کیلشیم سے بھرپور غذائیں
اسپیشل فیچر
کیلشیم ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ دراصل دیگر معدنیات کی نسبت کیلشیم ہمارے جسم میں سب سے زیادہ ہے۔ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کے لیے کیلشیم ضروری ہے۔ دل کی صحت، عضلات کے افعال اورا عصابی پیغامات میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ماہرین زیادہ تر بالغوں کے لیے روزانہ ایک ہزار ملی گرام کیلشیم تجویز کرتے ہیں۔ پچاس برس سے زیادہ عمر کی خواتین اور ستر برس سے زیادہ عمر کے ہر انسان کو 12 سو ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ چار سے 18 برس کی عمر میں 13 سو ملی گرام کیلشیم تجویز کی جاتی ہے۔ تاہم زیادہ تر آبادی اپنے جسم کی کیلشیم کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔کیلشیم حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ڈیری پراڈکٹس ہیں، جن میں دودھ، پنیر اور دہی شامل ہیں۔ البتہ ان سے ہٹ کر بھی ذرائع ہیں جن سے کیلشیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ ذیل میں چند اہم ذرائع کا ذکر کیا جا رہا ہے۔بیج: بہت سی اقسام کے بیجوں میں کیلشیم کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر خشخاش، تِل، اجمود اور تخم ملنگا۔ ایک چمچ (نو گرام)خشخاش میں 126 ملی گرام کیلشیم ہوتی ہے۔ بیجوں سے پروٹین اور صحت بخش چکنائی بھی ملتی ہے۔ مثلاً تخم ملنگا نباتاتی ذرائع سے اومیگا3 فیٹی ایسڈ حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ تِل میں کیلشیم کے علاوہ زنک، فولاد اور میگنیز جیسی دیگر معدنیات شامل ہوتی ہیں۔پنیر: پنیر(چِیز) کیلشیم کا شاندار ذریعہ ہے۔ زیادہ ملائم پنیر میں کیلشیم کی مقدار عموماً قدرے کم ہوتی ہے۔ نباتاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی کیلشیم کی نسبت حیواناتی ذرائع کی کیلشیم زیادہ جلدی جسم میں جذب ہوتی ہے۔ پنیر کی بہت سی قسموں میں پروٹین کی بھی خاصی مقدار ہوتی ہے، جیسا کہ کاٹیج پنیر میں۔ قدرے پرانی اور سخت پنیر میں لیکٹوز کم ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنہیں لیکٹوز سے حساسیت ہوتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ دل کی بیماریوں کے امکان کو کم کرتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق روزانہ پنیر استعمال کرنے سے ’’میٹابولک سینڈروم‘‘ کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ نظام انہضام کا یہ مرض دل کی بیماریوں، دل کے دورے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا سبب بنتا ہے۔ خیال رہے کہ اس میں چکنائی اور حراروں کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر اقسام کی پنیر میں سوڈیم کی مقدار بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے، جس سے بعض افراد کو حساسیت ہوتی ہے۔ دہی: دہی کیلشیم کا شاندار ذریعہ ہے۔ زیادہ تر اقسام کی دہی میں پروبائیٹک بیکٹیریا ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔ دہی میں کیلشیم کی اچھی خاصی مقدار کے علاوہ فاسفورس، پوٹاشیم اور وٹامن بی2 اور بی12 ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دہی سے نظام انہضام بہتر ہوتا ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے دہی استعمال کرتے ہیں ان میں نظام انہضام کے مسائل سے پیدا ہونے والے امراض کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان میں ذیابیطس ٹائپ2 اور دل کے امراض شامل ہیں۔ دالیں اور پھلیاں: دالوں اور پھلیوں میں غذائی ریشے، پروٹین اور مائیکرو نیوٹریئنٹس کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ ان سے بہت سا فولاد، زنک، فولیٹ، میگنیشیم اور پوٹاشیم حاصل ہوتا ہے۔ ان کی بیشتر اقسام میں کیلشیم کی بھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ بادام: تمام میوہ جات میں سب سے زیادہ کیلشیم بادام میں ہوتا ہے۔ ایک اونس بادام میں تین گرام غذائی ریشہ ہوتا ہے۔ اس میں صحت بخش چکنائی اور پروٹین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بادام میگنیشیم، میگنیز اور وٹامن ای کا بہت اچھا ذریعہ ہیں۔ انہیں کھانے سے فشار خون اور جسمانی چکنائی کو کم کرنے اور نظام انہضام کے مسائل سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں: گہرے اور سبز رنگ کی سبزیوں میں کیلشیم کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔ جن سبزیوں میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ان میں کرم کلہ، پالک اور کیلی (گوبھی کی ایک قسم) شامل ہیں۔ ریوند چینی: ریوند چینی میں غذائی ریشے، وٹامن ’’کے‘‘، کیلشیم اور بعض دیگر وٹامنز اور نمکیات پائے جاتے ہیں۔ اس میں ’’پری بائیٹک فائبر‘‘ ہوتا ہے جو آنتوں میں پائے جانے والے مفید بیکٹیریا کی نمو کرتا ہے۔ اگر چہ اس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن پالک کی طرح یہ جسم کا کم مقدار میں حصہ بنتی ہے۔ انجیر: خشک انجیر میں اینٹی آکسی ڈینٹس اور غذائی ریشہ بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ انجیر میں دوسرے خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ کیلشیم پایا جاتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم اور وٹامن ’’کے‘‘ کی بھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ دودھ: دودھ کیلشیم کا بہترین اور غالباً سب سے سستا ذریعہ ہے۔ اس میں موجود کیلشیم جسم میں بھی بآسانی جذب ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ پروٹین، وٹامن اے اور وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ہے۔ انسانی جسم کے لیے ضروری معدنیات میں کیلشیم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ڈیری پراڈکٹس میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن اسے پانے کے دوسرے ذرائع بھی موجود ہیں۔ آپ مختلف ذرائع کو استعمال میں لا کر اپنی کیلشیم کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔