گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!
نوح ولیمز،ذہانت اور مہارت کی حیرت انگیز مثال
ذہانت، جستجو اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے تعلق رکھنے والے کم عمر نوح ولیمز نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے اس حقیقت کو سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ محض چھ برس کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کی زبان ’’سی پلس پلس‘‘(C ) سیکھنے والے نوح نے آٹھ سال اور 307 دن کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین کمپیوٹر پروگرامر کی حیثیت سے گنیز ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنائی۔ ریاضی کے سوالات حل کرنے میں کمپیوٹر کی مدد لینے کے شوق سے شروع ہونے والا یہ سفر اب روبوٹس اور ڈرونز کی پروگرامنگ تک پھیل چکا ہے۔
نوح ولیمز 5 اکتوبر 2016ء کو پیدا ہوئے اور کم عمری ہی میں پروگرامنگ کے میدان میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے لگے۔ صرف چھ سال کی عمر میں ’’سی پلس پلس‘‘ پروگرامنگ زبان سیکھ لی اور ریاضی کے حسابات میں مدد کیلئے کمپیوٹر پروگرام تیار کرنا شروع کردیئے۔ سات سال کی عمر میں نوح نے معروف اعلیٰ ذہانت کی تنظیم ’’مینسا‘‘ (Mensa) میں شمولیت اختیار کی اور ان کا ذہانت کا اسکور 99.9فیصد رہا۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں بھی جگہ بنا لی اور دنیا کے کم عمر ترین کمپیوٹر پروگرامر کا اعزاز حاصل کیا۔ 8 اگست 2025ء کو ان کا تیار کردہ ایک پروگرام ایک آزاد ادارے کی جانب سے منظر عام پر آیا، اس وقت نوح کی عمر8 سال 307 دن تھی۔نوح اب پیشہ ورانہ سطح پر پروگرامنگ کر رہے ہیں۔ کمپیوٹرز کے علاوہ وہ روبوٹس اور ڈرونز پر بھی کام کر رہے ہیں۔
نوح کا کہنا ہے کہ ’’آپ کو صرف پروگرامنگ کی بنیادی باتیں سیکھنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد امکانات کی کوئی حد نہیں۔ آپ اپنی تخیل کو آزاد چھوڑ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔‘‘
نوح کی کامیابی اس بات کی روشن مثال ہے کہ کم عمری میں بھی علم، شوق اور مسلسل محنت انسان کو دنیا بھر میں نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments