نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف سےمذاکرات کامیاب ہوں گے،شوکت ترین
  • بریکنگ :- مذاکرات کی ناکامی سے متعلق تاثر غلط ہے،شوکت ترین
  • بریکنگ :- ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات کافی اچھی رہی،شوکت ترین
  • بریکنگ :- ہم نے اپنی ریڈ لائن کراس نہیں کرنی،شوکت ترین
  • بریکنگ :- ماضی میں ہماری برآمدات اتنی اچھی نہیں رہیں،شوکت ترین
  • بریکنگ :- ماضی میں ایکس چینج ریٹ اتنادبایاکہ خزانہ خالی ہوگیا،شوکت ترین
  • بریکنگ :- بینکر ہمیشہ ڈومورکاہی مطالبہ کرتاہے،شوکت ترین
  • بریکنگ :- سکریٹری خزانہ اس وقت بھی واشنگٹن میں موجود ہیں،شوکت ترین
  • بریکنگ :- قوم کوناامید نہیں ہوناچاہیے،شوکت ترین
Coronavirus Updates

گڑ…غذا بھی، دوا بھی

گڑ…غذا بھی، دوا بھی

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر محمد رشید


عربی: فارلیذ فارسی: قندسیاہ بنگالی: گڈ انگریزی: Jaggeryگنے کے رس کو پکا کر جمالیا جاتا ہے۔ قوام کو سخت بنا کر ہاتھوں سے مل کر سفوف بنا لیں تو اس کو شکر سرخ کہتے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ رنگ سرخی مائل سیاہ اور زرد بھی ہوتاہے اور ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اس کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں تر ہوتا ہے۔ پرانا گڑ گرم و خشک ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک چار سے چھ تولہ تک ہے۔ اس کے درج ذیل فوائد ہیں۔گڑ کے فوائد:1۔ کھانے کو ہضم کرتاہے۔2۔ طبیعت کو نرم کرتا ہے۔3۔ بلغم کو چھانٹتا ہے ۔4۔ دمہ، کھانسی اور درد سینہ میں گڑکو کالی مرچ اور ادرک کے ہمراہ پکا کر کھانا بے حد مفید ہے۔5۔ ہم وزن نمک اور شہد کو کوزہ میں بند کر کے گل حکمت کریں پھر اسے جلا کر چاٹنا کھانسی کے لیے مفید ہے۔6۔ گوشت کو گلانے کے لیے اگر اس میں گڑ ڈال دیا جائے تو جلدی گل جاتا ہے۔7۔ بعض معجونات میں اطباء اکرام شہد کی بجائے گڑ کا قوام استعمال کرتے ہیں۔8۔ جسم کو طاقت دیتا ہے اور موٹا کرتا ہے۔9۔ ایک سال پرانا گڑ خون صاف کرتا ہے اور باہ کو بڑھاتا ہے۔ مگر اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہے۔10۔ گڑ کا استعمال دانتوں اور خون کے لیے مضر ہے۔11۔ گڑ چینی سے زیادہ مفید ہے اور اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
منشی پریم چند، افسانوی ادب کا اہم ستون

منشی پریم چند، افسانوی ادب کا اہم ستون

انہوں نے سماج کے کچلے ہوئے طبقات پربے باکی اور صداقت سے اپنے قلم کو استعمال کیامنشی پریم چند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ناصرف ایک شاندار افسانہ نگار تھے بلکہ ناول نویس بھی کمال کے تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 300 افسانے اور 12 ناول تحریر کیے۔ ان کی تحریروں کا سب سے بڑا وصف سماجی حقیقت نگاری تھا۔پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے سری واستو تھا۔ وہ 31جولائی 1880ء کو بنارس میں پیدا ہوئے۔ سات برس کی عمر میں انہوں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔جہاں انہوں نے اردو اور فارسی پڑھی۔ کہانیاں لکھنے کا شوق پریم چند کو بچپن سے ہی تھا۔ انہیں کتب بینی سے بڑی رغبت تھی اور وہ ہر وقت مطالعے میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے ایک کتب فروش کے ہاں نوکری کرلی اور کتابیں فروخت کرنا شروع کردیں۔ یہاں انہیں بہت سی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزی انہوں نے ایک مشزی سکول میں سیکھی۔ پھر انہوں نے مغربی ادب کا مطالعہ کیا۔1897ء میں ان کے والد کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ میٹرک کرنے کے بعد پریم چند کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ 1919ء تک پریم چند کے چار ناول شائع ہو چکے تھے۔کسی ناول کی ضخامت 100 صفحات سے زیادہ نہیں تھی۔ان کا پہلا بڑا ناول ''سیواعدن‘‘ ہندی میں شائع ہوا۔ اصل میں یہ ناول پہلے اردو میں تحریر کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا ''بازارِ حسن‘‘۔ 1924ء میں لاہور کے ایک پبلشر نے اس ناول کو شائع کیا۔ جس کا نام تھا ''دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘۔ اس کہانی کے مطابق دنیا کا سب سے انمول رتن خون کا وہ آخری قطرہ ہے جو آزادی حاصل کرنے کیلئے بہایا جاتا ہے۔ پریم چند کے ابتدائی افسانوں میں قوم پرستی کی بڑی واضح جھلکیاں ملتی ہیں اور یہ افسانے بھارت کی تحریک آزادی سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔ ان کا دوسرا ناولٹ ''ہم خما وہم نواب‘‘1907ء میں شائع ہوا۔ اس ناول میں ہندو معاشرے میں بیوہ کی شادی کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ ناول کا ہیرو تمام رسموں اور روایات کو پس پشت ڈال کر ایک نوجوان بیوہ سے شادی کر لیتا ہے۔ دیکھا جائے تو اپنے زمانے کے حوالے سے یہ ایک انقلابی ناول تھا اور پریم چند نے اس موضوع پر ناول لکھ کر بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا تھا۔1907ء میں ہی پریم چند کا ایک اور ناولٹ ''کشنا‘‘ منظرعام پر آیا۔ اس میں عورتوں کی زیورات سے محبت پر طنز کی گئی تھی، ان کی طنز میں ایسی کاٹ تھی کہ اس زمانے کے نقادوں اور ادب کے قارئین نے ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ پھر پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ''سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں اس افسانوی مجموعے پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ اس میں چار افسانے ایسے تھے جن میں ہندوستان کے لوگوں کو سیاسی آزادی کے حصول کی ترغیب دی گئی تھی۔ پریم چند کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں ''سوزِ وطن‘‘ کی 500 کاپیوں کو جلا دیا گیا۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس وقت تک پریم چند نواب رائے کے نام سے لکھتے تھے۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنا نام پریم چند رکھ لیا۔منشی پریم چند کے مشہور اردو ناولوں میں ''بازارِ حسن‘‘، ''گئودان‘‘، ''بیوہ‘‘، ''نرملا‘‘ اور ''میدانِ عمل‘‘ شامل ہیں۔ ان کے پسندیدہ موضوعات جاگیرداری، سماجی اور معاشی ناہمواریاں ، بدعنوانی اورعورتو ں کا استحصال ہے ۔ ''نرملا‘‘ ایک دردناک ناول ہے۔ ''بیوہ‘‘ میں منشی پریم چند نے قارئین کو یہ بتایا ہے کہ ہندو معاشرے میں ایک بیوہ پر کیا گزرتی ہے۔ اس کی زندگی دردناک اور سسکتے ہوئے لمحوں کی داستان بن جاتی ہے۔پریم چند کی قوتِ مشاہدہ بھی بڑی زبردست ہے۔ ناولوں کی طرح ان کے افسانوں میں بھی سماجی حقیقت نگاری کا واضح عکس ملتا ہے۔ انہوں نے سماج کے کچلے ہوئے طبقات کے بارے میں جس بے باکی اور صداقت سے اپنے قلم کو استعمال کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ جب ہم سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ادب سماج کا آئینہ ہے تو پھر ادب میں سماج کا عکس نظر آنا چاہیے۔ ان کے لازوال افسانوں میں ''کفن‘‘، ''بڑے گھر کی بیٹی‘‘، ''عیدگاہ‘‘، ''پوس کی رات‘‘، ''نمک کا داروغہ‘‘ اور ''لاٹری‘‘ شامل ہیں۔ ان کا شمار اردو اور ہندی زبان کے عظیم ترین ناول نگاروں اور افسانہ نویسوں میں ہوتا ہے۔پریم چند نے غربت اور جہالت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کا عظیم افسانہ ''کفن‘‘ پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ غربت اور جہالت کے اندھیرے انسان کو زندگی کے مفہوم سے ناآشنا کر دیتے ہیں اور وہ دنیا کی بدترین مخلوق بن جاتا ہے۔ ان کے کئی افسانوں پر بھارت میں آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ انہوں نے سماجی حقیقت نگاری اور ترقی پسندی کا جو پودا لگایا تھا وہ بعد میں تناور درخت بن گیا۔ سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور غلام عباس کے افسانوں میں پریم چند کی فکر کے سائے ملتے ہیں۔ انہوں نے لکھاریوں کو یہ بھی سمجھایا کہ ہوائوں میں چراغ نہ جلا ئیں، چراغ ہمیشہ اندھیرو ں میں جلایا کرتے ہیں۔ پریم چند ہندی اور اردو ادب کا تابندہ ستارہ تھے۔ انہوں نے جرأت اور صداقت کی شمعیں فروزاں کیں۔ 8 اکتوبر 1936ء کو یہ بے بدل افسانہ نگار اور ناول نویس 56 برس کی عمر میں چل بسا۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیںاور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے ۔دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں)

خواہش کا کنواں

خواہش کا کنواں

کسی گاؤ ں میں پہاڑی کے نیچے ایک چشمہ بہتا تھا۔ اسی پہاڑی کی چوٹی پر ایک پرانا ٹوٹا پھوٹا سا کنواں تھا جس کی دیواریں لکڑی کی تھیں جوبوسیدہ ہوچکی تھیں۔اس کنوئیں کے ساتھ ہی ایک لکڑی کی بالٹی رکھی تھی۔ صرف ایک چیز جس نے اس پرانے کنوئیں کو سب کا مر کز نظر بنایا ہوا تھا۔ وہ اس کنوئیں کی دیوار پر کھدے ہوئے تین الفاظ تھے : خواہش کا کنواں۔ایک دفعہ ایک لڑکے کا وہاں سے گزر ہوا اور اس کی نظر کنوئیں پر درج الفاظ پر پڑی۔ یہ شخص بہت اور لالچی تھا۔ اس نے ایک نظر کنوئیں کو دیکھا اور اسے آزمانے کا سوچا۔ اس نے جلدی سے آنکھیں بند کر کے بہت سارا سونا حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔کچھ دیر بعداس نے آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔دل ہی دل میں اس نے کنوئیں کو برا بھلا کہا۔ جانے سے پہلے اس نے کنوئیں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران ہو ا کہ سونے سے بھرا ایک بڑا سا برتن کنوئیں میں تیر رہا ہے۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر برتن اٹھانے کی کوشش کی مگر ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکا۔ پھر اس نے قریب پڑے ایک ڈنڈے سے سونے کی ہانڈی نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔اس نے کئی بار مختلف انداز سے وہ برتن اٹھانے کی کوشش کی مگر ہر بار وہ ناکام و نامراد رہا۔اسے بہت غصہ آیا اور بالآخر وہ تھک ہار کر کنویں کو برا بھلاکہتا واپس لوٹ گیا۔ اس کے جاتے ہی وہ سونے سے بھرا برتن بھی پانی کی سطح سے غائب ہو گیا۔کچھ دن بعد ایک دوسرے لڑکے کا اسی کنوئیں سے گزر ہوا،اس نے بھی کنوئیں پر کھدے تین الفاظ (خواہش کا کنواں) پڑھے اور متجسس ہوا کہ میں بھی اس کنوئیں سے خواہش کر کے دیکھوں کہ یہ پوری ہوتی ہے یا نہیں ۔وہ لڑکا سوچنے لگا کہ آخر میں کیا مانگو؟اس وقت کون سی چیز میری زندگی میں سب سے زیادہ ضروری ہے ؟تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے ایک ہیرے کی انگوٹھی کی خواہش کی۔جب آنکھیں کھولیں اور ادھر ادھر دیکھا تو کچھ نہ پایا۔جب جھک کر کنویں میں دیکھا تو کنویں کی سطح پر ایک بہت قیمتی ہیرے کی انگوٹھی تیرتی ہوئی نظر آئی۔پہلے والے لڑکے کی طرح اس نے بھی ہاتھ بڑھا کر انگوٹھی اٹھانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔پھر درخت کی ایک ٹہنی سے بھی انگوٹھی نکالنے کی کوشش کی مگر بے سود۔اب یہ نوجوان سوچنے لگا کس طرح اس انگوٹھی کو حاصل کیا جائے۔یکایک اس کے دما غ میں ایک خیال آیا اور وہ سمجھ گیا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔اس نے کنویں کے ساتھ رکھی بالٹی اٹھائی اور پہاڑ سے نیچے ندی کی طرف چل پڑا۔ ندی سے بالٹی میں پانی بھرا اور واپس پہنچ کر وہ پانی اس کنوئیں میں ڈال دیا اور دوبارہ ندی سے پانی بھرنے چل دیا۔اس طرح اس لڑکے نے کنوئیں کو پانی سے بھرنا شروع کیا۔جیسے جیسے کنوئیں میں پانی کی سطح بلندہوتی جا رہی تھی ویسے ویسے اس کی خواہش(ہیرے کی انگوٹھی) اس سے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی اور بالآخر وہ انگوٹھی پانی کے ساتھ اتنی اوپر آگئی کہ لڑکے نے باآسانی ہاتھ بڑھا کر وہ انگوٹھی اٹھالی اور واپس اپنے راستے پر چلا گیا۔یہ '' خواہش کا کنواں ‘‘ ہم سب کی زندگی میں بھی موجود ہوتا ہے اور ہم سب اس میں موجود خواہشات کو حاصل کر سکتے ہیں۔جب ہم اپنا ہدف مقرر کر لیتے ہیں تو ہمارے مقصد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے اور یہ مقصد کنوئیں میں نیچے کم پانی کے اوپر ہوتا ہے جسے ہم دیکھ تو سکتے ہیں مگر وہ ہماری پہنچ سے دور ہوتا ہے ۔ہم میں سے بہت سے لوگ پہلے والے لڑکے کی طرح جلد اور آسان راستے سے اپنا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ جب اس میں ناکامی ہوتی ہے تو مایوس ہو کر اپنی خواہشات ختم کر دیتے ہیں اور واپس لوٹ جاتے ہیں ۔صرف وہی لوگ سچی کامیابی حاصل کر پاتے ہیں جو اس حقیقت کو سمجھ جاتے ہیں کہ زندگی کی خواہش کا کنواں کس طرح کام کرتا ہے اور کیسے اس کنویں سے اپنی خواہش کا حصول ممکن ہے۔ اپنی خواہش تک پہنچنے کے لئے پہلے ہمیں کنوئیں میں کچھ ڈالنا پڑتا ہے ،محنت کرنا پڑتی ہے، عقلمندی اور صبر سے کام لینا پڑتا ہے ۔تب ہی جا کر محنت کا پھل صحیح حقدار کو ملتا ہے ۔زندگی کا بھی یہی اصول ہے ،لینے سے پہلے دینا پڑتا ہے ۔ اگر ہم زندگی کو مقصدیت، محنت، سچائی ،لگن اور مستقل مزاجی دیتے ہیں تو جواباً زندگی ہمیں بھی کامیابی، سکون اور خودتوقیری دیتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے دوسرے لڑکے نے اس حقیقت کو سمجھا کہ اپنا مقصد اور خواہش حاصل کرنے کے لیے پہلے کچھ ہمت ،طاقت اور وقت صرف کرنا ہے ،تب ہی وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کر سکے گا۔(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ مندرجہ بالا مضمون ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے)

حکایت سعدی،خاموشی کا راز

حکایت سعدی،خاموشی کا راز

مصر کی کسی بستی میں ایک گڈری پوش فقیر رہتا تھا۔ وہ کسی سے بات چیت نہ کرتا تھا اور اس کی یہ خاموشی لوگوں کے لئے اس کی بزرگی کا ثبوت بن گئی۔لوگ اسے بزرگ خیال کر کے پروانوں کی طرح گرد جمع رہتے تھے۔شامت ِ اعمال ایک دن اس شخص نے سوچا کہ اتنی مخلوق جو میرے گرد جمع رہتی ہے یہ لازمی طور پر میرے صاحب کمال ہونے کی وجہ سے ہے اور مجھے چاہئے کہ لوگوں پر اپنا کمال ظاہر کروں۔خاموش رہا تو لوگوں کو کیا معلوم ہو گا میں کتنا بڑا بزرگ ہوں۔یہ سوچ کر اس نے مہر خاموشی توڑی اور عقیدت مندوں سے گفتگو کا سلسلہ شروع کردیا ۔اگر صاحب ِ کمال ہوتا تو اس کی دانائی کی باتوں سے لوگوں کے دلوں میں اس کی عقیدت زیادہ ہوتی لیکن وہ تو نرا جاہل تھا ،لوگوں نے اس کی الٹی سیدھی باتیں سنیں تو اصلیت سے آگاہ ہو گئے اور اس کی ذات سے ان کی عقیدت جاتی رہی۔ حضر ت سعدیؒ فرماتے ہیں :اے ہوش مند! تیرے لئے خاموشی وجہ عزت و وقار ہے۔ یہ ایک ایسا وصف ہے جو جاہل کے عیوب بھی چھپاتا ہے۔ پس لازم ہے کہ بے ضرورت اور بغیر سوچے سمجھے زبان کو حرکت نہ دے۔داناؤں کا قول ہے کم بولنا ،کم کھانااور کم سونا، انسان کے لئے بہت سی بھلائیوں کا باعث بنتا ہے۔حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں کم بولنے کے فائدوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ کم گو انسان ہمیشہ معزز رہتا ہے۔

لیو ڈرون روبوٹس ٹیکنالوجی میں بھونچال ، یہ روبوٹ پانی پر چلنے ، ہوا میں اڑنے اور خطرناک مقامات پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

لیو ڈرون روبوٹس ٹیکنالوجی میں بھونچال ، یہ روبوٹ پانی پر چلنے ، ہوا میں اڑنے اور خطرناک مقامات پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

ایک ایسے روبوٹ کے بارے میں سوچنا جو بحری سفر بھی کر سکتا ہو اور ہوا میں اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، کسی سائنس فکشن سے کم نہیں۔ یہ روبوٹ 2.5 فٹ لمبا ہے۔ اس کے دو پائوں ہیں اور اس کو دھکیلنے کے لئے سوئچ آن کرنا پڑتا ہے تاکہ یہ ہوا میں اڑ سکے۔ جس ٹیم نے یہ روبوٹ بنایا ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ ایک دن ایسا کام کر سکتا ہے جو آج کل کے ڈرون نہیں کر سکتے۔ ڈرون تو کیا بلکہ یہ کام دوسرا کوئی روبوٹ یا انسان بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ روبوٹ کوئی قصہ کہانی نہیں بلکہ یہ حقیقی شکل میں موجود ہے اور اسے ''لیونارڈو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لیونارڈو کو مختصراً ''LEO‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے ڈرونز روبوٹس کے مختلف اجزاء سے بنایا گیا ہے۔ ٹیم کا مزید کہنا ہے کہ ''لیو‘‘ کسی دن ایسے کارنامے انجام دے سکتاہے جو موجودہ روبوٹس کے بس کا کام نہیں۔ ماحولیاتی حوالے سے یہ روبوٹ ان خطرناک مقامات پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں کوئی دوسرا روبوٹ یا کوئی انسان نہیں پہنچ سکتا۔ تاہم اس ٹیم نے یہ نہیں بتایا کہ ''لیو ‘‘ تجارتی مقاصد کے لئے کب دستیاب ہو گا اور یہ کتنا مہنگا ثابت ہو گا کیونکہ یہ ابھی تک تحقیق کے تمام مراحل طے نہیں کر سکا ہے۔''لیونارڈو‘‘ 5.6 پائونڈ وزنی روبوٹ ہے اور دو پائوں والا یہ روبوٹ دراصل پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے لشکر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔ یہ لشکر زمین پر چلنے، رینگنے، اور اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جسے نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اڑنے والے روبوٹس جہاں ایک طرف نہایت سودمند ہیں وہیں ان کے کچھ مسائل بھی ہیں۔ ایک تو ان پر توانائی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کی وزن اٹھانے کی استعداد بھی محدود ہوتی ہے۔ اپنی ملٹی ماڈل حرکت کی صلاحیت کی وجہ سے یہ روبوٹ چیلنجنگ ماحول میں دوسرے روبوٹس کی نسبت زیادہ مستعدی سے حرکت کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روبوٹ اپنی حرکت کو مناسب طریقے سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ ''لیو‘‘ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ فضائی اور زمینی حرکت کے درمیان خلاء کو پُرکر سکتا ہے اور یہ خوبی عام روبوٹس میں نہیں ہوتی کیونکہ یہ روبوٹس فضائی اور زمینی حوالے سے آپس میں جڑے نہیں ہوتے ''لیو ‘‘ کا ایک اور وصف بہت حیران کن ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں توازن بہت زیادہ ہے۔''لیو‘‘ کی ایک صلاحیت یہ بھی ہے کہ یہ غیر معمولی طور پر بھی حرکت کر سکتا ہے۔ انسانوں میں یہ خوبی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان کے اندر توازن کو برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہو اور اس صلاحیت کو حاصل کرنے کے لئے عام انسان کو خاصی محنت کرنا پڑتی ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ ''لیو‘‘ کی دو ٹانگیں ہیں جن کے تین جوڑ ہیں جو بڑے فعال ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص چلتا ہے تو یہ روبوٹس اپنی پوزیشن درست کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اپنی ٹانگوں کی سمت کا بھی تعین کرتے ہیں۔ چونکہ ''لیو‘‘ ماحول کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے یہ چلنے، اڑنے یا ہائبرڈ حرکت کے بہترین امتزاج کے متعلق خود فیصلے کر سکتا ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ محفوظ طریقے سے کیسے جانا چاہئے اور کم سے کم توانائی کیسے استعمال ہو اس کا فیصلہ بھی یہ ڈرون خود کر سکتا ہے۔ چلتے وقت یہ ڈرون گھومنے والا پنکھا استعمال کرتے ہیں تاکہ چلتے وقت ان کا توازن ٹھیک رہے لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ روبوٹ توانائی کا استعمال مناسب طریقے سے نہیں کرتے۔ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ''لیو‘‘ کی ٹانگوں کے ڈیزائن میں بہتری لائے جائے تاکہ ''لیو‘‘ کو توازن کے ساتھ چلایا جائے اور توانائی بھی کم سے کم استعمال ہو۔

آن لائن انٹرویو کیسے دیں؟

آن لائن انٹرویو کیسے دیں؟

کورونا نے پوری دنیا کے نظام زندگی کو متاثر کیا ہے اور آج بھی زندگی مکمل طریقے سے معمول پر نہیں آ سکی۔مقامی اور بین الااقوامی کمپنیوں نے زیادہ تر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی ہیں گو کہ اب ملازمین دفتروں میں بیٹھ کر بھی کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی اکثر ممالک میں '' ورک فرام ہوم‘‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔کورونا سے قبل کمپنیاں اپنے دفاتر میں انٹرویو لیا کرتی تھیں ، لیکن اب زیادہ تر ادارے آن لائن انٹرویو کرتے ہیں ۔آن لائن انٹرویو کے دوران آپ کو متعدد قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اچانک بجلی بند ہو سکتی ہے، انٹرنیٹ کنکشن بند ہو سکتا ہے اور آپ کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں کوئی بھی تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے ۔اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لئے آن لائن انٹرویو کے دوران چند اہم نکات کا خاص خیال رکھیں۔کمپیوٹر سیٹ اپ:آن لائن انٹرویو کے مقررہ وقت سے پہلے اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو ہر طرح سے چیک کر لیں اور تسلی کر لیں کہ وہ ٹھیک سے کام کر رہے ہیں۔انٹرنیٹ کنکشن بھی چیک کر لیں۔کوشش کریں کہ آپ کا سیٹ اپ انٹرویو شروع ہونے سے 10منٹ پہلے تیار ہو۔جس کمرے میں آپ نے انٹر ویو دینا ہے اس کو صاف ستھرا رکھیں۔انٹر ویو شروع ہونے سے پہلے اپنے آڈیو مائیک کو بھی اچھی طرح چیک کر لیں اور اس بات کی تسلی کر لیں کہ وہ آپ کی آواز ٹھیک سے دوسری جانب پہنچا رہا ہے یا نہیں۔ لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی سکرین کو خود سے اتنے فاصلے پر رکھیں کہ انٹرویو کرنیوالے کو آپ ٹھیک سے نظر آسکیں۔کمرے میں روشنی کا خیال رکھیں: انٹرویو دیتے وقت کمرے میں مناسب روشنی ہو جس سے آپ کی ویڈیو کوالٹی پر اثر نہ پڑے اور آپ کا چہرہ نمایا ں نظر آئے۔ کمرے میں خاموشی ہونی چاہئے کوشش کریں کمرے میں کوئی غیر متعلقہ شخص موجود نہ ہو۔ گھر کے کسی سمجھ دار شخص کو اپنے ساتھ کمرے میں بٹھائیں تاکہ کسی ایمرجنسی یعنی بجلی بند ہونے یا انٹرنیٹ میں کسی مسئلے کی صورت میں آپ کی مدد کر سکے۔ کوشش کریں کہ انٹر نیٹ کے لئے ایک متبادل ڈیوائس پاس رکھیں۔ذہنی طور پر تیار رہیں:آن لائن انٹر ویو کے لئے آپ کا ذہنی طور پر پر سکون رہنا بہت ضروری ہے ،انٹر ویو کے دوران اگر کوئی تکنیکی خرابی آجائے یا بجلی چلی جائے تو گھبرائیں بالکل نہیں اورپرسکون رہیں ۔فوراً کمپنی کو کال کر کے اپنا مسئلہ بتائیں۔ آئن لائن انٹر ویوکے دوران ہوسکتا ہے انٹرویو لینے والا آپ کی بات اس طرح سے نہ سن رہا ہو جس طرح سے آپ سنجیدگی سے انٹرویو دے رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ انٹرویو لینے والا کسی کام میں مصروف ہو، آپ نے اس طرح کی صورتحال میںپریشان نہیں ہونا بلکہ اپنی بات مکمل کرنی ہے۔انٹرویو کے ممکنہ سوالات کے جوابات پہلے سے ہی تیار کر لیں اور جو آپ کہنا چاہتے ہیں ایک مرتبہ اس کی پریکٹس کر لیں تاکہ آپ پراعتماد ہو کر جواب دے سکیں۔ انٹرویو شروع ہونے سے پہلے جس کمپنی کو آپ انٹرویو دے رہے ہیں اس کی تاریخ اور کام کے متعلق تحقیق کر لیں۔ اگر انٹرویو لینے والا شخص مسلسل آپ کی جانب دیکھ رہا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں آپ اپنے کیمرے کی جانب دیکھ کر بات کریں اس سے انٹرویو لینے والے کو یہی لگے گا کہ آپ اس کی جانب دیکھ رہے ہیں اور آپ کی پریشانی بھی دور ہو جائے گی۔انٹرویو پورٹل:انٹرویو دینے سے پہلے معلوم کریں کہ انٹرویو کس پورٹل پرہو گا یعنی اس کے لیے کونسا آن لائن سافٹ وئیر استعمال ہوگا، اپنے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں پہلے سے اس سافٹ وئیر کو انسٹال کر کے ایک مرتبہ چیک کر لیں۔انٹر ویو کا طریقہ کار بھی معلوم کر لیں کہ انٹرویو ایک شخص لے گا یا کوئی پینل،اگر پینل انٹرویو ہو گا تو اس کے لئے آپ کو زیادہ تیاری کرنی ہوگی کیونکہ آپ کی ایک سوچ نے مختلف دماغوں سے نکلنے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔کوشش کریں کہ گھر میں آن لائن انٹرویو دیتے وقت بھی فارمل کپڑے پہنیں ، گھر میں بیٹھ کر انٹرویو دینے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انٹرویو بھی گھر میں پہننے والے کپڑوں میں دیا جائے، یاد رکھیں کہ انٹرویو آئن لائن ہونے سے صرف جگہ بدلتی ہے لیکن پروٹوکول وہی رہتے ہیں۔

بہترین قوت فیصلہ ، کامیاب زندگی کی ضمانت

بہترین قوت فیصلہ ، کامیاب زندگی کی ضمانت

میرا ایک دوست گزشتہ تین سال سے سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سگریٹ نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک دن اس کے سینے میں سخت درد اٹھا تو وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد کہا کہ اس کے قلب کی حالت نازک ہے اور اگر اس نے سگریٹ نوشی نہ چھوڑی تو اگلے چھ ماہ میں اسے شدید حملہ قلب ہو سکتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ موت کے خیال نے یک سر اسے جذباتی طور پر اتنا قوی کر دیا کہ اس دن کے بعد اس نے سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔اگر آپ اپنے تئیں واقعی اس کے قائل ہیں کہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو آپ کو آپ کی من چاہی زندگی سے روک سکے تو آپ دنیا کی ناقابل تسخیر قوت بن جائیں گے۔ آپ کے یقین کی گہرائی اور عزم کی مضبوطی حیران کن طور پر آپ کی قوت بڑھا دے گی۔ اگر آپ کو اپنی قابلیت پر یقین ہے تو آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ خود اعتمادی کا تعلق اندر سے ہے اگر آپ کے اندر چار چیزیں ہیں تو آپ کے اندر خود اعتمادی پروان چڑھے گی۔وضاحت: یہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیجئے کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کس قسم کے انسان بننے کے خواہش مند ہیں۔یقین: اپنے اوپر یہ غیر متزلزل یقین رکھیے کہ آپ کے ذہن میں جو کچھ ہے اور آپ جو چاہتے ہیں وہ آپ کر سکتے ہیں۔عزم: یہ پانے کیلئے جو کچھ کرنا ضروری ہے وہ کرنے کا تہیہ کیجئے۔ آپ کے اہداف کی جو قیمت ہے وہ ادا کرنے کیلئے تیار رہیں۔مستقل مزاجی: روزانہ اپنے اہداف پر کام کیجئے۔ ہر صبح، دوپہر، شام، رات خواہ یہ مقدار میں قلیل ہی ہو، آپ اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے چند قدم ضرور اٹھائیں۔ جب آپ اپنے اہداف کو وضاحت، یقین، عزم اور مستقل مزاجی کے ذریعے قوی کریں گے تو آپ کے اندر خود اعتمادی بڑھتی چلی جائے گی۔خود اعتمادی کے حصول میں اہداف کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ جب آپ کوئی بڑا ہدف طے کرتے ہیں تو آپ کا ذہن متحرک ہو جاتا ہے، واضح اہداف آپ کو غیر متوقع حادثات سے بچاتے ہیں اہداف کو واضح سمت کا احساس دیتے ہیں اور یہ اطمینان کہ آپ کی زندگی آپ کی اپنی مرضی کے مطابق ہے۔اہداف آپ کو طاقت، مقصداور فوکس کا احساس دیتے ہیں۔یہ آپ کو محسوس کراتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔اہداف کے تعین اور منصوبہ بندی کی صلاحیت کامیابی کی بنیادی مہارت ہے جس کے بغیر شاید ہی کامیابی ممکن ہو۔باقاعدہ ہدف کا تعین اور ہدف کا حصول ایسی عادت ہے جسے کسی بھی دوسری عادت سے کہیں زیادہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی زندگی میں ، میں نے ہزاروں طالب علموں کو دیکھا جنہوں نے اہداف کا تعین کیا انہوں نے حیران کن فوائد حاصل کئے۔مجھے میرے لوگ ایسی حقیقی کہانیاں روزانہ بھیجتے رہتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے اہداف لکھے تو ذاتی اور معاشی دونوں سطح پر ان کی زندگی میں کئی گنا بہتری آئی۔یاد رکھئے جو کام ہم کرتے ہیں وہ ہمارے خوف یا خواہش کا نتیجہ ہوتا ہے، خوف ہمیشہ انسان کا سب سے بڑا دشمن رہا ہے۔ یہ آپ کی خود اعتمادی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اپنے اہداف کے تعین کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں موجود ہر قسم کے خوف کو ذہن سے باہر جھٹکنا ہو گا۔ آپ کو سوچنا ہو گا کہ آپ ممکنات کی کائنات میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔