پہیلیاں
دیکھی اک نازک سی بیٹی،باندھ کے اک دھاگے کی پیٹی
گھر سے چلی دامن لہراتی
گرتی پڑتی ، جھٹکے کھاتی
(پتنگ)
کچھ لمبا ، کچھ گول مٹول
لیکن اس کے اندر خول
خوب چھڑی سے اس کو پیٹو
اور پھر سن لو اس کے بول
(ڈھول)
گز بھر کی پانی کی دھار
اس میں ہیں وہ کئی ہزار
(قطرے)
ایک جگہ پر چکر کھائے
وہ نہ آگے پیچھے جائے
اس کا چلنا سب کو بھائے
جیسی چاہو چال دکھائے
(بجلی کا پنکھا)
سر ہے چپٹا منہ نوکیلا
بگڑے کام سنوارے
جو پکڑے وہ ہاتھ میں لے کر
سر پر چوٹیں مارے
(کیل)