خدمت انسانیت
ننھے بلال کی عمر بمشکل دس سال تھی۔ وہ خوبصورت پہاڑی قصبے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ بلال رحمدل بچہ تھا لیکن اسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ چھوٹا بچہ ہے اور بڑے کام کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔
ایک دن اسکول سے واپسی پر بلال نے دیکھا کہ کریم چچا، لکڑیوں کا بھاری گٹھا سر پر اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور محنت کی وجہ سے ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
بلال فوراً ان کے پاس پہنچا اور مسکرا کر بولا، یہ لکڑیاں آدھی مجھے دے دیجیے، میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور گھر تک چھوڑ آتا ہوں۔
کریم چچا نے تعجب سے اسے دیکھا اور پھر خوش ہو کر لکڑیوں کا کچھ حصہ اس کے حوالے کر دیا۔ دونوں باتیں کرتے ان کے گھر پہنچ گئے۔ گھر پہنچ کر چچا کریم نے بلال کا شکریہ ادا کیا، اسے دعا دی اور میٹھا اور رس دار سیب تحفے میں دیا۔ بلال کو یہ کرنے کے بعد خوشی اور سکون کا احساس ہوا۔
گھر جا کر اس نے اپنی امی کو پورا واقعہ سنایا اور پوچھا، امی جان! انسانوں کی خدمت کرنے سے اتنی خوشی کیوں ملتی ہے؟
امی نے بلال کو پیار سے پاس بٹھایا اور سمجھاتے ہوئے کہا: میرے پیارے بیٹے! انسانوں کی خدمت کرنا اصل میں انسانیت کا سب سے بڑا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے بہت محبت کرتا ہے جو اس کی بنائی ہوئی مخلوق کے کام آتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کیلئے یہ ضروری نہیں کہ انسان کے پاس بہت سارا پیسہ یا بڑی طاقت ہو۔ چھوٹا سا نیک کام، کسی کا بوجھ ہلکا کرنا، غمزدہ کو مسکراہٹ دینا یا پیاسے کو پانی پلانا بھی خدمتِ خلق کہلاتا ہے۔
امی کی ان باتوں نے بلال کے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ روزانہ انسانیت کی خدمت کا کوئی نہ کوئی کام ضرور کرے گا۔
اگلے ہی ہفتے شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے غریب لوگوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور ان کا سامان خراب ہو گیا۔ بلال نے اپنے تمام دوستوں کو جمع کیا۔ اس نے سب کو سمجھایا کہ ہمیں ان متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنی چاہیے۔
بلال اور اس کے دوستوں نے مل کر رحمت کلب بنایا۔ بچوں نے اپنے جیب خرچ سے پیسے جمع کیے، صاف ستھرے کپڑے اور کھلونے اکٹھے کیے اور اپنے گھروں سے کچھ اناج اور راشن بھی مانگ کر جمع کیا۔ گاؤں کے بڑوں نے جب بچوں کا یہ جذبہ دیکھا تو وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
بچوں نے سارا سامان اکٹھا کر کے ایک بڑی ٹرالی میں رکھا اور بزرگوں کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا۔ وہ لوگ بہت مایوس تھے لیکن اس سب سے ان کو بہت حوصلہ ملا۔
یہ دیکھ کر بلال کے ابو کہنے لگے کہ خدمتِ خلق کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اگر ہمارے دل میں دوسروں کی مدد کا جذبہ ہو، تو ہم چھوٹے ہو کر بھی بڑے بڑے معجزے کر سکتے ہیں۔
بلال اب بڑا ہو چکا ہے لیکن اس کی عادتیں وہی ہیں۔ وہ جان گیا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ دوسروں کے کام آنا ہے۔ انسانیت کی خدمت ہی وہ روشنی ہے جو انسان کے دل کو منور کرتی ہے اور دنیا کو خوبصورت بناتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments