے؟

چاہئے یہ تھا کہ صوبہ بھر میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی، ریسکیو سرگرمیاں ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جاتیں، وزرا اور ایم پی ایز کو اپنے حلقوں میں رہ کر عوام کی مدد کرنے کا حکم دیا جاتا ،لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ صوبائی حکومت اس معاملے میں بیانات کی حد تک نظر آئی۔ بیانات سامنے آئے، ٹوئٹس کئے گئے لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ لوگ خود کو سنبھال رہے تھے۔پشاور جس طرح دو دن تک پانی میں ڈوبا رہا اس کی مثال نہیں ملتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بارشیں بہت زیادہ ہوئیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پشاور کا کئی دہائیوں پرانا نکاسی آب کا نظام معمولی بارش کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ جب 2010ء میں سیلاب آیا تھاتب بھی یہی مسائل تھے۔ 2015ء میں جب بارشیں ہوئیں تب بھی یہی شکایات تھیں آج بھی حالات وہی ہیں۔ یہ نظام برطانوی دور میں بچھایا گیا تھا ، تب سے اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی۔ شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے لیکن نکاسی کی نالیاں وہی ہیں۔ نئی کالونیاں بنیں لیکن ان کے لیے کوئی سوچا سمجھا نظام نہیں بنایا گیا نتیجہ یہ کہ معمولی بارش میں بھی پشاور کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ کئی بار نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا وعدہ کی گیا لیکن   ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاسکے۔ معاملات بیوروکریسی پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں اور بیوروکریسی اپنی رفتار سے چلتی ہے۔

حکومت تو عوام کی منتخب نمائندہ ہوتی ہے، اسے خود آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی توجہ اس وقت دو مختلف محاذوں پر بٹی ہوئی ہے۔ ایک محاذ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا ہے جس پر پارٹی کا فوکس ہے۔ دوسرا محاذ پارٹی کے اندرونی اختلافات کا خاتمہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا خود اس مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔مراد سعید کی نااہلی سے خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر جس قسم کے اختلافات سامنے آئے اس نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی مشکلات اور بھی بڑھا دیں۔ تاہم بورڈ میٹنگ کے بعد قرعہ پارٹی کے دیرینہ کارکن عرفان سلیم کے نام نکلا۔پارٹی اختلافات کے ماحول میں عوامی مسائل پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے لیکن کیا یہ عذر قابلِ قبول ہے؟ کیا عوام کی جانیں اور گھر ان جھگڑوں کی نذر کئے جاسکتے ہیں؟

 ادھر جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان بھی تین دن تک پشاور میں براجمان رہے اور پارٹی کی شوریٰ کی صدارت کی۔ ان کا بھی لگتا ہے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ پارٹی سے  طویل مشاورت کے بعد ان کی جانب سے12اپریل کو مردان میں اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیاں عوام کی مشکلات بڑھارہی ہیں۔ اس حوالے سے اضلاع کی سطح پر احتجاج کااعلان بھی کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی کا وفاقی حکومت کے  خلاف مؤقف تقریباً یکساں ہے لیکن دونوں جماعتیں متعدد بار مذاکرات کے باوجود ایک پیج پر نہیں آسکیں۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنما جے یوآئی کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلانا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اس کی بڑی وجہ دونوں جماعتوں میں اعتماد کا فقدان ہے۔ ایک بڑی وجہ صوبہ خیبر پختونخوا بھی ہے جہاں دونوں جماعتوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔جے یوآئی سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی جیتی نہیں بلکہ است جتوایا گیا۔جے یوآئی کو اس صوبے میں سب سے زیادہ سیاسی نقصان بھی پی ٹی آئی سے ہوا۔ایسے میں دونوں جماعتوں کا اتحاد ہوتا مشکل نظر آتا ہے۔ اگر دونوں جماعتیں کسی  ایک نکتے پر متفق ہوجاتیں تو وفاق کی مشکلات بہت حد تک بڑھ جاتیں۔یہ وفاق کی خوش قسمتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا جبکہ یہ  پی ٹی آئی کی خوش نصیبی ہے کہ اسے صوبے میں ایک کمزور اپوزیشن ملی جو اسمبلی فلور پرتو کیا سڑکوں پر بھی اس حکومت کو  ٹف ٹائم دینے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ اگر ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں یا وہ کھل کر نہیں کھیل رہے تو اس کا سبب اپوزیشن نہیں بلکہ ان کی اپنی جماعت ہے جس میں متعدد رہنما اب تک نوجوان وزیر اعلیٰ کو  قبول کرنے کو تیار نہیں۔

 آنے والے دو سے تین ماہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بھی اہم ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح ان سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔کابینہ کی عدم تشکیل یہی بتارہی ہے کہ اس حوالے سے ان پر دباؤ ہے۔ کہا جارہا تھاکہ عیدالفطر کے بعد کابینہ میں توسیع کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔پارٹی کے اندر مختلف مضبوط گروپ اپنے چہیتوں کو وزیر بنانا چاہتے ہیں ،اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف خبریں زیر گردش ہیں۔ یہ وہ خبریں یا دعوے ہیں جو کسی اور نے نہیں بلکہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے کئے جارہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ ان میں کتنی صداقت ہے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس معاملے پر اندرونی اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں اور سہیل آفریدی ایسی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی فورس کی رہائی بھی ان کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ اعلان تو کر دیا گیا، رجسٹریشن بھی ہوگئی ،آگے کیا کرنا ہے سبھی مخمصے کا شکار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام آباد مذاکرات

دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے‘ جب یہ بات کہی جاتی تھی تو کچھ حلقے اس پر تنقید کرتے یا اسے مذاق سمجھتے تھے، مگر آج عالمی سطح پر اس امر کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ اہم فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔

جنگ بندی میں کردار، دنیا پاکستان کی معترف

امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے وہیں پاکستان بھر میں بھی اس حوالہ سے خوشی کی لہر دو ڑ گئی ہے ۔

مہنگائی، شہری مسائل اور حکومتی دعوے

چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی۔

بلوچستان میں سیلاب اورمعاشی دباؤ

بلوچستان میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور سیلابی صورتحال میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 16 افراد جان بحق اور 161مکان مسمار ہو گئے۔

آزاد جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 10 سے 25 جولائی کے درمیان متوقع ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے بیشتر ممکنہ امیدوار اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں عید الفطر کے بعد ہی غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔

گھریلو بجٹ کیسے بنائیں؟

آج کے دور میں مہنگائی، محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے گھریلو بجٹ کو سنبھالنا ایک چیلنج بنا دیا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی خواتین جو گھریلو نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف خرچ کریں بلکہ سمجھداری سے خرچ کریں۔