مردان جلسہ، وزیر اعلیٰ کا امتحان

تحریر : عابد حمید


پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 19پریل کو مردان میں جلسے کا اعلان کیاگیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا جس کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہیں ۔

پارٹی کے رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کو متحرک کردیاگیا ہے،خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اس حوالے سے بیانات آئے ہیں جن کا مقصد کارکنوں کو یہ بتانا ہے کہ پارٹی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کچھ نہ کچھ کررہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی متعدد جلسے اور مظاہرے کئے ،اسلام آباد پر دھاوے بولے لیکن اس سے کیا حاصل ہوا جو اَب خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے سے حاصل ہوگا؟یہ وہ سوال ہے جو پی ٹی آئی کے کارکن اپنے رہنماؤں سے پوچھ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی یہی سوال اٹھایاجارہاہے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پارٹی کی مرکزی قیادت پر تنقید بھی کی جارہی ہے ۔پارٹی کارکن یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں تیسری بار پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہی اسی بیانیے پر ہے۔

مردان جلسے کے حوالے سے پارٹی کارکنوں میں یہی تاثر پایاجارہا ہے کہ انہیں ایک بارپھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایاجا رہا ہے۔ یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حدود میں جلسہ کرنے یا پنجاب سے ملانے والی سرحدیں بند کرنے سے وفاقی حکومت پر کیونکر دباؤ پڑے گا؟جس قسم کی تنقید اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر کی جاتی تھی اب اسی قسم کی تنقید وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر کی جارہی ہے ۔کارکنوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔علی امین گنڈاپور ایسی تنقید کی پروا نہیں کرتے تھے لیکن سہیل آفریدی کاپارٹی میں کوئی مضبوط گروپ نہیں، اگرچہ کچھ وزرا اور ارکانِ اسمبلی ان کے ساتھ ہیں لیکن یہ اس وقت تک ہے جب تک وہ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں بصورت دیگر پارٹی کے اندر موجود مضبوط گروپ انہیں کسی خاطر میں لانے والے نہیں ۔ اس سے قبل پرویزخٹک اور محمود خان اگرچہ خود پارٹی چھوڑ کر چلے گئے لیکن علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹایاگیا،وزارت اعلیٰ تو چلی گئی لیکن پارٹی کے اندر اُن کا گروپ بدستور مضبوط ہے ۔

دیکھا جائے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ابھی بھی سیکھنے کے مراحل سے گزررہے ہیں۔ پارٹی پر اُن کی گرفت مضبوط نہیں اور نہ ہی پارٹی قیادت انہیں علی امین گنڈاپور کی طرح اب یہ طاقت دینے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ بیوروکریسی پر بھی اُن کی گرفت کمزور نظرآرہی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومتی معاملات روز بروز الجھتے نظرآرہے ہیں ۔کبھی بینک آف خیبرکے بورڈ آف گورنرز میں ایم این اے شاہد خٹک کو شامل کرنے کا معاملہ اٹھتا ہے تو کبھی تمام مالی معاملات صوبائی محکمہ خزانہ کو سونپنے کا۔نت نئے مبینہ سکینڈل سامنے آرہے ہیں، بیوروکریسی کی من مانیاں جاری ہیں اوروزرا اپنے محکموں سے غافل نظرآرہے ہیں۔ ابھی تک کوئی بھی وزیرقابل ِذکر کارکردگی نہیں دکھاسکا ۔کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا،بجٹ آرہا ہے اس کی تیاریاں جاری ہیں لیکن موجودہ حالات دیکھ کر یہی کہا جاسکتاہے کہ اس بجٹ میں بھی عوام کے لیے شاید کچھ نہیں ہوگا۔یوں لگ رہاہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے اردگرد موجود لوگوں کی وجہ سے مجبور ہیں ۔متعدد فیصلے اسی دباؤ میں کئے گئے ہیں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی تنقید بھی انہی پر کی جارہی ہے ۔یہ حکومتی اور پارٹی معاملات پر ان کی گرفت کی کمزوری کی علامت ہے کہ وہ ابھی تک اپنی کابینہ میں توسیع بھی نہیں کرسکے۔

اس صورتحال میں19 اپریل کو مردان جلسہ پارٹی سے زیادہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا امتحان ہوگا ۔طویل عرصے بعد مردان میں ہونے والے اس جلسے کوتاریخ ساز جلسہ بنا کر ہی وہ اپنے ناقدین کی نظروں میں سرخرو ہوسکتے ہیں بلکہ کچھ مزید وقت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ حالیہ چند واقعات ،جن میں پہلے بانی پی ٹی آئی رضاکاروں کی بھرتی کا اعلان، اسلام آباد جلسہ اور پھر اس جلسے کی منسوخی سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کی خلیج مزید گہری ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت ایک پیج پر نہیں ،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور پی ٹی آئی کی قیادت بھی ایک پیج پر نظرنہیں آرہی ،ان کے اختلافی بیانات کی خبریں وقتاً فوقتاً میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔یہ تمام معاملات الجھے ہوئے ہیں اور اس وقت پی ٹی آئی کی اندر کوئی ایسا رہنما نظرنہیں آرہا جو اِن معاملات کو سلجھانے میں ممد ومعاون ثابت ہو۔پہلے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیاگیا پھر اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کیاگیا کہ موجودہ حالات میں یہ درست فیصلہ نہ ہوگا،یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی رضاکار تحریک بھی پنپتی نظر نہیں آرہی ۔پشاور کے بعددیگراضلاع میں ابھی تک رضاکاروں کی رجسٹریشن شروع نہیں کی جاسکی ، امید کی جارہی ہے کہ 19اپریل کے جلسے کے بعد یہ رجسٹریشن مہم دیگراضلاع میں شروع کی جائے گی ۔بظاہر یہ تمام عمل سست روی کا شکار نظرآرہا ہے اور اس کی بڑی وجہ یکسوئی کا فقدان ہے ۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخوا میں ایک بارپھر متحرک ہوگئے ہیں ۔انہوں نے گزشتہ ہفتے مردان میں ایک بڑا جلسہ کیا جس میں انہوں نے وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا فضل الرحمان نے کراچی اور پھر بلوچستان میں بھی جلسوں کا اعلان کیا ہے۔اس وقت خیبرپختونخوامیں یہی دو سیاسی جماعتیں متحرک ہیں۔مستقبل کے منظرنامے کے حوالے سے بات کی جائے تو آئندہ عام انتخابات میں بھی یہی دو جماعتیں مد مقابل نظرآتی ہیں۔ پی ٹی آئی کا مقابلہ یقینی طورپر آئندہ انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام سے ہوگاکیونکہ اس صوبے میں مسلم لیگ (ن) اور اے این پی سیاسی طورپر اپنی حیثیت کھوبیٹھی ہیں ۔اے این پی پشاور میں کافی مجبور اور لاچار نظرآرہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور کے پشاورسے چلے جانے کے بعد اب اس جماعت کا کوئی بھی ایسا لیڈر یہاں موجود نہیں جو صوبائی دارالحکومت میں پارٹی کو سنبھال سکے۔ مرکزی صدر ایمل ولی سینیٹر بننے کے بعد اسلام آباد کی فضاؤں کے ہو کر ر ہ گئے ہیں اور پارٹی اس وقت آرام کے موڈ میں نظرآرہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام آباد مذاکرات نے تاریخ رقم کر دی

پوری دنیا امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان ہی اس وقت وہ ملک ہے جو اس خطرناک ترین جنگ کو رکوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مہنگائی زدہ عوام کو کون جوابدہ ہے؟

بیرونی محاذ خصوصاً سفارتی حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔

کراچی: بحران در بحران

سیاست کا مطلب بات چیت، دلیل اور مفاہمت ہے، اور سنا تو یہی تھا کہ سیاستدانوں کی قوتِ برداشت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور یہی قوت تنقید برداشت کرنے اور غلطیاں درست کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل دیا۔

13ویں آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج، سیاسی سرگرمیاں تیز

آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی متنازع 13 ویں آئینی ترمیم کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس آئینی ترمیم کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے جو 21 اپریل کو اس کی سماعت کرے گا۔

چھوٹا کاروبار، بڑی کامیابی

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ بزنس آئیڈیاز