بلوچستان: دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن مرحلے میں
بلوچستان میں دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال حکومت کے لیے امتحان بنی ہوئی ہے، دوسری جانب صوبے کی سیاسی فضا میں بھی اہم تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
بلوچستان کی سیاست میں کافی عرصے سے زیر گردش ڈھائی، ڈھائی سالہ اقتدار کے فارمولے کی باتیں عملاً دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حکومتی حلقوں اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس فارمولے کی اب کوئی عملی حیثیت نہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اسی دوران صوبائی حکومت میں اہم انتظامی تبدیلی بھی سامنے آئی جب صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کو کابینہ سے برطرف کر دیا گیا۔آئندہ چند روز میں صوبائی کابینہ میں مزید ردوبدل متوقع ہے۔ مسلم لیگ (ن ) کے صوبائی صدر اورگورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کہتے ہیں کہ مخلوط حکومتوں میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات فطری امر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ڈھائی سالہ اقتدار کے فارمولے کی کوئی اہمیت نہیں رہی اور موجودہ حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اقتدار کی سیاست سے بالاتر ہو کر صوبے کے مفاد اور امن کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔گورنر نے کہا کہ بلوچستان کو دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا ہے اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو صوبے کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔دوسری جانب بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں حالیہ دنوں کئی کا میابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ضلع زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف کی مشترکہ کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
دہشت گردوں کے حملے میں بلوچستان پولیس کے نو افسران اور اہلکار جام شہادت نوش کر گئے جن میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کاوس، اے ٹی ایف انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں جبکہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پھنسے ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ لاپتہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔سیکورٹی فورسز کی مؤ ثر کارروائی کے دوران 15دہشت گرد مارے گئے۔واقعہ کے بعد وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی بھی زیارت پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔کوئٹہ سے روانگی سے قبل دنیا نیوز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں بیٹھ کر اپنے عوام کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔وہ بذریعہ سڑک، بغیر بلٹ پروف گاڑی کے زیارت گئے۔ زیارت میں وزیراعلیٰ نے امن وامان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی اور محکمہ داخلہ کو ہدایات جاری کیں کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے۔ وزیراعلیٰ نے غفلت برتنے پر ایس پی زیارت کو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی زیارت کراس پر دھرنے کے شرکا کے پاس بھی گئے جہاں انہوں نے خطاب کے دوران یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ وزیر اعلیٰ کی درخواست پر دھرنے کے شرکا نے دھرنا ختم کرنے اعلان کیا۔زیارت میں وزیراعلیٰ کو آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے مانگی ڈیم واقعے، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن، مجموعی سیکورٹی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری آپریشن ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ریاست دشمن عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا کوئی موقع نہ دیا جائے اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں تیز اور مؤثر بنائیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی، جہاں بھی کوئی بلوچستانی دہشت گردی یا کسی بھی مشکل کا شکار ہوگا وہ خود وہاں پہنچیں گے کیونکہ عوام کے دکھ درد میں شریک ہونا صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور ریاستی ذمہ داری بھی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں اور پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر سپوتوں نے آخری سانس تک جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت بلوچستان نے شہداپیکیج کو بہتر بنایا ہے اور شہداکے بچوں کی تعلیم، کفالت، فلاح و بہبود اور روشن مستقبل کی مکمل ذمہ داری ریاست اٹھائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداکے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔
ہنہ اوڑک واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے بتایا کہ رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے ہنہ اوڑک کے محب وطن لوگوں پر حملہ کیا علاقہ مکینوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سیکورٹی فورسز کا دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران دواے ٹی ایف اہلکار زخمی جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے۔ ہنہ اوڑک کوجب تک کلیئر کیا جاتا آپریشن جاری رہے گاعوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کا کام ہے دہشت گرد چاہتے ہیں کہ عوام ہنہ اوڑک چھوڑ جائیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت اسمبلی کے اندر موجود اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اسمبلی سے باہر بیٹھی تمام سیاسی جماعتوں اور قوم پرست قیادت کو اعتماد میں لے۔ان کی آراء اور تجاویز سنے اور صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے۔ بلوچستان کے مسائل کا دیرپا حل سیاسی مکالمے، باہمی اعتماد اور وسیع تر اتفاق رائے میں ہے۔ اگر حکومت اختلاف رائے کو مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلے تو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مزید تقویت ملے گی بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا اور صوبے میں سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور پائیدار امن کی راہ مزید ہموار ہو سکے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments