کیا یہ وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے؟
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کا دورہ مکمل کرلیا ہے لیکن کیایہ دورہ کامیاب رہا؟سہیل آفریدی کے ساتھ ان کے وزرا اور سوشل میڈیا ٹیم بھی تھی۔
یہ کوئی سرکاری دورہ نہیں تھا بلکہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ دوسرے صوبے میں اپنی جماعت کے کارکنوں کو متحرک کرنے گئے تھے۔ اس سٹریٹ موومنٹ کو 27ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے جوڑا جارہا ہے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت دیگر صوبوں میں بھی سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کیا یہ ان کی ذمہ داری ہے؟کیا اپنے صوبے کے اصل مسائل حل ہوگئے ہیں؟کیا خیبرپختونخوا میں امن آگیا ہے اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز پر حملے رک گئے ہیں؟کیا قبائلی اور جنوبی اضلاع میں جو علاقے نوگوایریابنتے جارہے ہیں وہاں مسئلے حل ہوگئے ہیں؟ان میں سے ہر سوال کا جواب نفی میں ہے۔ کیا وفاق سے این ایف سی،بجلی کی رائلٹی اوردیگربقایاجات خیبر پختونخوا کو وصول ہو گئے ہیں؟وفاق اور پنجاب کے ساتھ جو حل طلب مسائل تھے کیا وہ حل ہوگئے ہیں؟ان کا جواب بھی نفی میں ہے۔ پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس دورے سے پی ٹی آئی اور بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کیاحاصل ہوا؟
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ فی الوقت پی ٹی آئی کی کوئی واضح پالیسی نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جب 27ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیاگیا تو اس وقت پارٹی کے اندر لے دے ہوئی، کہاگیا کہ مشاورت نہیں ہوئی، جب مشاور ت شروع ہوئی تو کہاگیا کہ ابھی تک کوئی لائحہ عمل نہیں دیاگیا،لائحہ عمل بھی سوشل میڈیا پر صوبائی صدر جنید اکبر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے شکوے کی صورت میں آیا کہ پارلیمنٹیرین 50 ہزار روپے بھی دینے کو تیار نہیں۔ یہ وہ رقم ہے جس کی ادائیگی بانی پی ٹی آئی نے پارلیمنٹیرینز کیلئے لازمی قرار دی تھی۔ یہ پیسے پارٹی فنڈ میں دیئے جانے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بھائی ایم این اے فیصل امین گنڈاپور نے بھی سوشل میڈیا پر استفسارکیا کہ کس کس ایم این اے یا ایم پی اے نے یہ فنڈ دیا ہے اور کیا اس کی کوئی لسٹ موجود ہے، اگرموجود ہے تو وہ انہیں فراہم کی جائے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے پارٹی کے پاس فنڈز کی شدید کمی ہے، توکیا سہیل آفریدی کے دورہ ٔسندھ سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟
پارٹی ذرائع کا جواب نفی میں ہے جن کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ صرف سٹریٹ موومنٹ کے لیے گئے ہیں،سندھ سے بڑی تعداد میں لوگوں کا اسلام آباد پہنچنا مشکل ہے، لہٰذا اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن سندھ میں ہی احتجاج کریں گے۔ اگرسندھ سے لوگ نہیں آسکتے اور انہوں نے وہیں پر احتجاج کرنا ہے تو پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس دورے کا مقصد کیاتھا؟کیا صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ان کا یہی کام ہے؟پارٹی کی مرکزی قیادت کہاں ہے ؟یہ بات درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی، لیکن یہ ذمہ داری پارٹی کی مرکزی قیادت کی بھی ہے۔ جو صوبائی اور ضلعی تنظیمیں بنائی گئی ہیں ان کا کیا کام ہے؟پارٹی کے چیئرمین، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیدار یہ ذمہ داری لینے کے لیے کیوں تیا ر نہیں؟اس سے قبل یہ ذمہ داری علی امین گنڈاپور کو سونپی گئی تھی جب وہ وزیراعلیٰ تھے اور یہی ذمہ داری نباہتے نباہتے وہ رخصت ہوگئے۔ یہی حال اس وقت سہیل آفریدی کا ہے۔ اپنی کرسی بچانے اور پارٹی سے وفاکرنے کے لیے انہیں یہ سب کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے ان کی اصل ذمہ داری جو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ہے وہ کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ پارٹی میں ان کی مقبولیت کاگراف بھی کم ہوا ہے اور اس کی وجہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا وہ حصار ہے جو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بنایاہوا ہے۔
ایسا ہی علی امین گنڈاپور کے ساتھ کیاگیا اور اب یہی سہیل آفریدی کے ساتھ ہورہا ہے۔ ان رہنماؤں پر اس سوشل میڈیا کا خوف سوار رہتا ہے جن کے ہزاروں فالورز ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے اندر بیانیہ بنانے اور اسے توڑنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہی علی امین گنڈاپور جو پارٹی کے سوشل میڈیا کے نشانے پر رہتے تھے اب انہیں کہاجارہاہے کہ وہ اسلام آباد مارچ کو لیڈ کریں، تاہم اطلاعات کے مطابق علی امین گنڈاپور نے انکارکردیا ہے۔ جس طریقے سے انہیں حکومت سے چلتا کیاگیااس کے بعد ان کا آنامناسب بھی نہیں۔ ابھی تک انہیں منانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش بھی سامنے نہیں آئی۔
27ستمبر کی تاریخ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے آخری کال ہونہ ہومگر سہیل آفریدی کی قسمت کافیصلہ اس مارچ کے بعد ضرور ہوجائے گا۔پی ٹی آئی کاسوشل میڈیا یاتوانہیں سرپر بٹھائے گا یا ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو24 نومبرکے لانگ مارچ کے بعد علی امین گنڈاپور کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس کا اندازہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی ہے، اسی لئے وہ وفاق پر دباؤ بڑھاناچاہ رہے ہیں جس کا مقصد کچھ لواورکچھ دو کی بنیاد پر لین دین کرنا ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے اور 27ستمبرکا مارچ ملتوی کردیاجاتا ہے تو انہیں نہ صرف مزید مہلت ملے گی بلکہ ان پر موجود دباؤمیں بھی بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔قرائن بتا رہے ہیں کہ معاملے کو کسی بھی طرح نپٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوامیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس بیان پر شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے اور اُن کی اپنی جماعت بھی اس بیان کا دفاع نہیں کرپارہی۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں، ایسے میں اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے جس سے شہداکے زخموں پر نمک پاشی ہو۔اس حوالے سے اُن کی ترجمان کی وضاحت تو سامنے آچکی ہے لیکن شاید مسلم لیگ (ن) کو مستقل قریب میں اس بیان کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے۔ خیبرپختونخوا میں (ن) لیگ ویسے بھی غیر فعال ہے۔ تنظیمی سرگرمیاں مفقود ہیں،مرکزی رہنما گوشۂ عافیت میں پڑے ہوئے ہیں۔(ن) لیگ کی مرکزی قیادت کی توجہ ہی نہیں اس صوبے کی طرف، ایسے میں اس قسم کے بیانات سے اس پارٹی کو، ایسے صوبے میں جسے پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments