پسینے پر پسینہ آ رہا ہے

تحریر : روزنامہ دنیا


پسینے پر پسینہ آ رہا ہے،بہت گرمی ہے جی گھبرا رہا ہے

تپ اٹھا ہے بدن گرمی سے اتنا

کلیجا آج منہ کو آ رہا ہے

میں آیا ہوں نہا کر آگ میں آج

یہ جھونکا لْو کا کہتا آ رہا ہے

لٹک آئی ہیں پتوں کی زبانیں

درخت ایک ایک بس مرجھا رہا ہے

نہیں بجھتی ہے شربت سے بھی کیوں پیاس؟

ہمارا دل یہ کہتا جا رہا ہے

لیے ہاتھوں میں پنکھے سب ہیں بیٹھے

ہر ایک پنکھے کو جھلتا جا رہا ہے

(راجہ مہدی علی خاں)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

عندلیب شادانی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت

57ویں برسی:وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق، مورخ، مدیر اور معلم کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئے: شادانی صاحب نے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا‘ شاعری میں ان کا رنگ کسی سے متاثر نہیں‘ ساری زندگی اپنی منزل کے وہ خود ہی رہنما رہے

حلقہ ارباب ذوق کے افسانے

ترقی پسند ادبی تحریک کو شروع ہوئے ابھی تین سال ہی ہوئے تھے کہ بزم ’داستان گویاں‘کے نام سے29 اپریل1939ء کو ایک نئے ادبی رجحان(جو آگے چل کرحلقہ ارباب ِذوق کے نام سے مشہور ہوا) کا وجود عمل میں آیا۔

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔