پتھر کا دور
اسپیشل فیچر
اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان نے زمین پر جو مدت بسر کی، اس کا ننانوے فیصدی حصہ قدیم سنگی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ باقی تمام دور صرف ایک فیصد میں آ جاتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ زمین پر انسان کا وجود کم و بیش دس لاکھ سال سے ہے اور قدیم سنگی یا حجری دور کی ابتدا سے آٹھ ہزار سال قبل مسیح تک چھایا ہوا ہے۔ اس کے متعلق معلومات اوزاروں، جانوروں اور انسانوں کے ڈھانچوں یا غاروں وغیرہ سے حاصل کی گئیں یا ایسے مقامات سے جہاں انسانوں کے رہنے کے نشانات پائے گئے بحیثیت عمومی ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدیم سنگی دور کا انسان آگ کے استعمال سے واقف تھا۔ شکار پر اس کا گزارہ تھا یا وہ نباتاتی غذا ادھر اُدھر سے اکٹھی کر کے رکھ لیتا تھا، جس طرح کہیں کہیں آسٹریلیا کے قدیم باشندے یا جنوبی افریقہ کے پرانے لوگ اب تک کرتے ہیں۔ کھیتی باڑی انہیں نہ آتی تھی اور جانور پالنے کا بھی کوئی نشان نہیں ملتا۔ ممکن ہے کہ مختلف لوگ کتے پالتے ہوں، دھوپ، ہوا، سردی اور بارش سے بچنے کے لیے یا تو درختوں کی شاخوں سے معمولی جھونپڑیاں بنالی جاتی تھیں یا غاروں میں پناہ لے لی جاتی تھی۔ اس زمانے میںکپڑوں کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ جانوروں کے چمڑے تن پوشی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ضرورت کے اوزار پتھر، ہڈی یا لکڑی سے بنائے جاتے تھے۔ دھات استعمال کی جاتی تھی نہ مٹی۔ ہمیں اس عہد کے انسان کی مجلسی زندگی یا جماعتی تنظیمات یا مذہب اور دماغی مشاغل کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ کہیں کہیں غاروں میں تصویریں بنائی ہوئی ملتی ہیں، جن کا تعلق قدیم سنگی زمانے کے متاخر دوروں سے ہے۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ لوگ جادو ٹونے ٹوٹکے پر اعتقاد رکھتے تھے اور موت کے بعد کسی نہ کسی قسم کی زندگی کا بھی ان میں عقیدہ موجود تھا۔ ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بعد کے انسانوں میں جو عقیدے پائے گئے، وہ کسی نہ کسی شکل میں پہلے بھی موجود تھے یا تاریخی دور میں ہمارے اسلاف کے عقیدوں کے متعلق جو کچھ ملتا ہے اس کی بنیادوں کی تلاش کی جائے گی تو ہم قدیم سنگی دور میں پہنچ جائیں گے۔ قدیم پتھر کے عہد میں انسان کے نشوونما و ارتقا کی نسبت عام خیال یہ ہے کہ یہ اس وقت سے جاری ہے جب زمین کی سرگزشت میں جدید ترین سطح کی ساخت شروع ہوئی، گویا اس بارے میں وقت کا فیصلہ علم الارض کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ زمین کی جدید ترین سطح کی ساخت کا زمانہ نباتات کی بنا پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی ابتدائی دور، درمیانی دور اور آخری دور۔ ایلپس کے علاقے میں برفستانوں سے جوچیزیں ملیں ان کے دور کو چار حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ عمومی خیال کیا جاتا ہے کہ انسان ابتدائی دور ہی میں اوزار بنانے لگا تھا لیکن بعض اہل علم کو اس سے اختلاف ہے، البتہ درمیانی دور کے متعلق زیادہ تر اہل علم متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی زمانے میں دستی کلہاڑی یا اس سے ملتی جلتی صنعتوں کا آغاز کیا گیا تھا۔