نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 2928 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 18 ہزار 749 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 65 ہزار 725 ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 68 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 72 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 13 ہزار 716 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 25 ہزار 952 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 626 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 40 ہزار 356 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 4960 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 19 ہزار 423،سندھ میں 4 لاکھ 48 ہزار 658 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 391،بلوچستان میں 32 ہزار 707 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 3 ہزار 720،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 222 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 628 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 5.08 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

شطرنج کے ایک ماہر کی انوکھی فرمائش : بساط بھر چاول!

شطرنج کے ایک ماہر کی انوکھی فرمائش : بساط بھر چاول!

اسپیشل فیچر

تحریر :


کہانی کچھ یوں ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ خود کوشطرنج کا بہت بڑا ماہر سمجھتا تھا۔ اسے زعم تھا کہ شطرنج کے کھیل میں کوئی اسے نہیں ہرا سکتا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ پڑوسی ملک کے بادشاہ نے اس کی سرحدوں پر اپنی فوج لا کر کھڑی کر دی۔ پڑوسی ملک بہت طاقتور تھا اور اس کی فوج بھی بہت زیادہ تھی۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے، دوسرے ملک کے بادشاہ نے اپنے ایلچی کے ہاتھ اس بادشاہ کو پیغام بھیجا، اگر وہ شطرنج کے کھیل میں اسے شکست دینے میں کامیاب ہو گیا، تو وہ اپنی فوجیں واپس لے جائے اور دوبارہ کبھی حملہ نہ کرے،لیکن اگر وہ ہار گیا تو پھر اسے اپنی ساری سلطنت، پڑوسی بادشاہ کے حوالے کرنا ہو گی۔ خون خرابے سے بچنے کے لیے حملہ آور بادشاہ نے شرط منظور کر لی۔ایک بڑے ہال نما کمرے میں، جس کے فرش پر شطرنج کی بساط کے خانے بنے ہوئے تھے (جن میں مہروں کی جگہ غلام کھڑے کیے جاتے کھیل شروع ہوا۔ حملہ آور بادشاہ اور اس کے مشیر بھی شطرنج میں زبردست ماہر تھے۔ ان کے مقابلے میں شطرنج میں مہارت کا دعویٰ رکھنے والے بادشاہ سلامت کمزور پڑنے لگے۔ ایک ایک کر کے ان کے غلام (یعنی مہرے) پٹتے گئے۔ یہ دیکھ کر ان کے ہوش جاتے رہے وہ اپنے وزیروں مشیروں سے مشورے مانگنے لگے، لیکن پوری سلطنت میں سب سے زیادہ شطرنج تو بادشاہ سلامت ہی کو آتی تھی۔ دوسروں کے مشوروں پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بازی اور بھی زیادہ ہاتھ سے نکلنے لگی۔ بادشاہ کا گھمنڈ ٹوٹ گیا۔اسی موقع پر ایک وزیر نے آ کر باد شاہ کے کان میں کہا ’’حضور! باہر ایک فقیر کھڑا ہے۔ کہتا ہے کہ وہ آپ کی شکست کو فتح میں بدل سکتا ہے۔ اسے یہاں آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں؟‘‘ بادشاہ نے اجازت دے دی۔ کچھ ہی دیر بعد میلے کچیلے کپڑوں والا ایک فقیر بادشاہ کے سامنے تھا۔ اس نے بادشاہ سے وعدہ لیا کہ وہ صرف وہی چال چلے گا، جسے چلنے کا مشورہ فقیر دے گا۔ یعنی وہ شطرنج کے کھیل سے عملاً دستبردار ہو جائے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پانسہ پلٹ گیا۔ فقیر نے ایسی ایسی چالیں بتائیں کہ بادشاہ کو شطرنج میں مہارت کا اپنا دعویٰ غلط معلوم ہونے لگا۔ حملہ آور بادشاہ کے مہرے ایک ایک کر کے پٹتے چلے گئے، یہاں تک کہ اسے ’’شہ مات‘‘ ہو گئی… اس طرح حملہ آور بادشاہ اپنے لائو لشکر سمیت واپس چلا گیا۔ پورے ملک میں خوشی کے شادیانے بجائے جانے لگے۔فقیر نے بادشاہ سلامت سے رخصت چاہی تو بادشاہ نے کہا ’’نہیں! ہم تمھیںایسے جانے نہیں دیں گے۔ تم نے ہماری سلطنت بچائی ہے۔ اس لیے تمھیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ بولو! تمھیں کیا چاہیے؟‘‘ اس پر فقیر نے کہا: ’’گستاخی معاف جہاں پناہ! لیکن جو کچھ مجھے چاہیے، آپ کا خزانہ وہ دینے کے قابل نہیں۔‘‘یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا کہ ایک فقیر میں اتنی ہمت کیسے آ گئی کہ وہ شاہی خزانے کو بے حیثیت کہے… اس نے فقیر کو حکم دیا کہ وہ اپنی فرمائش بیان کرے ورنہ اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ یہ سن کر فقیر کہنے لگا: ’’جناب! میری فرمائش تو صرف اتنی سی ہے کہ آپ مجھے بساط بھر چاول اس طرح سے عطا فرمائیے کہ (شطرنج کی) بساط کے ہرخانے میں پچھلے خانے سے دو گنی تعداد میں چاول ہوں اور بس۔‘‘یہ عجیب و غریب فرمائش سن کر بادشاہ اور اس کے درباریوں نے ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ لیے، مگر فقیر کی سنجیدگی میں فرق نہیں آیا۔ جب یہ لوگ اچھی طرح سے فقیر کا مذاق اڑا چکے تو شاہی خزانے کے نگراں کو حکم دیا گیا کہ وہ فقیر کو سرکاری غلہ گودام میں لے جائے اور اس کی فرمائش پوری کر دے،لیکن وہی ہوا جیسا فقیر نے کہا۔ غلہ گودام میں رکھے ہوئے چاولوں کی ساری بوریاں خالی ہو گئیں لیکن فقیر کے مانگے ہوئے ’’بساط بھر چاول‘‘ پورے نہ ہو سکے۔ بادشاہ کو جب یہ خبر ہوئی تو اس نے فوراً فقیر کو بلوا بھیجا اور ماجرا دریافت کیا۔ اس پر فقیر نے کہا: ’’انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر خدائی دعوے نہ کرے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دربار سے چلا گیا اور پھر کبھی دکھائی نہیں دیا۔امی جی کی سنائی ہوئی کہانی تو یہاں آ کر ختم ہو گئی، لیکن بچپن میں یہ کہانی اس لیے ہماری سمجھ میں نہیں آ سکی کیونکہ ہمیں اس میں پوشیدہ ریاضی سے واقفیت نہ تھی۔ اب ذرا حساب لگائیے کہ شطرنج کی بساط پر فقیر کی فرمائش کے مطابق کتنے چاول آئے ہوں گے۔یاد رہے کہ شطرنج میں64خانے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر خانے میں چاول کے دانوں کی تعداد اور مختلف خانوں میں رکھے گئے چاولوں کی تعداد کا مجموعہ کچھ اس طرح سے معلوم کیا جا سکتا ہے:خانہ نمبرخانے میں چاولوں کی تعداددانوں کی مجموعی تعدادپہلے آٹھ خانوں کی ترتیب سامنے رکھیں تو ایک فارمولا اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اگرخانے کا نمبر Nہو تو اس خانے میں چاول کے دانوں کی تعداد-1 2nہو گی، جب کہ پہلے خانے سے اس خانے تک میں(جسے ہم nواں خانہ بھی کہہ سکتے ہیں) چاول کے دانوں کی مجموعی تعداد-1 2nہو گی۔اب چونکہ شطرنج کی بساط میں 64 خانے ہوتے ہیں، لہٰذا 64ویں خانے (64=n) تک پہنچتے پہنچتے، بساط پر چاول کے دانوں کی مجموعی تعداد یہ ہو گی:264-1قوت نما (Power) کے استعمال نے اس تعداد کو ظاہری طور پر بہت مختصر کر دیا، لیکن درحقیقت یہ عدد بہت بڑا ہے۔ البتہ اپنے کام کو آسان بنانے (اور چالوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے لیے ہم اس عدد کو چھوٹے اعداد میں توڑ کر آپس میں ضرب دے سکتے ہیں۔ کچھ اس طرح:264=28x28x28x28x28x28x28x28x28 چونکہ 28کا حاصل 256ہوتا ہے، لہٰذا:256x256x256x256x256x256x256x256 اس حساب کا حاصل ضرب یہ ہے:18,446,744,073,709,551,616لیکن یہ تو صرف تعداد ہے۔ اگر ہم یہ معلوم کرنا چاہیں کہ اتنے چاولوں کا وزن کتنا ہوگا تو ہمیں یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ چاول کے ایک دانے کا اوسط وزن کتنا ہوتا ہے۔ اب تک کی کھوج سے معلوم ہوا ہے کہ چاول کے ایک دانے کا اوسط وزن 30ملی گرام ہوتا ہے۔ لہٰذا اوپر دی گئی تعداد کو30 سے ضرب دینے پر ہمیں ان چاولوں کا وزن (ملی گرام میں) حاصل ہو جائے گا، جو یہ ہو گا:553,402,322,211,286,548,480۔ اس وزن کو گرام میں لانے کے لیے1000 سے تقسیم کیجیے کیونکہ ایک ملی گرام دراصل ایک گرام کا ہزارواں حصہ ہے۔ لہٰذا چاولوں کا وزن (گراموں میں) یہ ہو گا:553,402,322,211,286,548,48ہمارا کام اب بھی پورا نہیں ہوا، بلکہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ چاولوں کی کتنے کلو گرام مقدار ہے۔ لہٰذا اوپر حاصل ہونے والے عدد کو ہم ایک بار پھر 1000سے تقسیم کریں گے کیونکہ ’’کلوگرام‘‘ کا مطلب ہے ایک کلوگرام۔ یہ مقدار ہو گی:553,402,322,211,286.54848لیکن آج کل زرعی اجناس کی پیداوار کے لیے جو پیمانہ رائج ہے، وہ ’’میٹرک ٹن‘‘ کہلاتا اور1000کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔ لہٰذا میٹر ٹنوں میں ان چاولوں کا وزن یہ ہو گا:553,402,322,211.286548480ابتداء میں ہم نے جو فارمولا معلوم کیا تھا،اس کے مطابق بساط پر چاولوں کی مجموعی تعداد264-1ہے۔ اب چونکہ 30ملی گرام کا مطلب 0.00000003 ٹن ہوتا ہے۔ لہٰذا اوپر حاصل کردہ وزن میں سے یہ ننھی منی مقدار بھی نفی کر دیں گے، تو بساط بھر چاولوں کا تخمینی وزن (میٹرک ٹنوں میں) یہ ہو گا:553,402,322,211.28654845یعنی یہ وزن ساڑھے پانچ کھرب ٹن سے بھی زیادہ ہے! اتنے چاول تو ساری دنیا کے کسان مل کر بھی نہیں اگا سکتے۔ بھلا بادشاہ کے خزانے کی اس کے سامنے کیا حیثیت ہے۔(ماخوذ ’’ گلوبل سائنس‘‘ کراچی)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کیوں؟میں کہتا ہوں کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔کیا اردو ادب میں اتبدادیت کا دور دورہ ہے؟کیا افسانچے کے بعد خط کھینچ دیا گیا ہے؟ناول تھا تو افسانہ کیوں آیا؟افسانہ تھا تو افسانچہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟انگریزی و عربی فارسی ادب سے مستعار اردو ادب اور ادیب کب تک خود کو تحقیق اور جدت سے روکے رکھے گا؟جب بھی فکشن کا ذکر آتا ہے تو معروف انگریزی رائٹررور جینیا وولف کا ایک سوال جس نے برسوں پہلے ادبی حلقوں میں کہرام برپا کیا تھا ان کا مضمون "جدید فکشن "ایک خیال انگیز تحریر تھی اور ہے جس نے اس وقت جو سوال اْٹھائے آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ہی وہ لکھتی ہیں:''ہم نے مشین بنانے میں بہت ترقی کر لی ہے۔ نئے ماڈل کی کار کو دیکھتے ہی ہم بے اختیار کہہ اْٹھتے ہیں کہ اس کی ساخت میں کچھ نئی چیزیں سما گئی ہیں لیکن کیا ہم نے اسی طرح کا کوئی نیا طریق ادب کی تخلیق میں بھی دریافت کیا ہے؟ اورکیا اس طریق کو احساس تفاخر سے پیش کیا ہے کہ یہ فن پارہ پہلے فن پارے سے مختلف ہو؟ ورجینا وولف نے لکھا کہ فیلڈنگ نے اچھا فکشن تخلیق کیا تھا اوراسی طرح جین آسٹن ا پنے زمانے میں فیلڈنگ سے سبقت لے گئی لیکن جو حیرت فیلڈنگ نے اپنی سادگی سے تخلیق کی تھی اور اسی طرح بعد میں جو حیرت جین آسٹن نے اپنے انداز میں جگائی تھی ویسی حیرت کیا ہمیں ان کے بعد فکشن میں نظر آئی۔‘‘دیکھنے والی بات اس اقتباس میں یہ ہے کہ ورجینا وولف نے ارتقا کے اگلے دو قدم کا اعتراف بھی کیا ماضی اور مستقبل کے ادب کا تقابل کرتے ہوئے اس کے زوال کی بات بھی کی اور ادب میں جمود کی صورت پر بھی بات کی یہ درست کہ یہ پرانی بات ہے اس کے بعد انگریزی ادب میں فکشن کئی طرح سے لکھا گیا اور عمدہ نمونے بھی سامنے آئے لیکن اگر میں اردو ادب میں فکشن پر ایک نظر ڈالوں تو دور نہیں 90 کے بعد کے فکشن پر ناقد بھی زوال کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔جب میں نے مائیکرو فکشن پر بات شروع کی تو ادبی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ جیسے ٹیسٹ کرکٹ سے ون ڈے کا دور آیا اور ون ڈے سے ٹی ٹونٹی کا یوں ہی ادب میں بھی ہم مختصر ترین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔قارئین کے پاس پڑھنے کا وقت کم ہے یا نہیں ہے اس سے قطع نظر ادب کے معاملات الگ ہیں۔ ادب میں نئی اضاف کا آنانئی اضاف کے ریسرچ ورک سے جڑنا انگریزی ادب کا خاصہ ہے اس لیے ہمیں سب وہاں ہی ملا۔ ہمارے ہاں قصہ گوئی یا داستان کی روایت ملتی ہے لیکن کیا وہ اردو کی اپنی اضاف تھیں یہ الگ سوال ہے؟میں یہاں ساوتھ افریقہ میں ایک نجی کانفرنس میں شریک ہوا تو وہاں دوستوں سے تعارف کے بعد اردو ادب کا تذکرہ ہو اگوروں اور سیاہ فام ادبا کا سوال تھا اْردو ادب میں کون سی اضاف لکھی جاتی ہیں۔ تو میرا عمومی جواب یہ تھا کہ ناول ، ناولٹ، افسانہ ، نظم ہمارے ہاں بالخصوص لکھی جا تی ہیں ۔ تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ارے بھئی یہ سب تو انگریزی ادب سے مستعار ہے اردو ادب کی اپنی کون سی صنف ہے جو آپ لکھتے ہیں۔ تویہ اچانک سوال میرے لیے خود حیران کن تھا۔ خیر میں نے غزل کا نام لیا اور بات کچھ دیرکے لیے تھم سی گئی لیکن میں جانتا تھا غزل بھی کہاں اردو کی اپنی ہے۔ مجھے اس بات نے بطور اردو طالب علم جھنجھوڑا کہ ہم نے اردو ادب کو کیا دیا؟افسانے کی ہی بات کر لیں۔ افسانہ خود اپنے پیٹرن وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے اور یہ ایک اچھی روایت رہی ہے اردو ادب ا فسانہ میں تجربات ہوئے یوں اس کا رد عمل 1960 میں تجریدی افسانے کی شکل میں سامنے آیا۔پھر 90 کی دہائی میں افسانہ علامت کی جانب واپس لوٹا لیکن دیکھا جائے تو یہ ا دوار افسانے میں انگریزی ادب اور اردو ادب میں بیک وقت گزرے۔ مطلب ہم وہی کر رہے تھے جو مغرب میں ہو رہا تھا۔ چلیں مانا کہ علوم کا لین دین منع نہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ایسا ہوا بھی ہے ۔ لیکن یہی محبت اگر اردو دان اردو کی اپنی الگ صنف بنانے میں کرتے جس کی ہیئت خود اردو کی وضع کی ہوتی تو ہم آج کہہ سکتے کہ فلاں صنف اردو کی صنف ہے۔ اسی سوچ کے پیش نظر میں نے مائیکر و فکشن پر تحقیقی کام کا آغاز کیا کہ ایک صنف تو ہو جو اپنی نئی شکل کے ساتھ سامنے آئے جسے ہم افسانچے۔۔۔۔ سٹوری فلیش فکشن سے الگ کر سکیں۔اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ صنف اپنی تو نام بھی اپنا ہونا لازم ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ یہ الفاظ اردو میں رائج ہیں اور عام فہم زبان میں ان کا یونہی رائج ہونا میرا نہیں خیال غلط ہو۔لیکن میں نے تحقیقی کام میں اس پر غور جاری رکھا اور بالخصوص نام کے حوالے سے بار بار ادبا کی رائے لی ان مکالموں میں بہت سے نام سامنے بھی آئے دنیا بھر کے ادبا نے بہت سے ناموں کی تجویز دی۔ ۔آخرکار کراچی سے ہمارے ایک محترم دوست شفقت محمود صاحب نے "مائیکروف" کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ادبا کی کثیر تعداد نے اس "مائیکروف" کو معتبر حیثیت دی اور خود بخود یہ نام مستعمل ہوتا گیا اور اسے قبولیت کی سند ملی۔یوں نام کا قصہ ختم ہوا۔ اس دوران انہماک فورم پر اردو کے معتبر ترین ناقدین و ادبا سے مکالمے بھی جاری ہیں۔ جنہوں نے اس صنف کے اسلوب و ہیئت کے حوالے سے بات کی اور کئی ادبا میں اس کے روشن امکانات ومستقبل کی نشاندہی کی کچھ ادبانے اسے مجذوب کی جڑ بھی کہااور ناپسندیدہ قرار دیالیکن ایساردعمل چند ایک ادبا کی جانب سے ہواجو ذہنی طورپراردو میں کچھ نیا ہونے سے ڈرتے ہیں جب ہم غفار پاشا صاحب کے ساتھ سامنے آئے اورمقالے لکھے گئے تو صنف اپنا مقام خود بناتی چلی گئی آج انشائیہ پرایم فل کے مقالے لکھے جارہے ہیں۔اردو میں بہت کم کچھ الگ نیاکرنے کی روایت رہی ہے۔ہاں اسی ضمن میں عرض کروں تنقید نے اردو ادب میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ اردو ادب میں تنقیدی میدان میں آج تنقید تاثراتی تنقیدسے ہوتی ہوئی مارکسی تنقید، مظہریت سے اختیاطی تنقید، نوآبادیاتی تنقید، ردتشکیل، پوسٹ ماڈرن ازم، اور امتزاجی تنقید تک پہنچ گئی اور اس پرکام بھی ہوا ہے گو کہ یہ بھی بیشتر مغرب کی تھیوریزہیں لیکن ان پر کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر وزیرآغا نے امتزاجی تنقید کی بنیاد رکھی اور جمیل آذر صاحب نے نیانشائی تنقید کا آغاز بھی کیاہے۔مغرب میں تھیوریزپیش کی جاتی ہیں اور ان پر مکالمہ ہوتاہے۔یوں بات آگے بڑھتی ہے ہمارے ہاں کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ بات کیا ہورہی ہے ۔وہ اہم ہے یا نہیں سب یہ دیکھتے ہیں کہ کہہ کون رہا ہے۔مائیکروفکشن (مائیکروف)کولیکر ہمارے ادبا خائف کیوں ہیں ۔ وہاں 'دریدا' کے مطابق زبان میں افتراق اور التوا کاکھیل ہے یہ کہہ کرسب لکھا، کہا،رد کردیاگیاہے اور جس کا جواب ابھی تک کوئی دے نہیں پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی متن حتمی معنی، مطلق و واحدمعنی نہیں رکھتا۔۔خیر عرض ہے کہ اگر وہ منی سٹوری کے بعد فلیش فکشن اور سائنس فکشن اور دیگر فکشن کو متعارف کرواسکتے ہیں تو ہمیں افسانچے کے انڈے پر 'مرغا' بن کرکب تک بیٹھے رہناہے۔ یہ اب ہم سب مل کر طے کرلیتے ہیں۔اب آپ دیکھ لیں اردو ادب و ادیب کو نئی صنف پرکام کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ یہ کتنا لازم ہے،نہیں ہے وہ دوست طے کرلیں۔رہی بات ہاررفکشن کی تو ہم نئے مضوعات کو بدل بدل کر اب تک دنیا بھرکے مصنفین سے 500 کے قریب مائیکروف لکھوائے چکے ہیں جن پر دنیابھر کے معززین ناقدین نے تبصرے کیے آرادیں ہیں۔ تاکہ اس صنف میں نئے نئے موضوعات پرزیادہ سے زیادہ لکھا جائے۔تاکہ مصنفین وقارئین کا ذائقہ بھی بدلتارہے ا ور مشق بھی جاری رہے۔رہی بات انہماک میں شامل مائیکرو فکشن مثالوں کی تو عرض ہے وہ نشستیں مشق سخن سے متعلق ہیں۔ ان سب میں سے بہترین مثالوں کو سامنے رکھ کرہم اس کی صورت گری کرتے چلے جائیں گے۔ اس پرکام ہورہا ہے ہم اور دیگر دوست نوٹس بنارہے ہیں لیکن یادرہے سب کہانی کے لیے ہی بہتر ہوگا ۔ انجام، منظرنگاری، حیرت، ہر چیزاس کاحصہ ہوں گے۔ ہاررمائیکروفکشن میں جزئیات نگاری کو خاصی اہمیت حاصل ہورہی ہے ۔کیونکہ وہاں لفظوں سے قاری کو سارا منظر دکھانا ہوتاہے۔ لکھتے لکھتے قلم مائیکروفکشن کی جسامت کو تو بھانپ گئے ہیں اور ان کا قلم خودبخود طے کرتاگیاکہ اس کا حجم کیاہوگا ۔موضوع کے اعتبار سے لفظوں کی تعداد 600 تک جاسکتی ہے۔مائیکروف جدید دور کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اور اس صنف میں تخلیقی بیانیہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں سو لفظی کہانیوں کا چرچا داستان کا لطف، قصہ گوئی کی چاشنی، افسانے کا فسوں اور ناول کی جزئیات نگاری،مکالمے کا تیکھاپن اور نظم کا لطف سب درآمد کیے جا سکتے ہیں کم لفظوں میں بڑی بات گہری بات اور گہری فکرسے جوڑتا مائیکرواس وقت ادبا کے لیے لکھنے کاایساتخلیقی راستہ ہے جہاں سب خود کو جیتاجاگتااور مکمل تخلیق سے جڑاہواپاتے ہیں۔ اس صنف پرمزید مضامین و تحقیق کی ضرورت ہے۔ 

بادلوں کی آنکھ مچولی

بادلوں کی آنکھ مچولی

فضا میں خنکی تھی۔ چاندنی رات تھی، آسمان پر بادلوں کے آوارہ ٹکڑے چاند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ ہوٹل، دفاتر اور ریسٹورنٹس کے درمیان ایک اوول بنا ہوا تھا۔ اوول کے عین وسط میں صندل کی لکڑی کا ایک چبوترا بنا ہوا تھا۔ مناسب فاصلے پر ایک نیم دائرے کی شکل میں میز بچھے تھے۔ ہر میز کے اردگرد چار چار اور چھ چھ کرسیاں دھری تھیں۔ لاگ (Log) کے بائیں طرف لکڑی کا بنا ہوا فلور تھا۔ فلور کے آخری کونے پر ایک پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جس پر مائیک اور میوزیکل انسٹرومنٹ رکھے گئے تھے۔ میزوں پر بڑی بڑی موم بتیاں چاندی کے چار خانوں میں جل رہی تھیں۔ جب ہم پہنچے تو قریباً سبھی مہمان آچکے تھے۔ یوں لگا جیسے انہیں ہمارا ہی انتظار تھا۔ جونہی ہم اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھے تو وہی سیلزگرل جس نے ہمیں ہوٹل میں ٹھہرنے پر راغب کیا تھا، مائیک پر آئی۔ اپنی سُریلی لیکن نپی تلی آواز میں مخاطب ہوئی: ''ہائے فوکس!‘‘ ہر طرف سے ہائے ہائے شروع ہو گئی۔ وہ قدرے جھینپی اور پھر مسکرا دی۔ ''میں آپ کو آرنلڈفارم، مسٹراور لیڈی آرنلڈ کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے آج ہمیں شرفِ مہمان نوازی بخشا ہے۔ جہاں ہم آپ لوگوں کے ممنون ہیں، وہاں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ان لمحوں کو امر کردیں۔ یادگار بنا دیں۔ آج ہم جو پروگرام پیش کریں گے وہ صرف تفریح تک محدود نہیں ہو گا بلکہ اس میں آپ کو امریکہ کی تاریخ متحرک نظر آئے گی۔ یہ جو سٹیج پر رقاص اور نغمہ سنج بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈ انڈین قبائل کی اُمیدوں، اُمنگوں، آرزوئوں اور ارادوں کا چمن زار سمیٹ لائے ہیں۔ تاریخ کے دھارے جب بہتے ہیں تو وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں۔ حق انصاف، عدل گستری واخلاقی ضابطے کچھ بھی تو ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کی اپنی ایک منطق ہے جو ان تمام لطیف جذبات سے ماورا ہے۔ آج تاریخ میں سکندرِیونانی کا ایک مقام ہے۔ اسے سکندرِاعظم کہا جاتا ہے۔ ہر حکمران کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اسے بھی ایسا مقام اور مرتبہ حاصل ہو سکے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس میں اور ایک بدنام ڈاکو، قاتل اور لٹیرے میں کیا فرق تھا۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ لاکھوں بے گناہ لوگوں کو تہ تیغ کر دے، ان کے گھر جلاڈالے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کوچۂ زنداں میں دھکیل ڈالے۔ تاریخ کے تعصب کے سامنے سب اخلاقی آوازیں دب جاتی ہیں۔ سب ضابطے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہی تاریخ یہاں بھی دُہرائی گئی۔ کولمبس نے نہ جانے یورپین اقوام کے کان میں کیا پھونکا تھا کہ یورپ کا ہر راستہ امریکہ کی طرف کھلنے لگا۔ ہر للچائی ہوئی نگاہ سونے کی چڑیا پر پڑنے لگی۔ گولڈرش Mad رش میں بدل گیا۔ بارود کی بو نے معطر فضا کو گہنا دیا۔ چارسُو گولیوں کی تڑتڑ، جوان، محنتی جسم جھلسے ہوئے درختوں کی طرح گرنے لگے۔ جائیداد کی حرص وہوس نے اخلاقی ضابطوں کو روند ڈالا۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے!‘‘ امریکن سامعین نے بے چینی سے پہلو بدلے۔ کچھ دبی دبی آوازیں بھی بلند ہوئیں ... ''میں آپ کے جذبات سمجھتی ہوں، میں بھی آپ میں سے ہوں، ہمارے آبائواجداد ایک تھے۔ ہماری تاریخ بھی ایک ہی ہے۔ شاید ہم ان کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے!‘‘ اس نے گہری نظر سے سامعین کے چہروں پر اُٹھتے ہوئے مدوجزر کا جائزہ لیا۔ ''لیکن تاریخی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ You can not corrupt History۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان ناانصافیوں اور ناجوازیوں کا ازالہ کیا جائے اور شاید کیا بھی جا رہا ہے۔ عدالتیں ان کے حق میں فیصلے دے رہی ہیں۔ حکومت نے مراعات کا حوصلہ افزا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان کے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔ من وتوکی تقسیم ختم ہو جائے گی‘‘۔''Native کی تعریف کیا ہے؟‘‘ سامعین میں سے کسی نے اُٹھ کر سوال کر ڈالا۔''یہ ایک اچھا سوال ہے‘‘۔ اس نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ ''بحث کے طور پر کہا جا سکتا ہے ارضِ خدا انسانوں کے لیے بنی ہے۔ نقل مکانی ہر دور میں اور تاریخ کے ہر موڑ پر ہوئی ہے۔ آرئین کب ہندوستان آئے؟ یونانی کہاں کہاں گئے، سامراج نے کن خطوں کو ''فیض یاب‘‘ کیا۔ اگر یورپین اقوام سے پہلے ریڈانڈین آئے، آسٹریلیا میں برطانوی سپاہ سے پہلے ایب اور ویجنل موجود تھے تو یہ لوگ کہاں سے آئے تھے؟ کوئی نہ کوئی قوم کہیں نہ کہیں سے ضرور آتی ہے۔ محض وقت کی اکائیاں ان کا حق فائق نہیں کرتیں لیکن جو سلوک ان کے ساتھ روا رکھا گیا وہ یقینا نامناسب تھا۔ انہیں جنگلی سوروں اور کتوں کی طرح مارا گیا‘‘۔ میں ان جملات معترضہ کو یہیں ختم کرتی ہوں کیونکہ وقت نکلا جا رہا ہے۔ ہمیں ان حسین لمحات کو سمیٹنا ہے، اپنی روح میں اُتارنا ہے اور یادگار بنانا ہے۔ پروگرام شروع کرنے سے پہلے ہمیں ایک مقامی رسم پوری کرنی ہے اور وہ یہ ہے ''صندل کی لکڑیوں کے اس گھٹے کو ٹارچ دکھانی ہے۔ آگ کے الائو کی روشنی میں محفل رقص وسرود جمے گی ...‘‘

حکمت کی باتیں

حکمت کی باتیں

صاحب حکمتاللہ صاحب حکمت ہے۔ دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ اس کی دانائی، بصیرت اور اس کے حکیمانہ مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مصیبت کتنی بڑی ہے بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ یہ کیوں آئی ہے، اس لئے کہ اس حکیم و خبیر سے یہ توقع نہیں کہ وہ بلاوجہ ہمیں کسی ابتلا میں ڈال دے گا۔ وہ یقینا درج بالا مقاصد ہی کے لئے ہمیں آزماتا ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر کام کو حکمت پر مبنی سمجھا جائے، اس لئے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس کی یہ صفات اس سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتیؒ، اس لئے یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی کو سزا بھی دے رہا ہو تو وہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ اس کو ہم ایک ادنیٰ درجے پر ماں کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے بچے کو بدتمیزی کرنے یا محنت نہ کرنے پر صرف اس لئے سزا دیتی ہے کہ اس کی عادتوں کا بگاڑ اس سے دور ہو یا اس کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ ماں کے ذہن کی یہ حکمت بعض اوقات بیٹے سے اوجھل ہوتی ہے اور وہ ماں سے باغی ہو جاتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے پر یہ ستم اس لئے توڑتی ہے کہ وہ سدھر جائے، اس کا مستقبل سنور جائے، وہ آنے والے دنوں میں پریشان نہ ہو تو کیا خدا ماں سے زیادہ حکیم نہیں ہے، اور وہ اس سے زیادہ مستقبل سے باخبر نہیں ہے؟ یہی اس کا علیم و حکیم ہونا ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بسا اوقات ہم یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چل جانا چاہیے، ہمیں ملازمت مل جانی چاہیے، ہمارے ہاں اولاد ہونی چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے اللہ کا علم یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لئے مستقبل میں نقصان کا باعث ہوگا۔ وہ ہمیں اس نقصان سے بچانے کے لئے سب سب کچھ سے محروم رکھتا ہے۔پست خیال انسانپست خیال انسان آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے اور دوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ وہ دوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کر کے اپنے نفس کی تسکین چاہتا ہے۔ بلند خیال انسان شمع کی طرح جلتا ہے اور روشنی دیتا ہے۔ جلتا ہے، روشن رہتا ہے۔ بلند خیالی روشنی ہے۔ وہ روشن رہتا ہے، روشن کرتا ہے اور پھر اپنے اصل کی طرف یعنی نور کی طرف رجوع کر جاتا ہے۔ اُس کی زندگی دوسروں کے لیے اور دوسروں کا دُکھ اپنے لیے۔ وہ بلند خیال ہے۔ پست خیال کو ہم خیال بنانا اُس کا دین ہے، اُس کا مذہب ہے، اُس کا منصب ہے۔چیونٹی اور مکھیایک دن ایک چیونٹی اور مکھی دونوں اپنی فضیلت اور برتری پر لڑنے لگیں اور اپنی بحث وتکرار کرتے ہوئے مکھی نے کہا:''میری بزرگی مشہور ہے، جب خدا کے لیے نذر یا قربانی کی غرض سے جو بھی جانور ذبح ہوتا ہے اس کے گوشت، ہڈیوں اور انتڑیوں کا مزہ سب سے پہلے میں چکھتی ہوں۔ مساجد اور خانقاہوں میں بھی اچھی جگہ پر بیٹھی ہوں۔ میں عمدہ سے عمدہ جگہوں پر بلاروک ٹوک جاتی ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت عورت جو میرے پاس سے ہو کر گزرتی ہے، میرا دل چاہتا ہے تو میں اس کے نازک ہونٹوں پر جا بیٹھتی ہوں۔ کھانے پینے کے لیے مجھے محنت نہیں کرنا پڑتی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نعمت مجھے میسر رہتی ہے تو بے چاری غریب مسکین میرے رُتبے پر کہاں پہنچ سکتی ہے اور میری برابری کہاں کر سکتی ہے‘‘۔چیونٹی، مکھی کی یہ بات سُن کر بولی: ''خدا کی نذر یا قربانی میں جانا تو بہت باعث برکت ہے لیکن جب تک کوئی بلائے نہیں تیری طرح بن بلائے جانا تو بڑے بے شرمی کی بات ہے اور تو جو درباروں، بادشاہوں اور خوبصورت ہونٹوں پر بیٹھنے کا ذکر کرتی ہے تو یہ بھی بے جا ہے کیونکہ ایک دن گرمی کے موسم میں جبکہ میں دانہ لانے جا رہی تھی، میں نے ایک مکھی کو فصیل کی دیوار کے پاس ایسی غلیظ چیز پر بیٹھے دیکھا جس کا نام لینا بھی مناسب نہیں اور وہ اس غلاظت کو چپڑ چپڑ کھا رہی تھی اور تو نے مسجدوں اور خانقاہوں میں جانے کا کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو سستی اور کوتاہی کی ماری ہوئی ہے اس لیے وہاں جا کر پڑی رہتی ہے تاکہ کوئی زحمت اُٹھانا نہ پڑے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے جو سست اور کاہل ہوتے ہیں ان کو کوئی اپنی محفل میں آنے نہیں دیتا۔ اس لیے ادھر ادھر گھستے پھرتے ہیں۔ تو نے یہ کہا کہ تجھے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا اور مجھے سب کچھ بغیر محنت کے مل جاتا ہے، بات تو سچ ہے لیکن یہ بھی سوچ گرمیوں کے دنوں میں جب تو ادھر ادھر کھیل تماشے میں کھوئی رہتی ہے تو سردیوں میں بھوک سے مرتی ہے اور ہم اپنے گرم گھروں میں مزے سے کھاتے پیتے اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرتے ہیں‘‘۔عقل مند بیٹاکسی بادشاہ نے ایک تیلی سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا: دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی سیر۔ بادشاہ نے پوچھا: اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی پائو۔ سلسلہ سوالات کے آخر میں بادشاہ نے پوچھا، ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟ تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔ کاروبار دنیوی میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ تیلی نے کہا: نہیں۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا کہ دُنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل بے خبری۔ اس کو قید خانہ میں لے جائو۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے تو تیلی کا لڑکا خدمت میں عرض کرنے لگا کہ ''میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیںتو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہو گا‘‘۔بادشاہ نے کہا: ''تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے‘‘۔ تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی: ''حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا، نہ کہ میرے باپ کا؟ میرے باپ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا، اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا۔ لیکن میرا باپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ آئندہ حضور کا اختیار ہے‘‘۔ بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا: ''تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف اپنے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا‘‘۔ چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رُخصت کیا۔صبرہر طرح کی آزمائش میں صحیح رویے اور عمل کو اختیار کرنا صبر کہلاتا ہے۔ صبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ہر صورت میں صحیح موقف پر قائم رہے۔ اللہ اسے دے تو وہ شکر گزار رہے، فرعون وقارون نہ بنے اور اللہ چھینے تو وہ صابر رہے، کفر وشرک اختیار نہ کرے، اللہ کے دروازے سے مایوس نہ ہو۔ صحیح موقف سے مراد یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اخلاق سے نہ گرے۔ اپنے عزیزوں اور اپنے ساتھ بُرائی کرنے والے لوگوں سے بالخصوص اپنا رویہ صحیح رکھے۔ ان کے حقوق پورے کرے، ان کی عزت قائم رکھے۔ ان سے اگرسہوونسیان ہوا ہے تو بالخصوص ان سے درگزر کا رویہ اختیار کرے اور اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی چیز سرزد ہوئی ہے تو سزا دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہاں بھی پسندیدہ یہی ہے کہ اگر ہو سکے تو انھیں معاف کر دے۔خدا کی طرف سے آنے والی مشکلات میں بھی صبر ضروری ہے۔ ان چیزوں میں آدمی اگر صبر نہ کرے تو وہ مایوس ہو کر کفر وشرک تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ہم اپنے معاشرے کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ علاج معالجہ کراتا ہے، دُعائیں کرتا ہے لیکن پھر بھی جب اولاد نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کے درباروں اور استھانوں کے چکر لگاتا ہے۔ ان کو خدا کی ایک صفت میں شریک وسہیم بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اچھا خاصا آدمی محض اولاد سے محرومی کے دکھ میں شرک کر بیٹھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صبرو استقامت سے کام لیا جائے۔کنکر نہیں ہیرےایک قافلہ ایک اندھیری سُرنگ سے گزر رہا تھا کہ اُن کے پائوں میں کنکریاں چبھیں۔ کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ کسی اور مسافر کو نہ چبھ جائیں، نیکی کی خاطر اُٹھا کر جیب میں رکھ لیں۔ کچھ نے زیادہ کچھ نے کم۔جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تو دیکھا وہ ہیرے جواہرات تھے۔ جنھوں نے کم اُٹھائے وہ پچھتائے کہ کم کیوں اُٹھائے۔ جنھوں نے زیادہ اُٹھائے اور بھی زیادہ پچھتائے۔دُنیا کی زندگی کی مثال اُس اندھیری سُرنگ کی سی ہے۔ نیکیاں یہاں کنکریوں کی مانند ہیں۔ اس زندگی میں جو نیکی کی وہ آخرت میں ہیرے موتی جیسی قیمتی ہو گی اور انسان ترسے گا کہ اور زیادہ کیوں نہیں کیں۔

دلچسپ حقائق

دلچسپ حقائق

ظاہر اور باطنایک اسلامی ملک کی اہم شخصیت علامہ اقبال کی مہمان تھی۔ اس کے اعزاز میں دعوت کے موقع پر چوہدری صاحب نے علامہ اقبال سے سرگوشی کے انداز میں کہا: ''آج مذاق سے باز رہنا‘‘۔جب معزز مہمان کا حاضرین سے تعارف کروایا جانے لگا تو چوہدری شہاب الدین کی باری پر علامہ اقبال نے کہا: ''یہ ہیں ہمارے دوست چوہدری شہاب الدین، منافقت کے اس دور میں مخلص اور صاف باطن کے مسلمان ہیں۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے‘‘۔ یہ سُننا تھا کہ تقریب میں شریک تمام لوگ بے اختیار ہنس پڑے۔سکندراعظم کی لاتڈیماستھز یونان کا مشہور خطیب تھا۔ جب سکندراعظم نے ایتھنز فتح کیا تو دیکھا کہ ڈیماستھز کہیں دور پڑا ہوا ہے۔ سکندراعظم نے اُسے ایک لات ماری۔ اس نے سکندراعظم سے پوچھا:''تم کون ہو؟‘‘سکنداعظم نے فخر سے کہا: ''میں بادشاہ یونان ہوں‘‘۔ڈیماستھز نے کہا: ''ہاں ممکن ہے کہ آپ یونان کے بادشاہ ہوں مگر لات مارنا تو گدھے کا کام ہوسکتا ہے‘‘۔کم عمر ترین گوریلا لیڈرمیانمار (برما) کے گوریلا نسلی گروپ ''خدا کی فوج‘‘ (God's Army) کے لیڈر 12 سالہ جڑواں بھائی ہیں۔ یہ دونوں جڑواں بھائی جانی (Johnny) اور لوتھر ہتو (Luther Htoo) میانمار حکومت کو مطلوب ہیں۔ 24 جنوری 2000ء کو ان دونوں بھائیوں نے رچابوری (تھائی لینڈ) کے ایک ہسپتال میں 700 افراد کو 24 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔سول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچسول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچ 12 مارچ 1930ء کو موہن داس کرم چند گاندھی نے انگریز سرکار کے خلاف شروع کیا۔ اس کا مقصد انگریزوں کی طرف سے نمک پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ گاندھی نے اپنے 78 حامیوں کے ساتھ 241 میل لمبا پیدل مارچ کیا۔ یہ مارچ سابرمتی آشرم سے شروع ہوا اور 5 اپریل 1930ء کو ڈانڈی (گجرات) میں ختم ہوا۔دُنیا کے مقبول ترین قوالنصرت فتح علی خان کو قوالی کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔ 1997ء میں اپنی وفات تک نصرت فتح علی خان کے قوالی کے 125البم مارکیٹ میں آچکے تھے۔ اُنھوں نے دُنیا کے متعدد ممالک میں فن کا مظاہرہ کر کے غیرملکیوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ جاپانی خاص طور پر ان کے زبردست مداح تھے۔ 1995ء میں امریکہ کے ایک کنسرٹ میں انھیں زبردست پذیرائی ملی۔برائے نام 4لاکھ سرکاری ملازمجنوری 1985ء میں افریقی ملک کینیا کے سرکاری تحقیقاتی کمیشن نے ایک عجیب انکشاف کیا کہ ملک کے 4لاکھ سرکاری ملازمین کوئی وجود نہیں رکھتے مگر ان کی تنخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے سرکاری خزانے سے وصول کی جاتی ہے۔ کینیا میں اکائونٹنگ کے پیچیدہ نظام کے باعث ان جعلی ملازمین کو نہ پکڑا جا سکا حالانکہ اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے کئی کوششیں کی گئیں۔سانپوں کی اقسامدُنیا میں سانپ کی تین ہزار نسلیں پائی جاتی ہیں، جن کو دس بڑے خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ''اندھا سانپ‘‘ یا ''کیچوا سانپ‘‘ کی ایک سو اسّی قسمیں ہوتی ہیں۔ یہ سانپ کیچوے کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کی لمبائی دس سے پندرہ سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان کا جسم ملائم، چمکدار چانوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ سُرخی مائل بھُورا یا کالا ہوتا ہے۔ یہ سانپ اندھے ہوتے ہیں اور صرف روشنی اور اندھیرے میں تمیز کر سکتے ہیں۔ یہ ساری زندگی زیرزمین رہتے ہیں اور چیونٹی کے انڈے، دیمک کے انڈے اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ اس سانپ کی مادہ اپریل سے لے کر مئی تک تین سے آٹھ انڈے دیتی ہے۔ ڈیڑھ سے دو ماہ میں ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ زمین میں سوراخ بنا کے اس میں رہتا ہے۔ یہ سانپ نوانچ سے لے کر دو فٹ لمبے ہوتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے اور خاص طور پر دیمک کھاتے ہیں۔ یہ دُنیا کے گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے تمام دانت اُوپر والے جبڑے میں ہوتے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے سانپ ''ڈوری سانپ‘‘ کی چالیس قسمیں ہوتی ہیں۔ ان کے دانت فقط نچلے جبڑے میں ہوتے ہیں اور یہ بھی دُنیا کے گرم ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔دلچسپ مقدمہدسمبر 1985ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژنل بنچ نے ایک مقدمہ قتل میں 19سال قبل بری ہونے والے ملزم شہریار کے خلاف حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے سزائے عمر قید کا حکم سنایا۔ ملزم شہریار کے خلاف 1966ء میں ایک شخص عبدالعزیز کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ 1967ء میں ایڈیشنل سیشن جج جھنگ نے ملزم کو اس مقدمہ سے بری کر دیا تھا جس کے خلاف حکومت کی جانب سے اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت فاضل عدالت عالیہ میں دسمبر 1985ء میں 19سال بعد ہوئی۔ ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ فاضل عدالت نے مقدمہ کے مدعی محمد طفیل کے وکیل اور سرکاری وکیل کی سماعت کے بعد 19سال قبل بری ہونے والے ملزم کو سزائے عمرقید کا حکم سنا دیا۔بنچ پر نام لکھنے کی سزامارچ 2003ء میں رڈنگ (برازیل) کی عدالت میں ضمانت کے لئے آنے والے 43 سالہ شخص کو بنچ پر اپنا نام کھودنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ آوارڈو ریویرا پر چوری کا مال خریدنے کا الزام تھا اور وہ اپنی ضمانت کے لئے کمرہ عدالت میں اپنی باری کا منتظر تھا۔ ریویرا کو ہر جگہ اپنا نام لکھنے کی بری عادت تھی چنانچہ وہ عدالت میں بھی فارغ نہ بیٹھ سکا اور اپنے سامنے پڑے بنچ پر اپنا نام کھودنا شروع کر دیا۔ عدالت میں موجود پولیس افسر نے جب اسے کام میں مصروف دیکھا تو چپکے سے اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پولیس افسر نے وہیں جج کو بتایا کہ پہلے مقدمے میں ضمانت کے لئے آنے والا کمرئہ عدالت میں جرم کا مرتکب ہو رہا ہے جبکہ جرم کا ثبوت بھی موجود ہے جس پر جج نے حکم دیا کہ ضمانت کی بات تو بعد میں ہو گی پہلے ریویورا کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا پولیس نے ریویرا کو ہتھکڑی لگائی اور جیل بھیج دیا۔سب سے پہلا پاکستانی بینکقیام پاکستان کے بعد پہلا کاروباری بینک ''مسلم کمرشل بینک‘‘ (MCB) تھا، جس کا قیام 9جولائی 1947ء کو کلکتہ (بھارت) میں عمل آیا۔ قیام پاکستان کے بعد 17اگست 1948ء کو اسے ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) منتقل کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے پاکستان میں قائم ہونے والا یہ پہلا بینک ہے۔ 23اگست 1956ء کو اس کا مرکزی دفتر کراچی میں قائم کیا گیا۔ یکم جنوری 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت نے بینکوں کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو یہ بینک بھی حکومتی تحویل میں آگیا۔ نیز اس میں پریمیئر بینک لمیٹڈ کو بھی ضم کر دیا گیا۔ جنوری 1991ء میں نجکاری کے بعد اسے نجی شعبے میں دے دیا گیا۔تین پائوں والا شخصمیکسیکو کے ایک شخص جوزلوپیز (Jose Lopez) کے تین پائوں تھے۔ اس کا ایک ہی ٹخنہ اور چار انگلیاں تھیں۔ یہ تیسرا پائوں اس کی بائیں ٹانگ کے ٹخنہ کے ساتھ ہی قدرت نے جوڑ رکھا تھا۔معمر ترین میراتھن کھلاڑی٭ مردوں میں عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز یونان کے ڈائمٹر یون یور داندس (Dimitrion Yordandis) کے پاس ہے۔ اس نے 98 برس کی عمر میں 10 اکتوبر 1976ء کو ایتھنز (یونان) میں یہ ریکارڈ قائم کیا اس کا دورانیہ 7 گھنٹے 33 منٹ تھا۔٭ عورتوں میں دنیا کی عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز جینی وڈایلن کے پاس ہے جس کا تعلق ڈونڈی (سکاٹ لینڈ) سے تھا۔ 1999ء میں جب جینی نے انگلینڈ میراتھن ختم کی تو اس کی عمر 87 سال جبکہ دورانیہ 7 گھنٹے 15 منٹ تھا۔

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

جدید طرز احساس کے شعراء میں ریاض مجید کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خوبصورت غزل کے معیارات کا خود ہی تعین کیا اور اپنی قوت متخیلہ کو بڑی نفاست اور عمدگی سے شعری لباس پہنایا۔ ان کی شاعری میں ہمیں شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کا وہ سنگم ملتا ہے جس کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے۔ وہ جمالیاتی احساس کو بھی شاعری کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ معروضی صداقتوں کی گونج بھی ان کے اشعار میں ہے اور معاشرتی کرب کی جھلکیاں بھی ہمیں ان کے اشعار میں ملتی ہیں۔ انہوں نے مضمون آفرینی کے ساتھ ساتھ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ہے شعر۔ریاض مجید کا اصل نام ریاض الحق ہے۔ وہ 13 اکتوبر 1942 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں پروفیسر کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ ان کی تصانیف میں گزرتے وقت کی عبادت ''پس منظر‘‘ ،''نئی آوازیں‘‘، 'رفحان میں ایک شام‘‘ شامل ہیں۔ اردو کے علاوہ مجید نے پنجابی زبان میں بھی اپنی شعری صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ریاض مجید کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں ابلا غ کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں۔ وہ کچھ کہتے ہیں بڑی وضاحت سے کہتے ہیں۔ قاری کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتے۔ ان کے خیال کی ندرت انہیں ایک عمدہ غزل گو تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔ ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمایئے جو ان کی شناخت بن چکا ہےمیرا دکھ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیںمیں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوںاس دکھ کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے اسے جھیلا ہو۔ یہ شعر بے بسی کا استعارہ ہے۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ناکامی کے اندھیرے آپ کا مقدر ہیں۔ اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوسکتی ہے۔ تنہا لڑائی اگر نہیں لڑسکتے تو پھر اس لشکر میں شامل ہوجائیے جس کے لوگ آپ ہی کی طرح جری اور جانباز ہیں۔ اس شعر کے اندر فلسفہ بھی ملتا ہے اور ایک موثر پیغام بھی۔ریاض مجید کے بے شمار اشعار ایسے ہیں جن کا دوسرا مصرعہ پڑھ کر قاری ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ مصرعہ اولیٰ کی تاثریت مصرعہ ثانی مکمل کردیتا ہے اور منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔ذرا مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کریں۔وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئےرو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئےجی میں آتا ہے بکھر کر دہر بھر میں پھیل جائوںقبر لگتی ہے بدن کی چار دیواری مجھےدیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیںگزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر ہوں میںہمارے جدید طرز احساس کے کئی شعرا سیاسی اور سماجی حالات کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ریاض مجید نے کس مہارت اور نفاست سے وہ المیہ بیان کیا ہے جس کا تعلق اس ملک کے کروڑوں عوام سے ہے۔ انہوں نے اپنی غزل کے ایک مصرعے میں ''اشرافیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو ہماری سیاست کی زبان میں سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طورپر وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن کی سیاست کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لئے یہ لفظ بڑا شاندار لفظ ہے اور وہ''اشرافیہ‘‘ کو ہدفت تنقید بنا کر عوام کے سارے مسائل کا ذمہ دار انہیں گردانتے ہیں۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کیلئے انہیں پھر اسی اشرافیہ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ان کے نظریات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال ریاض مجید کا یہ شعر زبردست داد کا مستحق ہے جس میں شعریت بھی ہے اور معروضی صداقتوں کا والہانہ اظہار بھیبہت بے زار ہیں اشرافیہ کی رہبری سےکوئی انسان کوئی خاک زادہ چاہتے ہیںشاعر نے اشرافیہ کو انسانوں کی فہرست ہی سے خارج کردیا ہے۔ اس شعر پر بہت طویل بحث ہوسکتی ہے۔ میں نے جتنی اردو شاعری پڑھی ہے اس میں اشرافیہ کا لفظ پڑھنے کو نہیں ملا۔ مجھے مجید امجد یاد آئے جو وہ شعری زبان استعمال کرتے تھے جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ انہوں نے بہت سے نئے الفاظ استعمال کئے۔ مضمون آفرینی کے حوالے سے ان کا ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔ہر کسی غم کی وہی شکل پرانی نکلیبات کوئی بھی ہو تیری ہی کہانی نکلیتنہائی کے حوالے سے بہت سے شعراء نے بڑے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ کسی نے تنہائی کو مثبت انداز میں لیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تنہائیوں کا اپنا ایک حسن ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھامقام رنج ہے تنہائیوں نے مل کر آجواہ اپنا حسن بھی کویا ہے انجمن بن کرلیکن ریاض مجید جس تجربے سے گزرے ہیں وہ ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ وہ تنہائی کے آرزو مند نہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ محفلوں نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ تنہائیاں ہی ان کا مقدر ہیں۔ کہتے ہیں۔کھلا یہ بھید کہ تنہائیاں ہی قسمت ہیںاک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھینکتہ آفرینی شاعری کا ایک بہت بڑا وصف ہے۔ ریاض مجید نے وہ رومانوی شعر کہا ہے جو کوئی اور شاعر نہ کہہ سکا۔ عام طورپر شاعر محبوب کے نہ ملنے کو اپنی بد نصیبی قرار دیتا ہے اور اس کا دل حزیں اس محرومی کی چکی میں پستا رہتا ہے لیکن ریاض مجید نے اس حوالے سے کیا نکتہ نکالا ہے ذرا غور کیجئے۔زندگی تھوڑی تھی ہم کو اور بھی سو کام تھےورنہ اک تجھ کو ہی پانا تو کوئی مشکل نہ تھااب آپ اسے کیا کہیں گے یہ نکتہ آفرینی بھی ہے اور ندرت خیال بھی ریاض مجید نے جدید غزل کے امکانات کو وسیع کیا۔ جسم کو کئی ایسے مضامین کا لباس پہنایا جس سے قاری کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ انہوں نے فطری حقائق سے بھی کبھی نظریں نہیں چرائیں۔ جدید طرز احساس کے ساتھ ساتھ ان کا شعری طرز احساس بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جب کوئی شاعری ان دونوں اوصاف کی حامل ہو تو ادب کا کون سا قاری ایسا ہوگا جو ایسی شاعری کو نظر انداز کرے گا۔ریاض مجید شاعری میں کسی ایک دھڑے ے وابستہ نہیں ہیں۔ نہ ان پر ترقی پسندی کا لیبل لگا اور نہ ہی وہ روایتی اور کلاسیکل مکتبہ فکر کے داعی ہیں۔ ان کا شاعری کا کینوس وسیع ہےریاض مجید کے شعری خزانے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اردو غزل کے قارئین ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہیں گے۔

قرضوں کے موسم

قرضوں کے موسم

یہ موسم سدابہار موسم ہے اس اقلیم ریاست کے منصئہ شہود میں آتے ہی قرضوں کا موسم بھی چل نکلا۔ سال میں کسی بھی وقت یہ موسم بر پا ہوسکتا ہے۔ اس موسم کے آتے ہی ارباب اختیار سکھ کا سانس لیتے ہیں اور عوام کوڈ نگ ٹپاؤ پروگراموں اور سبز باغات میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ کچھ نو آورد اس موسم کو نا پسند کرتے ہیں اسے ریاست سے ختم کرنے کے دعوے بھی کرتے ہیں مگر واعظ کی یہ سب باتیں نہ تجربہ کاری پہ مبنی ہوتی ہیں اور بالآخر منتیں مان کر ان کے روٹھے موسموں کو منایا جا تا ہے۔ پہلی باراس موسم نے ہمارا دروازہ ساٹھ کی دہائی میں کھٹکھٹایا۔ بادی النظریہ خاصاً خوشگوار موسم ہوتاہے مگر یہ قوموں کے ہاتھوں میں کشکول تھما جاتا ہے۔ ریاستوں کی کوری کوری چنر یا پہ معاشی داغ لگ جاتے ہیں اور وہ داغ چھپائے نہیں چھپتے۔ مستزاد قرضوں سے بھری جھولی کیا سنبھلے کہ سو سو چھید لئے ہے اور پھر رفو گری کی صورت بھی ناپید ہو۔جس سے ریاستوں کی ننگے پاؤں والی ماؤں کے ہر بلاول کامقروض ہو جانا مقدر ٹھہر جاتا ہے۔ان موسموں میں اڑتی پرچیوں پہ ''Beggars are not choosers‘‘لکھا ملتا ہے۔تاہم کبھی کبھار''فرینڈز، ناٹ ماسٹر ‘‘کی سرگوشیاں سنتے کو ملتی رہیں۔ اس موسم کی دل پذیر و ہوشربا سوغات قرض کی مئے ہے جسے پی کر اپنی فاقہ مستیوں میں رنگ بھرنے کی سعی لا حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح قرضوں کی واپسی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ ریاست کے تھنک ٹینک کے مطابق سلطنت وسیاست کے قرض کی ادائیگی تو گدھے کی آنکھ پر جوتے کے برابریعنی انتہائی آسان کام ہے۔ تجویز عام ہے کہ آئی ایم ایف کی مائی سے قرض کی بھیک لینے کی بجائے اپنے گزیٹڈ افسران،ججز،ضلعی افسران ، وکیل، ڈاکٹر ، پٹواری ، بیوروکریٹس، فوجی افسران ، فیکٹری مالکان، وزیر مشیر اور پچیس ایکڑ سے زائد زمین کے حال زمینداروں سے بیس بیس ہزار قرض لیا جائے۔ مذکورہ بالا حضرات دو کروڑ کے لگ بھگ ہیں اور ان سے کشید کی گئی رقم تقریبا چار کھرب بنتی ہے۔ اسی طرح نان گزیٹڈ سرکاری ملازمین سے دو دو ہزار لئے جائیں۔ اور یہاں پانچ کروڑ سے زائد افراد بیس ہزار ماہانہ کماتے ہیں ان سے صرف پانچ پانچ سو وصولا جائے تو قرض کا آسیب ٹالا جاسکتا ہے۔ ایک عالم بے بدل نے تو قرض اتارنے کا کمال بے مثال نسخہ دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر قرض کی رقم کی ادائیگی کی صورت نہ نکل پائے تو قرض خواہ ممالک کو ٹھوٹھا دکھا دیا جائے۔ اس طرح ان ممالک کے قرض کی واپسی کا تقاضہ جاتا رہے گا۔ قرض لیتے وقت بھی ہماری خودداری قائم ہے۔ اس بات پہ ایک خوددار شاعر کا شعر یاد آ گیا :قرض جو مانگو تومانگواتنی خود داری کے ساتھقرض دینے والا دے کے تجھ سے شرمندہ رہےمگراس موسم میں ارباب گشت و بساد اقبال کی خودی کی بجائے امریکہ کے ڈالر کو بلند کرنے میں جان لگاتے ہیں اور ڈالر کا اقبال اس قدر بلند ہو جا تا ہے کہ اقبال کے شا ہین کی پرواز ہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ قرض کے موسم میں مختلف سائز کے کشکولوں کے لحاظ سے سلطنت خود کفیل ہو جاتی ہے۔کبھی کشکول اعلی تو بھی کشکول اعظم ڈالر، لیرے،یو آن ، ین ، پونڈ، درہم اوردینار سے لیس دکھائی دیتے ہیں۔