حضرت ابوبکرصدیقؓ کے فضائل اور کارنامے
اسپیشل فیچر
مردوں میں سب سے پہلے آپؓ نے اسلام قبول کیاتمام عمر دین کی تبلیغ کیلئے کوشاں رہے۔ آپؓ کی اولین تبلیغ سے جن افراد نے اسلام قبول کیا ان کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہؓ میں ہوا******افضل البشر بعد الانبیاء خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیقؓ کا اسم مبارک عبداللہ کنیت ابوبکر جبکہ لقب صدیق و عتیق تھے۔ شجرہ نسب عبداللہ (ابوبکرصدیقؓ) بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر وبن کعب بن سعد تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب القرشی التیمی۔ آپؓ کا سلسلہ نسب مرہ بن کعب پر حضور اکرمؐ سے جا کر ملتا ہے۔ والدہ کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ ام الخیر سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ آپؓ کی والدہ کی کنیت ام الخیر تھی جو آپؓ کے والد کے چچا کی بیٹی تھیں۔اسم مبارک:آپؓ کا اسم مبارک عبداللہ ہے۔ گھر والوں نے آپؓ کا نام عبداللہ رکھا مگر آپؓ اپنی کنیت ابوبکر سے زیادہ مشہور ہیں۔ عتیق:آپؓ کے لقب عتیق کے بارے میں مختلف روایات ہیں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن والد محترم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’ اے ابوبکر اللہ نے تمہیں آگ سے آزاد فرمادیا‘‘۔ چنانچہ اسی دن آپؓ عتیق کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ صدیق:آپؓ کا لقب صدیق بھی ہے چونکہ آپؓ ہمیشہ سچ بولا کرتے تھے اورنبی کریمؐ کی ہر خبر پر تصدیق کرنے میں سبقت فرماتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ؓ کو صدیق کہا جاتا ہے۔ کتب سیرت میں اس لقب کے بارے میں لکھا ہے کہ آپؓ نے واقعہ معراج کی سب سے پہلے تصدیق کی چنانچہ حضور اقدسﷺ نے آپ ؓ کو صدیق کے لقب سے نوازا۔ولادت: آپؓ کی ولادت کے بارے میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں کہ آپؓ کی ولادت حضور اقدسؐ سے دو برس دو ماہ قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔اخلاق و کردار:حضر ت ابوبکرصدیقؓ زمانہ جاہلیت سے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ والدماجد نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ آپؓ نرم اور شریفانہ طبیعت کے مالک تھے۔ اپنی قوم میں بہتر تعلقات رکھنے والے محبوب ، نرم اخلاق ، قریش میں بہترین نسب والے تھے۔ قریش کے انساب کا تمام قریش سے ز یادہ علم تھا آپ ؓ نے تجارت کا پیشہ اپنایا۔حلیہ مبارک:طبقات ابن سعد میں ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے باپ ابوبکر کا حلیہ کیا ہے؟ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے جواب میں کہا کہ آپؓ کی رنگت سفید بدن دبلا تھا۔ دونوں رخسار اندر کو دبے ہوئے تھے۔ چہرے پر گوشت زیادہ نہ تھا۔ پیشانی کشادہ اور بلند تھی۔ ہمیشہ نگاہ نیچی رکھتے تھے۔ کسی قسم کا خضاب نہیں لگاتے تھے۔قبول اسلام:حضرت ابوبکرؓ وہ واحد شخصیت ہیں کہ مردوں میں سب سے پہلے آپؓ نے اسلام قبول کیا۔ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ تردد اور ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔ سوائے ابوبکرؓ کے جب میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر تامل کے فوراً اسلام قبول کرلیا‘‘۔تبلیغ اسلام:آپؓ نے جب اسلام قبول کیا تو اسی وقت سے لوگوں کو دین کی دعوت دینا بھی شروع کردی ۔ تمام عمر دین اسلام کی تبلیغ کیلئے کوشاں رہے۔ آپؓ کی اولین تبلیغ سے جن افراد نے اسلام قبول کیا ان کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہؓ میں ہوا۔ خلافت کا مسئلہ:آپؐ کی وفات کے بعد منافقین نے مدینہ منورہ میں خلافت کا مسئلہ کھڑا کردیااور مہاجرین و انصار کے مابین نفاق پیداکرنے کی کوشش کی لیکن اس مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرلیا گیا۔جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ: رسول اکرم ؐکی حیات طیبہ میں ہی جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ نمودار ہوچکا تھا۔ مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا۔ہجرت کے دسویں سال بنی حنیفہ کا ایک وفد مدینہ منورہ میںرسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وفد میں مسیلمہ کذاب بھی شامل تھا۔ تمام افراد نے اسلام قبول کیا۔ مسیلمہ کذاب جب یمامہ گیا تو وہ مرتد ہوگیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کردیا بہت سے لوگوں نے اس کے دعویٰ کو قبول کر لیا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم کے دس افراد کو سفیر بنا کرحضور اقدسؐ کے پاس بھیجا اوران کے ہاتھ ایک خط بھیجا جس میں تحریر تھا کہ میں آپ ؐکے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ نصف دنیا آپؐ کی ہے اور نصف میری ہے۔ مسیلمہ کے اس خط کو پڑھ کر رسول اکرم ؐ جلال میں آگئے اور مسواک کی لکڑی جو کہ دست مبارک میں پکڑی ہوئی تھی۔ فرمایا’’ا للہ کی قسم اگر وہ مجھ سے اس کو بھی مانگے تو میں اس کو نہیں دوں گا‘‘ پھر آپؐ نے قاصدوں سے پوچھا ’’تم اس بارے میں کیا کہتے ہو‘‘ تو انہوں نے کہا ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے ۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا ’’ اگر قاصد کو قتل کرنا منع نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا‘‘ چنانچہ حکم دیا کہ مسیلمہ کے خط کا یہ جواب لکھا جائے۔’’ محمد رسولؐ اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کو ، زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام متقین کیلئے ہے‘‘۔ آپؐ کے واضح جواب کے باوجود مسیلمہ کذاب اپنے دعویٰ پر قائم رہا۔ یہاں تک کہ رسول اکرم ؐنے اس جہاں سے وصال فرمایا تو مسیلمہ کذاب نے نبوت کے دعویٰ میں تیزی دکھانی شروع کردی۔ یہاں تک کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس پر ایمان لے آئے مسیلمہ کذاب جادو اور شعبدہ بازی کا فن جانتا تھا جس سے لوگ جلد اس کے جال میں پھنس جاتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس فتنے کے خاتمہ کیلئے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر ترتیب دیا۔ مرتدین کی سرکوبی اور قلع قمع کیلئے حضرت ابوبکرؓ نے 11 لشکر تیار کئے ۔ مسیلمہ کذاب بہت طاقت پکڑ چکا تھا۔ 20,000 سے زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کے مارے گئے جبکہ مسلمان شہداء کی تعداد1200 کے لگ بھگ تھی۔ ان شہداء میں 700صحابہ کرامؓ قرآن کے حافظ تھے۔ اس لڑائی میں مسیلمہ کذاب حدیقۃ الموت میں چھپ گیا۔مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے پیچھے گئی اور اس باغ میں شدید جنگ ہوئی ۔ حضرت حمزہؓ کے قاتل حضرت وحشی (جو کہ اسلام قبول کرچکے تھے) نے مسیلمہ کذاب پر حربہ پھینکا جو اس کے سینے میں اتر گیا اور پشت کی طرف سے نکل گیا۔ ایک انصاری نے اسے تلوار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح جو کہ خود نبوت کی دعویدار تھی بھاگ کر بصرہ میں چھپ گئی اور روپوشی کے عالم میں ہی کچھ دنوں بعد مرگئی۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب کے فتنے کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا۔ اسودعنسیٰ کا خاتمہ :اسود عنسیٰ ایک کاہن اور شعبدہ باز شخص تھا۔ جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتا تھا ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب بازان صنعانی یمن کا بادشا ہ تھا۔ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا اور حضور اکرمؐکے حکم سے اس ملک کا حکمران تھا اس کا انتقال ہوگیا تو اسود عنسیٰ نے خروج کر کے صنعا ء کے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرلیا اور ملک پر قابض ہوگیا۔ اس نے بازان کی بیوی کو زبردستی اپنے نکاح میں لے لیا اسود عنسیٰ نے آپ ؐ کی حیات میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس قبضہ کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ایک مہم روانی کی چنانچہ اسودعنسیٰ حضرت فیروز دیلمی ؓکے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ اسی طرح اس جھوٹے مدعی نبوت کا خاتمہ ہوگیا۔طلیحہ بن خویلد کی سرکوبی:طلیحہ بن خویلد بھی مدعی نبوت تھا اس کا دعویٰ یہ تھا کہ جبرائیل میرے پاس آتے اور وحی لاتے ہیں۔اس نے سجدوں کو نماز سے خالی کردیا اور پہلی چیز جو اس سے ظاہر ہو کر لوگوں کی گمراہی کا سبب بنی۔ وہ یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنی قوم کے ساتھ سفرکررہا تھا۔ اس کے پاس پانی ختم ہوگیا اور ان پر پیاس نے غلبہ کیا تو اس نے کہا کہ میرے گھوڑے پر سوار ہوجائو اور چندمیل تک چلو تمہیں پانی مل جائے گا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں پانی مل گیا ۔ اس وجہ سے بدوی اس کے فتنہ میں مبتلاہوگئے۔جب حضرت ابوبکرصدیقؓ کو اس کی خبرملی تو اس کی سرکوبی کیلئے ایک لشکر تیارکیا اور اس کا امیر حضرت خالد بن ولیدؓ کو بنایا اس کیخلاف جنگ ہوئی ۔تاریخ میں لکھا ہے طلیحہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوگیا تھا۔ مرتدین کا انسداد:حضور اقدس ؐکے وصال کے بعد بہت سے فتنوں نے سراٹھایا، بہت سے سرداران عرب مرتد ہوگئے۔ مرتدین کے ان فتنوں کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد فوری طور پر اس کی طرف توجہ کی او رمرتدین کے انسداد کیلئے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے مختلف اسلامی لشکروں کو ترتیب دیا او رحضرت ابوبکرصدیقؓ نے فتنہ ارتداد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اللہ ہم سب کو حضرت ابوبکرصدیقؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)٭…٭…٭