انفلوئنزا
اسپیشل فیچر
موسم کیا تبدیل ہوتا ہے، زکام بخار کی آمد ہوجاتی ہے۔ آئے دن ننھے میاں کو بخار تو مُنی نزلہ کا شکار۔ بیگم صاحبہ درد سر میں مبتلا تو خود صاحب بستر پر۔ تقریباً یہی کہانی ہر گھر کی ہوتی ہے۔ بات اگر یہیں تک رہ جائے تو شکر ادا کرنا چاہیے۔ عموماً ہوتا ایسا نہیں ہے۔ نزلہ کی ابتدا انفلوئنزا کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ یہ انفلوئنزا متفرق طور پر بھی ہوتا ہے اور وبا کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وبا دوچارسال کے وقفہ سے ابھرتی تھی مگر اب ہر سال انفلوئنزا کا زور سننے میں آتا ہے۔ وبا اپنے پھیلاؤ کے حساب سے چھوٹی بھی ہوتی ہے اور بڑی بھی۔ اس کی وبا بڑی تیزی سے پھیلتی ہے، مگر جس تیزی سے وبا آتی ہے اسی تیزی سے ختم بھی ہو جاتی ہے۔ عام طور پر وبا کی مدت چھ سے آٹھ ہفتہ ہوتی ہے۔ انفلوئنزا نئی بیماری نہیں ہے۔ آج کل ہی نہیں بلکہ پچھلے وقتوں میں بھی بہت سے لوگ بخار سے جاں بر نہیں ہو پاتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں وبائی بخاروں کا ذکر اکثر آیا ہے۔ توہم پرستی انسان کے خمیر میں ہے۔ آئے دن اس کی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اکثر لوگ کام اہم ہونے کی صورت میں خوش قسمت گھڑی معلوم کرنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ گھڑی سیاروں کی موجودگی اور ان کے اثرات کو دھیان میں رکھ کر نکالی جاتی ہے۔ کام بن جائے تو خوب۔ سیارے اچھے اور حساب درست سمجھا جاتا ہے۔ بیماریاں بھی چوں کہ انسانی تباہی کی ذمہ دار ہیں اس لیے عہدِگزشتہ میں ان کی ذمہ داری بھی سیاروں پر ڈال دی جاتی۔ اس کلیہ کی مثال لفظ انفلوئنزا بھی ہے جس کے معنی (سیاروں کے) ’’اثر‘‘ کے ہیں۔ اگرچہ نویں صدی میں مؤرخوں نے عراق اور عرب میں انفلوئنزے کا وبائی شکل اختیار کرنا لکھا ہے، لیکن سولہویں صدی کی ابتدا میں یقینی طور پر یہ وبا عالمگیر ہوئی۔ صرف اٹھارویں صدی میں یہ پانچ مرتبہ پھیل چکا ہے۔ 1918ء میں ’’سپینش انفلوئنزا‘‘ کی وبا نے پانچ کروڑ افراد کی جان لی۔ 1957ء میں ’’ایشین انفلوئنزا‘‘ سے 20 لاکھ اموات ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت نے 2009ء میں انفلوئنزا کی ایک نئی قسم اے/ ایچ ون این ون کے پھیلنے کی تصدیق کی۔ انفلوئنزا جانوروں اور پرندوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پاسچر کی بیکٹیریا کی دریافت کے بعد سائنس دانوں کو نئی راہ ملی۔ بیکٹیریا کو ایک دو نہیں، انفلوئنزا یا سمیت درجنوں بیماریوں کا ذمہ دارٹھہرایا گیا، لیکن یہ درست نہ تھا۔ حقیقت میں انفلوئنزا کے ذمہ دار وائرس ہوتے ہیں۔ انفلوئنزا وائرس بیکٹیریا کی طرح اپنی نسل بڑی تیزی کے ساتھ بڑھاتے ہیں۔ یہ وائرس وقت کے ساتھ نہ صرف اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ اپنے اندر تبدیلی کر کے نئی قسم کی نسل بھی پیدا کرتے ہیں۔ انفلوئنزا لاکھوں افراد کی اموات کا باعث بنتا ہے۔ دنیا میں سالانہ 30 سے 50 لاکھ افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔ انفلوئنزا کی زد میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ چند دنوں میں اچھا بھلا تندرست آدمی مہینوں کا مریض معلوم پڑتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مریض پر بیزاری کا عالم بھی طاری ہوتا ہے۔ سر اور ہاتھ پیر درد کرتے ہیں اور بخار بھی ہوتا ہے۔ ناک بہنے لگتی ہے، گلہ خراب ہو جاتا ہے اور مریض تھکا تھکا محسوس کرتا ہے۔ سر درد اور کھانسی بھی ہوتی ہے۔ عموماً انفلوئنزا کے ساتھ دوسری بیماریاں بھی آ دھمکتی ہیں۔ یہ دوسری بیماریوں کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔کمزور صحت، معمر افراد اور بچوں کے انفلوئنزا سے بچاؤ کے لیے عالمی ادارہ صحت ویکسین تجویز کرتا ہے۔ انفلوئنزا کے شکار افراد کو پانی یا مائع زیادہ پینا چاہیے، آرام کرنا چاہیے، تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو بخار اور جسمانی درد کی دوا لے لینی چاہیے۔ اگر حالت خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔