سیاسی تدبر وقت کی ضرورت
بلوچستان کی صورتحال حکومت اور عوام سے سنجیدگی، ذمہ داری اور دوراندیشی کا تقاضا کرتی ہے۔
ایک طرف دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف صوبے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تعلیم، روزگار، ہنر، سیاسی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں ہوتا بلکہ امن کے ساتھ تعلیم، معاشی مواقع، انصاف، سیاسی مکالمے اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کے حالات اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت اور عوام کو ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک ہی صفحے پر آنا ہوگا۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے کھڈ کوچہ اور واشک میں کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ دہشت گردی کسی ایک علاقے، جماعت یا طبقے کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کے امن، معیشت اور مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب سکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام بھی تعاون کریں۔ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ ذمہ دارانہ رابطہ برقرار رکھیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کارروائی قانون، شفافیت اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کے مطابق ہو۔
بلوچستان کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جس معاشرے کے نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم ہوں وہاں مایوسی اور بے یقینی کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم اور ہنر کو امن کی بنیادی ضرورت سمجھنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر پیش کیے گئے اعداد و شمار جن میں غیر فعال سکولوں کی بحالی، سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، نئے سکول قائم کرنے، اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اصل کامیابی اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر اس وقت حاصل ہوگی جب بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہر بچے کو مستقل، معیاری اور قابلِ رسائی تعلیم دی جائے۔ تعلیم کے ساتھ فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کو بھی تعلیمی پالیسی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
بلوچستان کی سیاسی صورتحال بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے بیانات میں اختلافات سامنے آنا جمہوری نظام کا حصہ ہے مگر اختلاف کو دشمنی اور سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما میر علی حسن زہری کی جانب سے ایک صوبائی وزیر کے اسمبلی بیان کو ذاتی رائے قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی پالیسی اور شخصی رائے کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔جمہوریت میں اختلافِ رائے بنیادی حق ہے لیکن اس حق کے استعمال کے ساتھ سیاسی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ منتخب نمائندوں کے بیانات نہ صرف ان کی ذاتی حیثیت بلکہ بعض اوقات پوری جماعت، صوبائی حکومت اور حتیٰ کہ صوبے کے مجموعی سیاسی تاثر کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے سیاسی قیادت کو چاہیے کہ حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب، حقائق کی تصدیق اور قومی و صوبائی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔بلوچستان کو آج سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے زیادہ سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔ امن، تعلیم، صحت، روزگار، تجارت، زراعت، مواصلات اور بنیادی سہولیات کے لیے اجتماعی حکمت عملی درکار ہے۔
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ اور پارلیمانی اراکین کے اجلاس میں بھی صوبے کی بدامنی، جانی نقصانات، معاشی مشکلات اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور سیاسی و ریاستی قوتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر صوبے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں۔ یہ مطالبہ موجودہ حالات میں قابلِ غور ہے کیونکہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن عوام کا تحفظ اور صوبے کا مستقبل سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔بدامنی کا سب سے بڑا نقصان صرف جانی نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات معیشت، تجارت، تعلیم اور روزمرہ زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ جب شاہراہیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے تو صرف سفر مشکل نہیں ہوتا بلکہ کاروبار، زراعت، روزگار اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے۔ کسی سڑک کی بندش دور دراز علاقے کے کسان، تاجر، طالب علم اور مریض سب کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی ریاستی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔
اسی طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی، سرکاری ملازمتوں میں میرٹ، مراعات کی تقسیم اور بدعنوانی کے الزامات بھی عوامی اعتماد سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کسی معاملے میں بے قاعدگی یا اختیارات کے غلط استعمال کا الزام سامنے آئے تو اسے سیاسی الزام تراشی کے ذریعے دبانے کے بجائے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے حقیقت عوام کے سامنے لانی چاہیے۔ میرٹ، شفافیت اور احتساب وہ اصول ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ ان حالات میں صوبائی اسمبلی کو محض سیاسی بیان بازی کا فورم بننے کے بجائے عوام کے حقیقی مسائل پر سنجیدہ، نتیجہ خیز اور پالیسی پر مبنی بحث کرنی چاہیے۔ امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار، پانی، زراعت، مواصلات، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے موضوعات اسمبلی کی ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔ منتخب نمائندوں سے عوام یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی آواز ایوان تک پہنچائیں گے اور حکومتی پالیسیوں کی مؤثر نگرانی کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کا مستقبل نہ صرف بندوق کے زور پر محفوظ ہوگا اور نہ صرف سیاسی نعروں سے بدلے گا۔ اس کے لیے امن، تعلیم، روزگار، انصاف اور عوامی اعتماد ضروری ہے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ صوبے کے مستقبل کو امید، مکالمے، تعلیم اورامن سے جوڑا جائے۔ ریاستی ادارے، حکومت، سیاسی قیادت اور عوام مشترکہ مقصد کے تحت آگے بڑھیں تو بلوچستان کے مسائل ناقابلِ حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق وقتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک ایسے بلوچستان کی تعمیر کا عزم کریں جہاں امن محفوظ ہو، سکول آباد ہوں، نوجوان ہنر مندہوں، کاروبار چلے، ادارے مضبوط ہوں اور عام شہری خود کو محفوظ، بااختیار اور باعزت محسوس کریں۔ یہی بلوچستان کے عوام اور حکومت کی مشترکہ کامیابی ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments