آخری اُمید
دیکھو ! علی نے دور دھواں اُگلتی فیکٹری کی طرف اُشارہ کرتے ہوئے کہا : یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں دادا ابو بتایا کرتے تھے ۔
سارہ نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دور اُفق کی طرف دیکھا ۔ کتنا عجیب ہے! اتنی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، مگر آس پاس درخت کم اور دھواں زیادہ نظر آ رہا ہے ۔
احمد نے اپنے طبی امداد والے بستے کو درست کرتے ہوئے کہا : میں نے کتاب میں پڑھا ہے کہ کئی سال پہلے لوگ بے تحاشا ایندھن جلاتے، جنگلات کاٹتے اور دریائوں کو آلودہ کرتے تھے۔ اسی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں بڑھتی گئیں ۔ چھوٹی مریم نے حیرت سے پوچھا : تو کیا اسی لیے یہ وادیاں خالی خالی لگ رہی ہیں ؟
بالکل ! علی نے نقشہ کھولتے ہوئے جواب دیا ۔ بہت سے جانور ہجرت کر گئے ، کچھ نسلیں ختم ہوگئیں اور کئی علاقوں میں پانی کی کمی پیدا ہوگئی ۔
سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا : لیکن ہم یہاں باتیں کرنے نہیں آئے۔ ہمارے بستوں میں پودوں کے بیج، پانی صاف کرنے کے آلات اور ابتدائی طبی امداد کا سامان موجود ہے ۔ احمد نے جوش سے کہا : ہم اپنی مہم کا نام ’’آخری اُمید‘ ‘ رکھیں گے ۔ ہم درخت لگائیں گے ، لوگوں کو ماحول بچانے کا پیغام دیں گے اور اس وادی کو دوبارہ سر سبز بنانے کی کوشش کریں گے ۔
مریم نے ایک ننھے پودے کو ہاتھ میں اُٹھایا اور بولی : اگر ایک درخت کٹنے سے نقصان ہوتا ہے تو ایک درخت لگانے سے بہتری بھی شروع ہوسکتی ہے ۔ چاروں دوست شہر کی طرف بڑھ گئے ۔ سورج غروب ہو رہا تھا، مگر ان کے دلوں میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments