صفر کا مھینہ اور بد شگونی کا تصور
اسپیشل فیچر
صفر قمری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے جس کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف اس کے ساتھ بہت سی توہمات اور بدشگونیاں وابستہ کرلی گئی ہیں اور دوسری طرف ان کے خودساختہ حل بھی تلاش کرلئے گئے مثلاً اس مہینے میں شادی نہ کرنا، چنے ابال کر محلے میں بانٹنا تاکہ ہماری بلائیں دوسروں کی طرف چلی جائیں، آٹے کی تین سو پینسٹھ گولیاں بنا کرتالابوں میں ڈالنا کہ بلائیں ٹل جائیں اور رزق میں ترقی ہو، 311 یا زیادہ دفعہ سورۃ مزمل کا پڑھنا، اس مہینے کو مردوں پر بھاری سمجھنا اور اس کی 13 تاریخ کو منحوس سمجھنا جس کو’ تیرہ تیزی ‘بھی کہا جاتا ہے۔ان تمام باتوںکی دین میں کوئی حیثیت نہیں کیونکہ ماہ و سال، رات اور دن کے آنے جانے سے ترتیب پاتے ہیں جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:’’ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایاہے، رات کی نشانی کو ہم نے بے نور اور دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو‘‘۔(بنی اسرائیل:12)دن کا نکلنا، سورج کا طلوع و غروب ہونا اور رات کا چھا جانا سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کیونکہ دنوں سے مل کر ہفتے اور ہفتوں سے مہینے اور سال بنتے ہیں۔ یہی ماہ و سال زمانہ ہیںجس کو برا کہنے سے حدیث قدسی میں روکا گیا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں۔’’ابن آدم زمانے کو گالی دے کرمجھے اذیت دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میںہرکام ہے، میں رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔(صحیح بخاری)قمری کیلنڈر چاند کی بدلتی ہوئی حالتوںکی وجہ سے معرض وجود میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’لوگ آپؐ سے چاند کے (گھٹنے بڑھنے) بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں اور حج کیلئے اوقات بتانے کا ذریعہ ہے‘‘۔قمری کیلنڈر حقیقت میں ایک عالمی کیلنڈر ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کیلئے یہ اہتمام کردیا ہے کہ وہ آسانی سے تاریخوں کا تعین کرسکے۔ چاند اللہ کے مقرر کردہ ضابطہ کا پابند ہے، اس لئے اس کے گھٹنے بڑھنے سے نہ تو کسی کی قسمت پر اثر پڑتا ہے اور نہ ہی کسی خاص مہینے کا چاند نظر آنے سے کسی نحوست کی ابتدا ہوتی ہے اور نہ کسی خوش قسمتی کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کا انحصار سورج،چاند اور ستاروں کی گردش پر نہیں بلکہ انسان کے اپنے عمل پر ہے۔ ان کی تخلیق کا مقصد تو یہ ہے کہ سالوں کا حساب کیا جاسکے اور عبادت کے اوقات معلوم کرنے میں آسانی ہو۔مہینوںکی تعداد بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:’’بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک ، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (التوبۃ:36)چنانچہ کیلنڈر قمری ہو، شمسی ہو یا بکرمی،کہیں محرم اور صفر ہیں تو کہیں جنوری اور فروری اور کہیں چیت اور بیساکھ، نام مختلف ہیں لیکن تعداد بارہ ہی ہے۔صفر وہ مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے معمول کی عبادت کے علاوہ نہ کوئی خاص عبادت کی نہ ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی کسی خاص بلا سے بچنے کیلئے خبردار کیا۔ توہمات اور شگون جو اس ماہ سے منسوب کئے گئے ہیںان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔عربوں کے ہاں اس ماہ سے متعلق جو غلط تصورات پائے جاتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عرب حرمت کی وجہ سے تین ماہ، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم میں جنگ و جدل سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں۔ لہٰذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اور جنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو ان کے گھر خالی رہ جاتے جاتے۔ یوں عربی میں یہ محاورہ (گھر کا خالی ہونا) معروف ہوگیا۔ صفر اورصِفر کے معنی ہیں خالی ہونا جیسے صِفر کا ہندسہ۔عربی میں کہتے ہیں۔ (گھر سامان سے خالی ہوگیا)۔مشہور محدث اور تاریخ دان سخاوی نے اپنی کتاب ’’المشہور فی اسماء الایام والشہور‘‘ میں ماہ صفر کی یہی وجہ تسمیہ لکھی ہے۔ عربوں نے جب دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور گھر برباد یا خالی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اور گھروں کی بربادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہ کیا، نہ ہی اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا، نہ لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا دیا۔ جبکہ نحوست کے بارے میں قرآن مجید میںارشاد ہے:’’ اور ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے گلے میں لٹکا رکھا ہے اور قیامت کے روز ہم ایک کتاب اس کیلئے نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ پڑھ اپنا نامہ اعمال آج اپنا حساب لگانے کیلئے تو خودہی کافی ہے‘‘۔(بنی اسرائیل (14-13)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی نحوست کا تعلق اس کے اپنے عمل سے ہے جبکہ انسان عموماً یہ سمجھتا ہے کہ نحوست کہیں باہر سے آتی ہے چنانچہ وہ کبھی کسی انسان کو، کبھی کسی جانور کو، کبھی کسی عدد کو اور کبھی کسی مہینے کو منحوس قرار دینے لگتا ہے۔ عربی میں نحوست کیلئے لفظ طیرہ استعمال ہوتا ہے جوطیر سے نکلا ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں۔عرب چونکہ پرندے کے اڑانے سے فال لیتے تھے اس لئے طائر بدفالی کیلئے استعمال ہونے لگا یعنی براشگون (bad omen) لینا۔ اسلام میں کوئی دن، جگہ یا انسان منحوس نہیں بلکہ وہ انسان کا اپنا طرز عمل، رویہ، اخلاق اور طریقہ ہوتا ہے جو اس کیلئے مختلف آزمائشوں کا سبب بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’کوئی بھلائی جو تمہیں پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور کوئی برائی جو تمہیں پہنچے تو وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے۔ (النساء: 79)ایسا شخص جو برا شگون لیتا رہا اس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا:’’جو کسی چیز سے بدفالی پکڑ کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا اس نے شرک کیا (صحابہ کرامؓ نے) پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ فرمایا ’’وہ کہے اے اللہ! تیری دی ہوئی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں اور تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں‘‘۔مثال کے طور پر ایک شخص گھر سے نکلا، کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو اس نے اسے منحوس سمجھا اور گھر واپس آ گیا۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے مگر حقیقت میں یہ شرک ہے کیونکہ کسی بھی شخص کا نفع یا نقصان بلی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی لاپروائی کی وجہ سے کوئی کام خراب ہو جاتا ہے اور شیطان ہمیں سجھاتا ہے کہ یہ ساری خرابی فلاں شخص کی وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ صبح صبح نظر آ گیا تو اب سارا دن خراب ہی گزرے گا اور کوئی کام درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح آنکھ پھڑکنے سے خوفزدہ ہو جانا یا ہاتھ میں کھجلی ہونے سے امید لگا بیٹھنا کہ آج مال ملے گا یا جوتے پر جوتا آ گیا تو سفر پیش آئے گا۔ رنگوں سے شگون لینا بھی ہمارے معاشرہ میں عام ہے۔ مثلاً سیاہ رنگ نہ پہننا کہ بیمار پڑ جائیں گے یا احترام کے منافی ہے کیونکہ خانہ کعبہ کا غلاف کالا ہے، سبز جوتا نہ پہننا کہ بے ادبی ہوگی کیونکہ آپؐ کی قبر مبارک کے گنبد کا رنگ سبز ہے اس طرح انسان نے خودساختہ طور پر کچھ چیزیں اپنے لئے نہ صرف حرام کرلیں بلکہ ان کے ساتھ قسمت بھی جوڑی دی۔ یہ سب ایسے وسوسے اور توہمات ہیں جن کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ شیطان انسان کو شرک میںمبتلا کرکے اس کے اعمال ضائع کرواتا ہے۔ یہ توہمات اور بدشگونیاں انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں، اس کے برعکس اللہ کی ذات پر پختہ ایمان اور توکل انسان کو جرأت، بہادری اور اعتماد دیتا ہے، اسے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایسے کسی بھی خیال کو دل سے نکال کراللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے‘‘ تین بار کہا اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں (اسے وہم ہو جاتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی وجہ سے اسے دور کر دیتا ہے‘ ‘ ۔ (سنن ابی دائود)اہل کتاب بھی جب دین کی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے تو اس طرح کے شگون لینے لگے، جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا:’’کیا تم نے نہیںدیکھا ان لوگوںکو جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔(النساء:51)جبت بے حقیقت، بے اصل اور بے فائدہ چیز کو کہتے ہیں۔ چونکہ شگون کی بھی کوئی اصل بنیاد اور حقیقت نہیں ہوتی اس لئے اسلام میں ایسی تمام چیزیںجو جبت کے تحت آتی ہیں جیسے کہانت، فال گیری، شگون اور توہمات ، ان سے منع کیا گیا ہے۔ کسی چھوٹی سی تکلیف یا طبیعت کی خرابی پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اور لوگوں کے ساتھ باہمی تعلقات خراب ہونے پر اپنی غلطی اور کوتاہی کا جائزہ لینے کے بجائے یہ خیال کرنا کہ ضرور کسی نے جادو کردیا ہے یا اس قسم کے دیگر توہمات رکھنا جو پیارو محبت کے رشتوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان کی توجہ اپنے عمل کی درستی اور اصلاح سے ہٹ جاتی ہے۔ نتیجتاً انسان تنہا رہ جاتا ہے اور نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں ہرقسم کے شر سے بچائو کیلئے بطور علاج مسنون اذکار اور دعائیں پڑھیں۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:’’مرض کا لگ جانا، نحوست، الو اور صفر کچھ نہیں اور جذامی سے اس طرح بچو جس طرح سے بچتے ہو‘‘۔عمومی مشاہدہ بھی یہی ہے کہ کسی کو بیماری لگتی ہے اور کسی کو نہیں لگتی، اگر اصل سبب کوئی انسان یا چیز ہوتی تو پھر سب کو بیماری لگنی چاہیے تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ جب تک اللہ کا نہ ہو کوئی شخص نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے نہ ہی کوئی جراثیم یا وبا۔ پہلے مریض کو بیماری جہاں سے آئی تھی یعنی اللہ کے سے، باقی لوگوں کو بھی وہیں آئے گی۔ البتہ انسان احتیاط کا دامن نہ چھوڑے کیونکہ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی اللہ ہی نے دیا ہے البتہ بھروسہ اور توکل صرف اللہ کی ذات پر ہو۔اسی طرح الو سے بدشگونی لینے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ عربوں کے ہاں الو ایک ایسا پرندہ تھا جس کا بولنا نحوست کی علامت تھی جبکہ مغرب میں الو عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بلی کا رونا یا بولنا منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اہل یورپ تیرہ کے عدد کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اسی توہم پرستی کے نتیجہ میں ان کی بعض عمارتوں میں تیرھویں منزل کو تیرہ کا نمبر نہیں دیا جاتا، اس کے اثرات ہم پر بھی ہیں خصوصاً صفر کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھتے ہیں اس کے برعکس چین میںخوش قسمتی کی علامت سمجھتی جاتی ہے۔ عدد تیرہ کا ہی ہے مگر بعض اس کو نحوست اور بعض خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں تو درست کیا ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ یہ جبت ہیں یعنی بے حقیقت باتیں اور توہمات۔حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیؐ سے سنا،مرض کا لگ جانا، صفر اور بھوت پریت کچھ نہیں ہیں‘‘۔حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ الو کا نکلنا کچھ ہے، نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے‘‘۔معلوم ہوا کہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کو ستاروںکے اثرات سمجھنا یا ان سے نحوست لینے کی کوئی حقیقت نہیں۔ زائچے بنوانا، بعض تاریخوںکو منحوس سمجھنا یہ سب وہمی اور خیالی باتیں ہیں۔حضرت زیدبن خالدؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی۔ یہ واقعہ بارش کے بعدکا ہے جو رات کو ہوئی تھی۔جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اسکے رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ کچھ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ میرے ساتھ کفر کرنے والے تھے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی پس وہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستاروں کا کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی پس وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے(صحیح بخاری)۔گویا ستاروں کو اپنی خوش قسمتی یا بدقسمتی کی علامت سمجھنا انسان کو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ البتہ اچھی چیزوں کو اپنے لئے خوش بختی کی علامت سمجھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کوئی مرض متعدی نہیں اور بدفالی کوئی چیز ہے اور نیک فال یعنی اچھا کلمہ مجھے پسند ہے (صحیح بخاری)۔’’مثلاً رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے نمائندے سہیل بن عمرو کے آنے پر فرمایا تھا ’’اب تمہارا معاملہ سہل (آسان ) ہوگیا۔ (صحیح بخاری)۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے واضح احکامات کے باوجود ہمارے معاشرے میں یہ بدشگونیاں عام کیوں ہیں تو اس کی ایک وجہ درج ذیل موضوع روایت کا لوگوں میں عام ہونا ہے۔’’جو شخص مجھ کو ماہ صفر گزرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا‘‘۔یہ حدیث نہیں بلکہ ایک من گھڑت بات ہے چنانچہ اس مہینے میں شادی کرنے سے گریز کرنا، بچے کا عقیقہ نہ کرنا یا دیگر تقریبات نہ منانا اسلامی طرز عمل نہیں، اسی طرح تیرہ تاریخ کو گھنگنیاں کھانے یا کھلانے کی بھی کوئی سند نہیں۔ تین سو پینسٹھ آٹے کی گولیاں تالابوں میں پھینکنے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ماہ صفر کے حوالے سے ایک اور انتہا یہ ہے کہ ایک طرف اسے منحوس سمجھتے ہیں اور دوسری طرف خوشی منائی جاتی ہے اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیماری کے بعد اس دن صحت یاب ہوئے تھے اور سیروتفریح کیلئے نکلے تھے حالانکہ تاریخی اعتبار سے بات اس کے بالکل برعکس ہے۔اس من گھڑت بات کو بنیاد بنا کر اس مہینے کی آخری بدھ کو چھٹی کی جاتی ہے، کاروبار بند کر دیئے جاتے ہیں خصوصاً ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگر اور مزدور لوگ چھٹی مناتے ہیں۔ اور مٹھائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ باقاعدہ مٹھائی بانٹی جاتی ہے اور اس دن چھٹی دینا باعث اجروثواب سمجھا جاتا ہے۔ خاص اس دن اس سوچ کے ساتھ چوری بنائی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحت یاب ہونے کے بعد چوری کھائی تھی۔ خواتین اس دن اچھے کپڑے پہنتی ہیں، لوگ خاص طور پر تفریح کیلئے نکلتے ہیںجبکہ اس کی دلیل نہ تو سیرت کی کتابوں میں ہے، نہ احادیث مبارکہ سے ملتی ہے۔اس لحاظ سے ایک مسلمان کا عقیدہ مضبوط اور ذہن واضح ہونا چاہیے کہ خوشی اور غم، نفع اور نقصان سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، کوئی تکلیف نہیں آ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’کہہ دیجیے کہ ہمیں ہرگز کوئی بھلائی یا برائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی، وہی ہمارا مولاہے اور ایمان والوں کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے‘‘ (التوبہ:51)آپ ﷺ نے فرمایا’’ جو مصیبت تم کو پہنچی وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو ٹل گئی وہ تم پر آ ہی نہیں سکتی تھی‘‘۔یہی سوچ انسان کو ہر حال میںمطمئن رکھتی ہے کہ جو ہو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوا اور اس میں ضرور اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس طرح عقیدہ توحید مزید پختہ ہوتا ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ اصل پناہ دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے اس طرح وہ شرک جیسے کبیرہ گناہ سے بچا رہتا ہے۔٭٭٭