13ویں آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج، سیاسی سرگرمیاں تیز

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی متنازع 13 ویں آئینی ترمیم کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس آئینی ترمیم کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے جو 21 اپریل کو اس کی سماعت کرے گا۔

 آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے 13 ویں آئینی ترمیم کے خلاف رٹ کے ساتھ عدالت میں پہلے سے موجود اور زیر سماعت ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل ملک حنیف کی رٹ پٹیشن کو بھی اس کا حصہ بنا دیا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے اراکین کے ووٹ کو صدر آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب کیلئے بحال کرنے کی استدعا کی تھی۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئین میں 13 ویں ترمیم کے خلاف عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر و صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے وفاقی اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کو فریق بناتے ہوئے اس آئینی ترمیم کو ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ 13ویں آئینی ترمیم وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر اور اصل مسودے سے ہٹ کر منظور کی گئی۔ عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ اس آئینی ترمیم کو ختم کیا جائے۔ اس متنازع ترمیم سے آزاد جموں و کشمیر اور وفاق کے درمیان فاصلے بڑھ گئے جو قومی یکجہتی کے لئے بھی خطرہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئین میں 13 ویں ترمیم 2018ء میں اُس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے منظور کی تھی۔

اُس وقت آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ( ن) کے راجا فاروق حیدر وزیر اعظم تھے۔ راجہ فاروق حیدر کے اس عمل کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لا تعلقی کا اظہار کیاہے۔ سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے بھی متعدد مرتبہ 13 ویں آئینی ترمیم کو راجہ فاروق حیدر کی سوچ قرار دیا تھا۔ اسی آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے انتظامی، مالیاتی اور قانون سازی کے اختیارات کو ختم کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں کشمیر کونسل کے فنڈز کو وفاق میں برسراقتدار جماعت آزاد جموں کشمیر میں الیکشن جیتنے کیلئے اپنی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی لوگوں میں بھی استعمال کرتی تھی۔ تاہم آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں 2018ء کے بعد بھی آزاد جموں و کشمیر کونسل کے اربوں روپے درست انداز میں استعمال نہیں کر سکیں۔ مالیاتی شفافیت پر بھی سوال اُٹھتے رہے اوراربوں روپے آنے کے باوجود آٹھ سالوں میں آزاد جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کے بعدپیپلزپارٹی نے بھی انتخابی مہم تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوموار کو کراچی میں پیپلز پارٹی آزادجموں و کشمیر سیاسی امور کی نگران فریال تالپور کی زیر صدارت تنظیمی اجلاس ہوا جس میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی انتخابی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈ ریشن آزاد جموں و کشمیر شاخ کے تنظیمی عہدیداروں کو ایک سال کی توسیع دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی امور کی سربراہ فریال تالپور نے پارٹی کی آزاد کشمیر شاخ کی سینئر قیادت کو ہدایت کی کہ وہ پیپلز پارٹی آزادجموں و کشمیر کی تمام ذیلی تنظیموں کو مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی جماعتی قیادت اورکارکنان نے اتفاق و اتحاد کے ساتھ پارٹی کو آئندہ انتخابات میں کامیابی دلوانے کیلئے محنت سے کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں’’ آزاد جموں و کشمیر ترقی کرے گا اور آگے بڑھے گا‘‘ کا سلوگن لے کر میدان میں اُتریں گے اور اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اگلے پانچ سال بھی آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی خدمت جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات میں خواتین ووٹرز سے زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے کیلئے جماعت کی خواتین ونگ کو مضبوط کیا جائے اور جماعت کے کارکنان کو پابند کیا جائے کہ وہ پیپلزپارٹی کا منشور اور قیادت کا ویژن خواتین تک پہنچائیں اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے اجلاس میں آزادجموں و کشمیر کے قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر،وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور،پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یٰسین، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس ،چوہدری محمد ریاض،موسٹ سینئر آزاد جموں و کشمیر وزیر میاں عبدالوحید،وزیر جنگلات آزاد کشمیر سردار جاوید ایوب اور ڈائر یکٹر جنرل پولیٹیکل افیئرز عامر ذیشان جرال نے شرکت کی۔

ادھر وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے حویلی کے علاوہ دار الحکومت مظفرآباد سے بھی الیکشن لڑنے کیلئے مظفرآباد میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے ساتھ مشاور ت شروع کر دی ہے اور مظفرآباد شہر کی نشست سے انہیں پیپلزپارٹی میدان میں اتار سکتی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور دارالحکومت کے بیشتر ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی بھی لے رہے ہیں جس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ شاید وہ مظفرآباد سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، جس کا صرف اب اعلان ہونا باقی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام آباد مذاکرات نے تاریخ رقم کر دی

پوری دنیا امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان ہی اس وقت وہ ملک ہے جو اس خطرناک ترین جنگ کو رکوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مہنگائی زدہ عوام کو کون جوابدہ ہے؟

بیرونی محاذ خصوصاً سفارتی حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔

کراچی: بحران در بحران

سیاست کا مطلب بات چیت، دلیل اور مفاہمت ہے، اور سنا تو یہی تھا کہ سیاستدانوں کی قوتِ برداشت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور یہی قوت تنقید برداشت کرنے اور غلطیاں درست کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

مردان جلسہ، وزیر اعلیٰ کا امتحان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 19پریل کو مردان میں جلسے کا اعلان کیاگیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا جس کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہیں ۔

بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل دیا۔

چھوٹا کاروبار، بڑی کامیابی

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ بزنس آئیڈیاز