نیندر تھل کا قاتل کون…؟
اسپیشل فیچر
دنیا سے نیندرتھل انسان کے خاتمے کا ذمہ دار ہمارے اجداد کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ نیندرتھل 39 ہزار سال قبل ہی فنا ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسانوں کے یہ کزن 23 ہزار سال قبل دنیا سے معدوم ہوئے اور ان کے خاتمے میں جدید انسان کے اجداد کا بھی اہم کردار تھا۔نیندرتھل آج کے انسان سے بے حد ملتے جلتے تھے۔ موجودہ انسان اور نیندرتھل کی جینیاتی ساخت میں 0.12 فیصد فرق پایا جاتا ہے۔ تین لاکھ سال قبل یورپ اور ایشیا میں نیندرتھل کا راج تھا۔ یہ لوگ شکار پر گزارا کرتے اور پتھر سے بنے اوزار استعمال کیا کرتے تھے۔ سائنس دان تاحال ان کے خاتمے کی وجوہات سے آگاہ نہیں ہو سکے۔ اس سلسلے میں یورپ کے مختلف مقامات پر کی گئی تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ نیندرتھل کا آخری گروہ 40 ہزار سال قبل اس خطے میں موجود تھا۔ اس کے بعد یہاں نیندرتھل کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ یوں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نیندرتھل موجودہ اندازے سے 10 ہزار سال قبل ہی کرہ ارض سے معدوم ہو گئے تھے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دوران تحقیق ابتدائی انسان کے ہاتھوں نیندرتھل کی ہلاکتوں کا بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ممکنہ طور پر ابتدائی انسان اور آخری نیندرتھل متعدد مقامات پر اکھٹے رہتے رہے ہیں تاہم ان دونوں میں آویزش کے آثار دریافت نہیں ہو سکے۔ انسانوں کے ہاتھوں نیندرتھل کی ہلاکت سے کہیں زیادہ موثر نظریہ یہ ہے کہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں رہے۔ 50 ہزار سال قبل نیندرتھل بہت کم تعداد میں باقی رہ گئے تھے اور ان کی یہ بچی کھچی نسل موسم کی سختیوں کے باعث فنا ہو گئی۔ نیندرتھل میں باہمی لڑائیاں بھی ان کے خاتمے کا سبب بنیں۔ سائنس دانوں کے مطابق نیندرتھل کے باہمی جھگڑوں میں ماہر شکاری اور جڑی بوٹیوں سے علاج معالجہ کرنے والے افراد ہلاک ہوتے تو ان کی کمی پورے قبیلے پر اثرانداز ہوتی تھی۔ یہ وجہ بھی ان کے خاتمے کا اہم سبب تھی۔ (سجاگ، فیصل آباد)