بادل گرجتا کیوں ہے؟
اسپیشل فیچر
بادلوں کی گرج یا تھنڈرنگ کا سبب ان کے اندر پیدا ہونے والی چمک یعنی لائٹننگ ہے جو کہ بنیادی طور پر الیکٹرونز کی ایک سٹریم ہے اور یہ بادلوں کے مابین یا بادلوں کے اندر ، یا پھر بادلوں اور زمین کے درمیان بہتی ہے۔ الیکٹرون سٹریم کے ارد گرد کی ہوا اس قدر گرم ہوجاتی ہے کہ اس کا درجہ حرارت پچاس ہزار فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے جو کہ سورج کی سطح پر پیدا ہونے والی گرمی سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔جب اتنی گرم ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے تو یہ چمک کے راستے کے ساتھ ساتھ اسے گھیرے ہوئے ایک جزوی خلاء پر مشتمل ریزونیٹنگ ٹیوب بناتی ہے۔ قریبی ہوا بڑی تیزی سے پھیلتی اور سکڑتی ہے۔ اس سے بننے والا کالم ایک ڈھول کی کھال کی طرح مرتعش ہوتا ہے اور بہت بڑا کریک پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ ارتعاش بتدریج کم ہوتا ہے تو اس کی آواز گونجتی اور ہوا کو دوبارہ مرتعش کرتی ہے اور اس سے بڑی خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم بادلوں کی گرج کہتے ہیں۔ چمک سے پیدا ہونے والی اس آواز کی گونج دس میل دور تک سنائی دیتی ہے۔جب چمک ہمارے سامنے پیدا ہو رہی ہوتی ہے تو ہم اسے دیکھ بھی پاتے ہیں۔ ایسی حالت میں چمک پہلے پیدا ہوتی ہے اور گرج بعد میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے روشنی ہمیں پہلے چمکتی دکھائی دیتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والے آواز بعد میں ہمارے کانوں تک پہنچتی ہے۔ تاہم چمک سے پیدا ہونے والی آواز ایک عام صوتی لہر یا سائونڈ ویو کے برعکس بڑی حد تک ایک شاک ویو کی مانند ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود بھی آواز کی رفتار کا موازنہ اگر روشنی کی رفتار سے کیا جائے تو یہ قابل ذکر حد تک کم ہوتی ہے۔ چمک سے پیدا ہونے والی روشنی ہماری آنکھوں تک ایک ثانیے کے کچھ ہی حصے میں پہنچ جاتی ہے اور آواز اس کے پیچھے پیچھے اس طرح کھنچی آتی ہے جیسے بین السیاراتی راکٹ کے پیچھے سے ایندھن جلنے کے باعث ایک دم سی بن جاتی ہے۔گرج اور چمک کا صوتی اور بصری نظارہ ہوا کے مالیکیولز کے ارتعاش اور برقی قوتوں کے ذریعے پیدا ہونے والی بے ترتیبی کی ڈائنامکس کے امتزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔