گرین شرٹس کی طلائی تمغے سے محرومی
20ویں ایشین گیمز 2026ء جاپان:2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغوں کے ساتھ پاکستان 10 میڈلز حاصل کر کے 29 ویں نمبر پر رہا:2022ء میں پاکستان 3میڈلز کے ساتھ 31ویں نمبر پر تھا، اس بار رینکنگ میں دو درجے بہتری آئی: ایشین گیمز میں پاکستان نے والی بال میں 1962ء کے بعد پہلی مرتبہ کوئی تمغہ حاصل کیا
جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہونے والے 20 ویں ایشین گیمز 2026ء میں پاکستان کا سفر بغیر کسی گولڈ میڈل کے اختتام پذیر ہو گیا ہے، جہاں میڈل ٹیبل پر پاکستان 2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغوں کے ساتھ مجموعی طور پر 10 میڈلز حاصل کر کے 29 ویں نمبر پر رہا۔
اگر گزشتہ ایڈیشن سے پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی رینکنگ میں دو درجے بہتری آئی ہے۔ایشین گیمز 2022ء میں پاکستان نے مجموعی طور پر 3 تمغے حاصل کیے تھے اور میڈل ٹیبل پر 31ویں پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ رواں ایشین گیمز میں قومی دستے نے زیادہ تعداد میں تمغے جیت کر اپنی پوزیشن میں دو درجے بہتری حاصل کی ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی مختلف کھیلوں میں بہتر تیاری اور عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں۔
ان 10 تمغوں کی تفصیلی تقسیم پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے سکواش میں سب سے زیادہ 3 میڈلز(1 سلور اور 2 برونز)حاصل کیے، جبکہ کرکٹ کے مقابلوں میں 2 میڈلز(1 سلور اور 1 برونز)قومی ٹیم کے نام رہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دیگر پانچ کھیلوں میں بالترتیب ایک ایک برونز میڈل جیتا، جن میں والی بال1 برونز، ہاکی1 برونز، شوٹنگ 1 برونز، مکسڈ مارشل آرٹس 1 برونزاور ای سپورٹس 1 برونز شامل ہیں۔
کھیل کے ان مقابلوں میں جہاں کچھ شعبوں میں سنسنی خیز مقابلے اور حوصلہ افزا کامیابی دیکھنے کو ملی، وہیں اتھلیٹکس سمیت کئی دیگر روایتی کھیلوں میں قومی کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی نے شائقین کو شدید افسردہ کیا۔ اگر کھیلوں کے انفرادی اور ٹیم مقابلوں کا الگ الگ تفصیلی جائزہ لیا جائے تو کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں پاکستان مینز ٹیم نے بھارت کے خلاف سخت مقابلہ کیا۔ بھارت کے دئیے گئے 212 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی اور 39 رنز پر 3 کھلاڑی آئوٹ ہو گئے، تاہم حسن نواز کی51 گیندوں پر 96 رنز کی زبردست اور جارحانہ اننگز پاکستان کو میچ میں واپس لائی۔ لیکن مطلوبہ رن ریٹ بڑھنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم 6 وکٹوں پر 192 رنز ہی بنا سکی اور 19 رنز سے شکست کے بعد سلور میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔
اس سے قبل پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز میں برونز میڈل اپنے نام کیا۔پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز 2026 ء میں بنگلہ دیش کو 31 رنز سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیاتھا، جو ایشین گیمز کی تاریخ میں 2010 ء اور 2014 ء کے گولڈ میڈلز کے بعد پاکستان کا تیسرا میڈل ہے۔
سکواش کے مقابلوں میں قومی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر تین تمغے سمیٹے۔ مینز سنگلز ایونٹ کے کانسی کے تمغے کے میچ میں نور زمان نے اپنے ہی ہم وطن محمد اشہب عرفان کو 0-3 سے شکست دے کر برونز میڈل حاصل کیا، جبکہ اشہب عرفان کو بھی چوتھی پوزیشن کا برونز میڈل ملا۔ بعد ازاں سکواش مینز ٹیم ایونٹ کے فائنل میں ملائیشیا نے پاکستان کو 0-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا، جس کے بعد پاکستان کے حصے میں سلور میڈل آیا۔
والی بال کے میدان سے بھی پاکستان کیلئے تاریخی کامیابی سامنے آئی جہاں مردوں کی والی بال ٹیم نے روایتی حریف انڈیا کو ہرا کر شائقین کے دل جیتے، تاہم سیمی فائنل میں ایران کے ہاتھوں شکست کے بعد برونز میڈل کے مقابلے میں چین کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 0-3 سے شاندار فتح حاصل کی اور کانسی کا تمغہ جیتا۔پاکستان نے اپنے سے کئی درجے بہتر رینکنگ ٹیم چائنہ کو شکست دے کر برونز میڈل اپنے نام کیا۔ پاکستان والی بال ٹیم نے 1962ء کے لمبے انتظار کے بعد 2026ء میں میڈل اپنے نام کیا۔
قومی کھیل ہاکی میں بھی پاکستان نے برونز میڈل کے معرکے میں جنوبی کوریا کو 3 کے مقابلے میں5گو ل سے شکست دی۔ مردوں کے ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گِفو پری فیکچرل گرین سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس برانز میڈل میچ میں پاکستان ہاکی ٹیم نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ میچ کے چوتھے منٹ میں سفیان خان نے پینلٹی کارنر کے ذریعے گول کر کے پاکستان کو برتر دلا دی۔ اس کے بعد عبد الرحمان نے 30ویں منٹ(پینلٹی کارنر)، رانا وحید نے 52ویں اور 54ویں منٹ (پینلٹی کارنر)اور حنان شاہد نے 59ویں منٹ میں شاندار گول کر کے ٹیم کی فتح یقینی بنائی۔ جنوبی کوریا کی جانب سے لی گانگسن (12ویں منٹ)، کم یونگ بوک(18ویں منٹ)اور ینگ جیہن(25ویں منٹ ،پینلٹی کارنر)نے گول سکور کیے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے اس شاندار کامیابی پر قومی ہاکی ٹیم، کھلاڑیوں اور آفیشلز کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم مستقبل میں بھی پاکستان کا نام روشن کرتی رہے گی۔
انفرادی اور جدید کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا۔ شوٹنگ کے 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے میں غلام مصطفی بشیر نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد 22 پوائنٹس کے ساتھ برونز میڈل حاصل کیا۔ مکسڈ مارشل آرٹس(ایم ایم اے)کے ماڈرن 60 کلوگرام زمرے میں عاصم خان نے شاندار کارکردگی سے برونز میڈل اپنے نام کیا۔ علاوہ ازیں، ای سپورٹس(پب جی موبائل)کے دو روزہ مقابلے میں بھی قومی ٹیم نے تسلسل کے ساتھ بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے برونز میڈل جیت کر پوڈیم پر جگہ بنائی۔
دوسری جانب، ان کامیابیوں کے باوجود ایشین گیمز 2026 ء میں پاکستان کی مجموعی پیشرفت کا اگر تحلیلی و تحقیقاتی جائزہ لیا جائے تو اتھلیٹکس کا شعبہ شدید مایوس کن ثابت ہوا۔ خاص طور پر عالمی اور اولمپک سطح پر نام کمانے والے نیزہ پھینکنے کے نامور کھلاڑی ارشد ندیم بھی اس بار قوم کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور میڈل سے محروم رہے۔ اتھلیٹکس، تیراکی، اور دیگر روایتی کھیلوں میں کھلاڑیوں کی ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جدید سائنسی بنیادوں پر تربیتی کیمپس، بین الاقوامی سطح کے کوچز اور بروقت فنڈنگ کی شدید کمی ہے۔ بغیر کسی گولڈ میڈل کے ایونٹ کا اختتام اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف کھلاڑیوں کی انفرادی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اسپورٹس بورڈز کو اپنے انتظامی اور تربیتی نظام میں انقلابی اصلاحات لانی ہوں گی تاکہ مستقبل میں پاکستان ایشیائی سطح پر سونے کے تمغے حاصل کر سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments