جب نظام الملک اور نادر شاہ کا آمنا سامنا ہوا
اسپیشل فیچر
نظام الملک کے خیال میں مغلوں کا نادرشاہ پر فتح پانا نا ممکن تھا۔ اس لئے اس نے کوشش کی کہ محمدشاہ اور نادر شاہ میں سمجھوتہ ہو جائے۔ لیکن دربار دہلی نادرشاہ سے لڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ پانی پت کے قریب ایرانیوں اور مغلوں میں لڑائی ہوئی۔ سعادت خان (اودھ) لڑائی میں گرفتار کر لیا گیا۔ جب اسے نادرشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو نادر شاہ نے اس سے مغلیہ سلطنت کے حالات دریافت کئے۔ اس پر سعادت خان نے کہا کہ نظام الملک مغلیہ سلطنت کا سب سے بڑا ستون ہے۔ اس لئے جہاں پناہ کو صلح کی بات چیت اس سے کرنی چاہئے۔ چنانچہ نادر شاہ نے اپنا ایک سفیر محمد شاہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ نظام الملک کو نادری خیمہ میں بھیج دے ۔اگلے دن نظام الملک نے نادرشاہ سے ملاقات کی ۔نظام الملک کی حیثیت شہنشا ہ دہلی کے نمائندہ کی تھی ۔نادر شاہ نے اپنی شکایتوں کو نظام الملک کے سامنے پیش کیا۔ نظام الملک نے تدبر اور دانش مندی سے نادر شاہ کو ان شرطوں پر رضا مند کر لیا۔’’ایرانی فوج دہلی کی طرف نہیں بڑھے گی۔ بشرطیکہ کہ نادر شاہ کو پچاس لاکھ روپیہ دیا جائے۔ اس رقم میں سے بیس لاکھ کی ادا ئیگی فوراًہونی چاہئے۔ دس لاکھ لاہور میں دیا جائے۔ دس لاکھ اٹک میں اور دس لاکھ کابل میں، نادر شاہ سلطنت مغلیہ کے کسی حصہ پر قبضہ نہیں کرے گا۔‘‘اس معاہدہ کے بعد نظام الملک کی وساطت سے محمد شاہ اور نادر شاہ میں ملاقات ہوئی۔ واپسی پر محمد شاہ کوشمس الّدولہ کی موت کی اطلاع ملی۔ اس پر محمد شاہ نے نظام الملک کو امیر الامرا کا عہدہ پیش کیا۔ چونکہ سعادت خاں بھی اس منصب کا امیدوار تھا اس لئے اسے بہت صدمہ ہوا۔ اس نے نادر شاہ سے کہا کہ اس نے نظام الملک سے بہت سستا سودا کیا ہے۔ لہٰذا نادر شاہ کی چاہیے کہ وہ محمد شاہ، نظام الملک اور دوسرے امیروں کو گرفتار کر کے دہلی اور اس کی ساری دولت پر قبضہ کر لے۔ نادر نے اس مشورے کو پسند کرتے ہوئے نظام الملک کو بلا بھیجا۔ نادرشاہ نے اسے حراست میں لے لیا۔ اب نادرشاہ نے پچاس لاکھ کی جگہ بیس کروڑ روپیہ کا مطالبہ کیا۔ نادر شاہ نے نظام الملک کو مجبورکیا کہ وہ محمد شاہ کو بلا بھیجے۔ محمد شاہ کو آتے ہی حراست میںکر لیا گیا ۔ان گرفتاریوں کے بعد مغل فوج منتشر ہو گئی۔ ایرانی سپاہیوں نے اعتماد ا لدّولہ کو بھی گرفتار کر لیا۔ اب نادرشاہ دہلی میں داخل ہو کر دیوان خاص میں مقیم ہوا۔وہ دہلی میں دو مہینے رہا۔ بے شمار مال ودولت لے کر نادرشاہ ایران چلا گیا۔ وہ اپنے پیچھے خالی خزانہ اور تباہ وبرباد صنعت وحرفت چھوڑ گیا۔دہلی سے نادرشاہ کے چلے جانے کے بعد نظام الملک کو اپنے بیٹے ناصر جنگ کی سرکشی کی اطلاع ملی۔ چنانچہ اس نے شہنشاہ سے دکن جانے کی اجازت طلب کی۔ برہان پور پہنچ کر نظام الملک اپنے بیٹے کی بغاوت کو تلوار سے فرو کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ راہ میں پیشوا بالاجی نے اس سے ملاقات کی اور نظام الملک کو وہ شاہی فرمان دکھایاجس کی رو سے اسے مالوہ کا حاکم مقرر کیا گیا تھا۔ دولت آباد کے قریب نظام الملک نے ناصر جنگ کو شکست دی۔ کرنا ٹک کے معاملات میں حصہ لینے کے بعد اس نے 1748ء میں وفات پائی۔نظام الملک اپنے زمانہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا مدبر تھا۔ اس کی زندگی کا زیادہ حصہ میدان جنگ میں گزرا۔ اس نے سادہ زندگی بسر کی۔ نظام الملک تیموری اوصاف کا مرقع تھا۔ تدبر ،فراست، شجاعت اور قلم میں نظام الملک کا درجہ بہت بلند ہے۔ سیاسی معاملات میں اس کی فراست کو بعض واقعات درست ثابت کرتے رہے۔ وہ اپنے تورانی افسروں سے ترکی بولتا تھا۔ وہ فارسی زبان میں شعر کہتا تھا۔ اس زمانہ میں جب کہ ہندوستان میں بدامنی اورلوٹ مار کا بازار گرم تھا، نظام الملک نے دکن میں امن قائم کیا۔ وہ 1713 ء سے آخری دم تک دکن کو خوشحال بنانے میں مصروف رہا۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں میں تجارت کے پردہ میں جو سیاسی کش مکش شروع ہوچکی تھی اس میں نظام الملک نے فراست اور تدبر کا اس حد تک ثبوت دیا کہ ان دونوں قوموں میں ہر ایک کو یقین تھاکہ نظام الملک اس کا حامی ہے۔ وہ یورپی قوموں کی عملی سیاسیات میں حصہ لینے کا حامی نہیں تھا۔