ہوم انٹرنیشنل سیزن:شاہینوں کافاتحانہ آغاز
سری لنکا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان:پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جاری ٹی 20 سیریز کا دوسرا معرکہ آج ، آخری میچ منگل کو کھیلا جائے گا:پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان تاریخی سہ ملکی ون ڈے سیریز 18 سے 31 اکتوبر تک راولپنڈی اور لاہور کے میدانوں میں کھیلی جائے گی: ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے بعدنومبر میں شاہین اور آئی لینڈرزراولپنڈی اور لاہور میں دو ٹیسٹ میچز میں بھی مدمقابل ہوں گے
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا بھرپور سیزن ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے جس کے پہلے مرحلے میں سری لنکا کی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان میں موجود ہے اور راولپنڈی کے پہلے معرکے میں شاہینوں نے نئے قائد کی کپتانی میں فاتحانہ آغاز کیاہے۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جاری سیریز کا دوسرا معرکہ آج (اتوارکو) راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے جبکہ تیسرا اورسیریز کا آخری میچ بھی اسی میدان پر منگل کو کھیلا جائے گا ۔
سیریز کے پہلے میچ میں صاحبزادہ فرحان کی شاندار کپتانی اور جارحانہ اننگز کی بدولت پاکستان نے سری لنکا کے خلاف چار وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کر کے سیریز میں 0-1 کی برتر حاصل کر لی ہے۔ آج کا میچ نہ صرف سیریز کے نتیجے کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کے نئے ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ، نوجوان کھلاڑیوں کے اعتماد اور آئندہ کی حکمت عملی کا بھی بڑا امتحان ہو گا۔
پہلے میچ میں حاصل ہونے والی کامیابی نے جہاں شائقینِ کرکٹ کا جوش و خروش بڑھا دیا ہے، وہیں قومی ٹیم کے انتظامی امور اور حکمتِ عملی کے حوالے سے کئی مثبت اشارے بھی دئیے ہیں۔پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو راولپنڈی کی سازگار بیٹنگ وکٹ پر 183 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنا پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم بطور مستقل کپتان اپنے پہلے ہی میچ میں صاحبزادہ فرحان نے 53 گیندوں پر 10 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 89 رنز کی قائدانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کا ساتھ نوجوان آل رائونڈر معاذ صداقت نے بھرپور انداز میں دیا، جنہوں نے محض 21 گیندوں پر اپنی پہلی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری مکمل کی اور 29 گیندوں پر 50 رنز بنا کر میچ کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ دونوں کے درمیان 92 رنز کی دوسری وکٹ کی شراکت دار نے سری لنکن بائولرز کی تمام تر تدابیر کو ناکام بنا دیا۔ پاور پلے میں فخر زمان کے 13 گیندوں پر 21 رنز اور صاحبزادہ فرحان کی جارحیت نے پاکستان کو ابتدائی 6 اوورز میں 70 رنز تک پہنچایا، جو کہ سری لنکا کے پاور پلے کے 45 رنز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر اور فیصلہ کن ثابت ہوا۔
اگرچہ پاکستان نے میچ 18.5 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر جیت لیا، لیکن اننگز کے آخری اوورز میں ڈرامائی موڑ بھی دیکھنے کو ملے۔ درمیانی اوورز میں حسن نواز، صائم ایوب اور شاداب خان کی جلدی وکٹیں گرنے سے ایک موقع پر سری لنکا کو مقابلے میں واپسی کا موقع ملا۔ صائم ایوب 8 اور شاداب خان بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہوئے، جس سے مڈل آرڈر کی عدم استحکام ایک بار پھر سامنے آئی۔ تاہم خواجہ نافع نے 7 گیندوں پر ناٹ آئوٹ 12 رنز بنا کر میچ کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
بولنگ کے شعبے میں نسیم شاہ نے 36 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں اور ڈیبیو کرنے والے محمد عمران نے 21 رنز کے عوض 2 وکٹیں لے کر شاندار آغاز کیا۔ اس کے باوجود سری لنکا کے لاہیرو اڈارا کی 55 گیندوں پر 91 رنز کی جارحانہ اننگز یہ واضح کرتی ہے کہ ڈیتھ اوورز میں قومی بالنگ کو مزید نظم و ضبط اور لائن اینڈ لینتھ پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔سری لنکن ٹیم کیلئے یہ سیریز بحالی اور ازسرنو تشکیل کا مرحلہ ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 3-0 سے شکست اور ونندو حسرنگا کی انجری کے باعث کپتان کشال مینڈس کی قیادت میں کھیلنے والی مہمان ٹیم میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے میچ میں لاہیرو اڈارا اور کامندو مینڈس کی 60 رنز کی شراکت اور داسن شاناکا کی مختصر کاوشوں نے ٹیم کو 182 کے مجموعے تک پہنچایا، لیکن مہمان بائولرز بشمول مہیش ٹیکشنا، دشمینتھا چمیرا اور نوان تھشارہ پاکستانی ٹاپ آرڈر کی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہے۔
آج کے میچ میں سری لنکن ٹیم کی کوشش ہوگی کہ وہ درمیانی اوورز میں رنز کی رفتار پر قابو پائے اور فیلڈنگ کی غلطیوں سے بچے۔ ٹیم کی ساخت اور کپتانی کے نقطہ نظر سے یہ سیریز پاکستان کیلئے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور سلمان علی آغا کے بعد صاحبزادہ فرحان پاکستان کے چوتھے ٹی ٹوئنٹی کپتان ہیں، جنہیں 2028ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایشین گیمز میں پاکستان کی قیادت کرنے والے فرحان نے سینئرز کی عدم موجودگی کو ایک موقع میں بدلا ہے اور فخر زمان و شاداب خان جیسے سینئرز کا اعتماد حاصل کر کے ٹیم میں ایک متوازن ماحول قائم کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کا یہ تجربہ فی الوقت مثبت سمت میں جاتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں نئے اور سینئر کھلاڑیوں کا ملاپ ٹیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنا رہا ہے۔آج راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نظریں فتح حاصل کر کے سیریز اپنے نام کرنے پر ہوں گی، جبکہ سری لنکا کی ٹیم سیریز کو 1-1 سے برابر کرنے کے لیے تمام تر طاقت جھونکے گی۔ توقع ہے کہ آج بھی پنڈی کی پچ پر رنز کی برسات ہوگی اور دونوں ٹیموں کے درمیان ایک سنسنی خیز اور معیاری مقابلے کا انعقاد دیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان اگر اپنے مڈل آرڈر کو مستحکم کرنے اور بولنگ میں ڈیتھ اوورز کی خامیاں دور کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو آج ہی سیریز کا فیصلہ ہوم ٹیم کے حق میں ہو سکتا ہے۔
پی سی بی کی میزبانی میں جاری انتہائی اہم ہوم سیزن کے تناظر میں، جس میں سری لنکن ٹیم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے، شیڈول کی جانے والی تاریخی سہ ملکی ون ڈے سیریز محض ایک دو طرفہ مقابلے سے بڑھ کر روایتی و جدید ون ڈے فارمیٹ کی بحالی اور عالمی سطح پر پاکستان کی میزبان صلاحیتوں کا ایک اور شاندار مظہر ہے جو راولپنڈی اور لاہور کے میدانوں میں 18 سے 31 اکتوبر تک کھیلی جائے گی۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز 18 اکتوبر کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ سے ہوگا، جس کے بعد 20 اکتوبر کو پاکستان اور انگلینڈ اور 22 اکتوبر کو سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹیمیں راولپنڈی میں ہی مدمقابل آئیں گی، جبکہ سیریز کا دوسرا مرحلہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم منتقل ہوگا جہاں 25 اکتوبر کو پاکستان کا سامنا انگلینڈ سے، 27 اکتوبر کو سری لنکا سے ہوگا، اور 29 اکتوبر کو سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹیمیں آخری لیگ میچ میں ٹکرائیں گی تاکہ 31اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میگا فائنل کی دو بہترین ٹیموں کا فیصلہ ہو سکے۔گزشتہ برس آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے ساتھ کھیلی جانے والی سہ ملکی سیریز کی کامیابی کے بعد یہ تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کو مستقل بنیادوں پر ملک میں بحال رکھنے اور شائقین کو اعلیٰ درجے کے مقابلے فراہم کرنے کیلئے کس قدر پرعزم اور متحرک ہے۔
سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے بعد پاکستان میں دو ٹیسٹ میچز بھی کھیلے گی، یوں پاکستانی شائقین کو انٹرنیشنل کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں بھرپور بہترین کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔
قومی ٹی20 سکواڈ میں نئے شاہینوں کی شمولیت
رضا اللہ اور عمران رندھاواکا ڈیبیو
پاکستان کرکٹ میں نئے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر آمد ہمیشہ امیدوں، توقعات اور نئے امکانات کی نوید لے کر آتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تیز رفتار فارمیٹ میں کسی بھی کھلاڑی کے لیے قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملنا اس کی صلاحیتوں کے اظہار اور مستقبل کی راہیں ہموار کرنے کا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں رضا اللہ اور محمد عمران نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرکے اس یادگار سفر میں قدم رکھا۔
اکیس سالہ فاسٹ بولر رضا اللہ، جنہوں نے برمنگھم میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھا کر شائقین میں خاص مقبولیت حاصل کی،اپنے پہلے بین الاقوامی ٹی20 میچ میں صرف ایک کھلاڑی کو آئوٹ کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ بلے بازی کا مظاہرہ کرنے کا انہیں موقع نہیں ملا۔
رضا اللہ کا بولنگ ایکشن قدرے سائیڈ آن ہے اور وہ بازو کو جھٹکے کے ساتھ گھما کر گیند کرتے ہیں۔ اپنی غیر معمولی رفتار پیدا کرنے کیلئے انہیں جسم پر خاصا دباؤ ڈالنا پڑتا ہے، جس پر پاکستان کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ اور بولنگ کوچز کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں راولپنڈیز نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا اور انہوں نے چند میچ بھی کھیلے، لیکن ایجبسٹن ٹیسٹ سے پہلے انہیں کسی بڑی کامیابی کے قریب نہیں سمجھا جا رہا تھا۔ اس ٹیسٹ میں غیر معمولی کارکردگی نے ان کی قسمت بدل دی۔
اگرچہ رضا اللہ کو ان کی طاقتور ہٹنگ کے باعث خوب داد مل سکتی ہے، لیکن پاکستان کو ایسے بولر کی بھی ضرورت ہے جو مسلسل تیز رفتار بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جسے پروان چڑھانا پاکستان کیلئے اہم ہوگا، کیونکہ ملک میں تیز رفتار بولرز کی صلاحیتوں کا ذخیرہ بتدریج کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
آل رائونڈر محمد عمران رندھاوا میڈیم فاسٹ بولرہیں جنہوں نے سری لنکا کے خلاف اپنے پہلے انٹرنیشنل ٹی 20 میچ میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ پی ایس ایل میں وہ ملتان سلطانز ، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
دونوں کھلاڑیوں کیلئے یہ ڈیبیو نہ صرف انفرادی اعزاز ہے بلکہ اپنی کارکردگی سے ٹیم میں جگہ مستحکم کرنے اور پاکستانی شائقین کی توقعات پر پورا اترنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments