علم کی اہمیت امام غزالی ؒکی نظر میں
اسپیشل فیچر
امام غزالی ؒکامکمل نام محمد بن محمد غزالی ہے، کنیت ابو حامد اور \"لقب حجتہ الا سلام \" زین الدین اللوسی ہے ،آپ ۴۵۰ھ طوس میں پیدا ہوئے ، آپ صوفی بھی تھے اور فقہہ شافعی میں بھی آپ کا شمارہوتا تھا،دین اسلام کی تعلیمات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو علم اور تعلیم کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ ایک عبادت گزار پر بھی عالم کو فضیلت حاصل ہے اور یہی بات امام غزالی نے اپنی مشہور کتاب احیاالعلوم ( جلداول ،جدید ترجمہ مولانا ندیم الواجدی) میں علم اور تعلیم کی فضیلت میں کچھ اسطرح بیان کی کہ\" حضرت معاذ ابن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ علم اس لئے حاصل کروکہ اس کا حاصل کرنا خوفِ الہی ہے،اس کی طلب عبادت ہے ،اس کا درس دینا تسبیح ہے،اور علمی گفتگو کرنا جہاد ہے،جو شخص نہ جانتا ہو اُسے پڑھانا خیرات ہے،جو علم کا اہل ہو اسے علم کی دولت سے نوازناتقرب الہی کا ذریعہ ہے،یہی علم تنہائیوں کا ساتھی ،سفر کا رفیق ،دین کا رہنما،تنگ دستی و خوشہالی میں چراغ راہ،دوستوں کا مشیر ،اجنبی لوگوں میں قربت پیدا کرنے والا،دشمنوں کے حق میں تیغ براں،راہ جنت کا روشن مینار۔اس علم کی بدولت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کوعظمت عطا کرتاہے انھیں قائد ،رہنما اور سردار بناتا ہے،لوگ ان کی اتباع کرتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ان کے عمل کو دلیل بناتے ہیں،فرشتے ان کی دوستی اور رفاقت کی خواہش کرتے ہیں،اپنے بازوان کے جسموں سے مس کرتے ہیں ،بحر و بر کی تمام مخلوق یہا ں تک کے سمندر کی مچھلیاںاور کیڑے،خشکی کے درندے اور چوپائے ،آسمان کے چاند سورج اورستارے سب ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ،اس لئے کہ علم دل کی زندگی ہے، علم نور ہے، اس سے تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں،علم سے بدن کو قوت ملتی ہے،ضعف دور ہو تا ہے،علم کی بدولت انسان نیک لو گو ں کے بلند درجات حاصل کرنے میں کا میاب ہو جاتا ہے،علمی امور میں غور و فکر کرنا روزہ (نفلی) رکھنے کے برابر ہے،علم کی تدریس میں مشغول رہنا شب بیداری کے برابر ہے،علم ہی سے اللہ کی اطاعت، عبادت اور تسبیح و تمہید کا حق اداء ہوتا ہے،اسی سے تقویٰ حاصل ہو تا ہے صلہ رحمی کی تو فیق ہوتی ہے،حلال و حرام میں تمیز کا شعور پیدا ہوتا ہے۔علم امام ہے عمل اس کے تابع ہے۔خوش قسمت لوگوں کے دل ہی علم کی آماجگا ہ بن سکتے ہیں،بد قسمت لوگ اس سے محروم رہتے ہیں،ہم اللہ سے حسن توفیق کے خواہ ہیں۔ ـ \" غرض قرآن و احادیث ، صحابہ کرامؓ،فقہا کرام اور اولیا ء اللہ کی تعلیمات میں علم و تعلیم کی جو فضیلت اور برتری بیان ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیںاور دنیا میں اگر ترقی یافتہ اقوام کو دیکھا جائے تو علم و تعلیم، سائینس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی اُنھوں نے ترقی کی، اسی لئے دنیا بھر میں ترقی کرنے والی اقوام اور حکومتوں کی نظر میں سب سے زیادہ عزت، اہمیت ، توجہ اہل علم و دانش طبقات کی طرف ہی ہوتی ہے اور وہ وسائل اور بجٹ کا سب سے زیادہ صرف انھی طبقات پر کرتے ہیں لیکن پاکستان میںسب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا شعبہ یہی ہے ۔ ٭…٭…٭