بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل دیا۔

 جمعیت علمائے اسلام کی رکن شاہدہ رؤف کا کہنا تھا کہ حکومت بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے جو کسی بھی حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔نیشنل پارٹی کے رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ بلوچستان جیسے گیس پیدا کرنے والے صوبے کے عوام کو گیس کے بجائے پائپوں سے نکلنے والی ہواکے بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ایران سے آنے والے ایل پی جی باوزرز کی بندش پر بھی سوال اٹھایا اور اسے حکومتی نااہلی قرار دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے اصغر ترین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کو گیس لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔دوران اجلاس ایوان میں قانون سازی کا عمل بھی جاری رہا اور پانچ اہم مسودہ قوانین کی منظوری دی گئی جن میں انسداد گداگری، ٹیکنیکل ایجوکیشن، اوورسیز پاکستانیز کمیشن، سروس ٹربیونل اور یونیورسٹیز سے متعلق ترامیم کا بل شامل ہے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے اجلاس کے دوران وزراکی عدم موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سوالات کے دن متعلقہ وزراکا غیر حاضر ہونا پارلیمانی روایت کی نفی ہے۔امن و امان کی صورتحال بھی ایوان میں زیر بحث رہی۔ پارلیمانی سیکرٹری آغا عمر احمد زئی اور دیگر ارکان نے پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سبزی فروشوں کے قتل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کی شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر بھی ایوان میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے نشاندہی کی گئی۔ سکولوں میں درسی کتب کی عدم فراہمی، اساتذہ کی کم تنخواہیں اور جعلی ادویات کی فروخت جیسے مسائل بھی صوبائی قانون سازوں کہ توجہ کا مرکز رہے۔

 جہاں ایک طرف عوامی مشکلات کا انبار ہے تو دوسری جانب حکومتی دعوے اور عملی اقدامات میں واضح فرق نظر آتا ہے۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوچستان کو اس وقت سنجیدہ، مربوط اور عوام دوست حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں رکاوٹوں نے توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے۔پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی سے نڈھال عوام کے لیے موجودہ صورتحال مزید مشکلات کا باعث بن چکی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور قلت نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیامہنگی ہو گئی ہیں۔ آٹا، چینی، سبزیاں اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر دیہاڑی دار طبقہ اور کم آمدنی والے افراد اس بوجھ تلے بری طرح دب چکے ہیں۔ایسے حالات میں تاجر برادری کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے باعث پریشانی کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست ملکی معیشت پر اثر ڈالا ہے۔ توانائی کی قلت صنعتی سرگرمیوں کو سست کر دیتی ہے جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ زرعی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔پیداواری لاگت بڑھنے سے کسان مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگرچہ یہ بحران عالمی نوعیت کا ہے مگر اس کے اثرات مقامی سطح پر عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

اگر بروقت اور مؤ ثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ صوبہ بلوچستان بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے مگر ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ٹھوس اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کے بیانات اس پس منظر میں اہم ہیں جن میں انہوں نے بحری معیشت اور اعلیٰ تعلیم کو ترقی کی بنیاد قرار دیا۔بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی کو تین خطوں کے درمیان اقتصادی مرکز بنانے کا تصور یقیناً بڑی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تو یہ علاقہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی پل بن سکتا ہے۔ گورنر بلوچستان کی جانب سے پاک بحریہ اور جامعات کے اشتراک سے تحقیق پر مبنی حکمت عملی کی بات ایک مثبت پیش رفت ہے تاہم ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ کہیں یہ منصوبے بھی صرف بیانات تک محدود نہ رہیں۔ بحری معیشت کا فروغ بلوچستان میں بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل کے حل کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سرمایہ کاری اور شفاف پالیسی ضروری ہے۔ اسلام آباد میں جامعہ بلوچستان کے کیمپس کے قیام کی تجویز بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو بلوچستان کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا۔ وفاقی اداروں خصوصاً ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ رابطے اس منصوبے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔تاہم صوبے کے اندر تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جامعہ بلوچستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اس لیے نئے منصوبوں کے ساتھ ساتھ موجودہ اداروں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔گورنر بلوچستان کی جانب سے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بات قابل تحسین ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ بلوچستان بدستور بنیادی سہولیات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ان مسائل کا حل صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات میں مضمر ہے۔بحری معیشت اور تعلیمی ترقی کے منصوبے بلوچستان کے لیے امید کی کرن ہیں لیکن اصل کامیابی ان پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔ اگر حکومت ان منصوبوں پر کام کرے تو بلوچستان واقعی ترقی کرسکتا ہے بصورت دیگر یہ اعلانات بھی ماضی کی طرح صرف وعدوں تک محدود رہیں گے۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات سردار یار محمد رند اور نوابزادہ خالد مگسی کی ملاقات کو صوبے کے سیاسی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق سردار یار محمد رند جو کچھ عرصہ سے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے جلد اپنے سیاسی مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے جارہے ہیں اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق پیپلز پارٹی مستقبل میں بھی بلوچستان کو اپنا مضبوط قلعہ بنانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام آباد مذاکرات نے تاریخ رقم کر دی

پوری دنیا امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان ہی اس وقت وہ ملک ہے جو اس خطرناک ترین جنگ کو رکوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مہنگائی زدہ عوام کو کون جوابدہ ہے؟

بیرونی محاذ خصوصاً سفارتی حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔

کراچی: بحران در بحران

سیاست کا مطلب بات چیت، دلیل اور مفاہمت ہے، اور سنا تو یہی تھا کہ سیاستدانوں کی قوتِ برداشت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور یہی قوت تنقید برداشت کرنے اور غلطیاں درست کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

مردان جلسہ، وزیر اعلیٰ کا امتحان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 19پریل کو مردان میں جلسے کا اعلان کیاگیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا جس کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہیں ۔

13ویں آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج، سیاسی سرگرمیاں تیز

آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی متنازع 13 ویں آئینی ترمیم کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس آئینی ترمیم کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے جو 21 اپریل کو اس کی سماعت کرے گا۔

چھوٹا کاروبار، بڑی کامیابی

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ بزنس آئیڈیاز