کشمیر ہاؤس سے مظفر آبادتک

تحریر : محمد اسلم میر


وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی کشمیر ہاؤس اسلام آباد سے اپنی مصروفیات شروع کر دی ہیں۔

 یہ ایک ایسی روایت ہے جو ماضی میں بھی بعض وزرائے اعظم کے ادوار میں دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں حکمرانوں کی عوام سے قربت اور ان کے مسائل سے براہ راست آگاہی کو ہمیشہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال قابل غور ہے کہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کی زیادہ تر سرگرمیاں مظفرآباد میں ہوں تو اس سے عوامی رابطے اور حکومتی نگرانی کا عمل مؤثر نہیں ہوسکتا؟گزشتہ چند روز کے دوران وزیراعظم افتخار گیلانی نے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں مختلف محکموں کے افسران سے بریفنگز لیں۔ بلاشبہ ایسی ملاقاتیں جہاں بھی ہوں حکومتی امور کے لیے ضروری ہیں تاہم یہی اجلاس مظفرآباد میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عمارت میں بھی منعقد کیے جاسکتے ہیں۔ اس صورت میں متعلقہ افسران اور دیگر اہلکاروں کو بھی اسلام آباد آنے جانے کی اضافی مشقت اور سرکاری اخراجات سے بچایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کی مظفرآباد میں موجودگی سے نہ صرف حکومتی سرگرمیوں کو مزید نمایاں کیا جاسکتا ہے بلکہ سرکاری محکموں کے افسران اور اہلکاروں کے لیے بھی یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ حکومت اپنے انتظامی مرکز میں موجود ہے اور امور کی براہ راست نگرانی کررہی ہے۔ اس کے برعکس دارالحکومت میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کی نسبتاً کم سرگرمی بھی ایک ایسے وقت میں توجہ کا باعث بنتی ہے جب حکومت نے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔

ایک اور معاملہ حال ہی میں سرکاری، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں میں نئی تقرریوں اور تبادلوں پر عائد پابندی سے متعلق ہے۔ 8 ستمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی تاحکم ثانی نافذ رہے گی تاہم ناگزیر صورت میں متعلقہ محکمے حکومت سے نرمی حاصل کرسکیں گے۔انتظامی تسلسل اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایسی پابندیوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ پہلو بھی پیش نظر رکھا جاسکتا ہے کہ جہاں کسی ادارے میں کسی عہدے پر تقرری ناگزیر ہو وہاں بروقت فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود رہے۔ اس سے ایک طرف انتظامی ضروریات پوری ہوں گی اور دوسری جانب ملازمت کے منتظر نوجوانوں کی امید بھی برقرار رہے گی۔ ماضی میں بعض وزرا مبینہ طور پر تبادلوں اور تعیناتیوں کے نقد پیسے بھی وصول کرتے تھے جس کی وجہ سے سرکاری اداروں میں نہ صرف میرٹ پامال ہوابلکہ تبادلوں کے حوالے سے بنائی گئی سرکاری پالیسی کی بھی دھجیاں اڑائی گئیں۔ موجودہ حکومت کو سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی پر عمل کرنا چائے تا کہ افسر اور ان کا ماتحت عملہ ایک مقررہ مدت کے دوران اپنے اپنے محکموں کی تسلی بخش کارکردگی کو یقینی بنا سکیں۔ 

موجودہ حکومت نے پنجاب کے بعض انتظامی تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو اپنی جگہ ایک مثبت سوچ ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے اپنے انتظامی تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا،مثلاً سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک نظام کا معاملہ اب بھی توجہ کا متقاضی دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بائیومیٹرک حاضری کے نظام کے نفاذ کی کوششیں کی گئی تھیں تاہم کئی مقامات پر یہ نظام تسلسل کے ساتھ فعال نہیں رہ سکا۔اسی طرح سرکاری ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق اور دیگر انتظامی امور میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی کے لیے پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کی صلاحیت، دفاتر میں حاضری اور انتظامی نگرانی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔حکومت اگر ان معاملات پر ابتدا ہی سے توجہ دے تو اس کے اصلاحاتی پروگرام کے نتائج زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین کی مظفرآباد میں موجودگی مثبت انتظامی اقدام ثابت ہوسکتی ہے۔بالخصوص نئے حکومتی دور کے آغاز پر دارالحکومت میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو زیادہ فعال رکھنا، افسران سے بریفنگز وہیں لینا اور انتظامی معاملات کی براہ راست نگرانی کرنا حکومت کی جانب سے عوام کے قریب رہنے اور اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر مؤثر عملدرآمد کے عزم کا واضح اظہار ہوسکتا ہے۔

موجودہ حکومت نے اپنے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت پہلا نجکاری نوعیت کا منصوبہ متعارف کراتے ہوئے ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر بھر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نجی کمپنیوں سے خدمات کے حصول کے لیے ایک ہفتے کے اندر اخبارات کو اشتہارات جاری کیے جائیں گے جبکہ حکومت اور سرکاری ادارے صفائی کے بجائے ریگولیٹر کا کردار ادا کریں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے ادارے آئندہ ریگولیٹر کی حیثیت سے نگرانی کریں گے جبکہ صفائی کی خدمات کی فراہمی کے لیے نجی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے۔ہر ضلع کی سطح پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس سلسلے میں معاہدوں کے بعد جہاں مشینری، گاڑیوں یا افرادی قوت کی ضرورت ہوگی، متعلقہ نجی شعبہ یہ سہولیات فراہم کرے گا۔ دیہی علاقوں کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔ آزاد کشمیر میں گاؤں کی سطح پر گھروں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے لیے منتخب بلدیاتی نمائندگان، یوتھ کونسلرز اور خواتین کونسلرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا جس سے صفائی کے نظام کو نچلی سطح تک مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے صوبوں کی بحث عالمی سطح پر پہنچ گئی

تیزی سے بڑھتی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات :، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں 16 سے 30 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کئی :ممالک اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کر چکے ہیں:ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی :ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں

تقویٰ انسان کی اصل پہچان

’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘(البقرہ) ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا‘‘(سورۃ الانفال)

تحفظ حرمین شریفین: مقدس امانت، اجتماعی ذمہ داری

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(آل عمران:96)

اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت!

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو‘‘ ( سورۃ الحجرات) اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو بیشک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورۃ الانفال:46)

مسائل اور ان کا حل

فجر کی اذان کے بعد نوافل پڑھنا سوال: کیا نماز فجرکی جماعت سے پہلے 2سنت کے علاوہ تحیۃ المسجدکے نفل پڑھ سکتے ہیں ؟مسجدمیں ایک شخص نے فجرکی سنت سے پہلے 2رکعت تحیۃ المسجدوتحیۃ الوضوپڑھی تو ساتھ بیٹھے ایک بزرگ نے کہاکہ فجرکی اذان کے بعدنفل نہیں پڑھنے چاہئیں، آپ وضاحت فرما دیں۔ (چودھری محمد اسلم، اوکاڑہ)

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔