آپ شخصیت کو کیسے حسین بنا سکتے ہیں؟
اسپیشل فیچر
انسان کا حقیقی حسن ، اس کی شکل و صورت میں نہیںبلکہ اس کے کردار میں ہے اس کی شخصیت کی دلکشی حسن اخلاق میں ہے اور اس کی ہر دلعزیزی کا راز حسن اطوار میں ہے۔ مشہور فلسفی ایمرسن نے کہا تھا کہ بداخلاق لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی صلاحیت انسان کا حقیقی حسن کردار ہے۔شخصیت کو دلکش اور جاذب نظر بنانے کے لئے خواتین کتنی محنت اور تگ و دو کرتی ہیں۔ بہترین لباس کا اہتمام چہرے کو میک اپ کے ذریعہ حسین تر بنانے کی کوشش، بالوں کو نت نئے انداز میں سنوارنے کی فکر، جسم کو پرکشش بنانے کا اہتمام غرضیکہ وہ تمام ذرائع تلاش کرتی ہیں جو آپ کی ظاہری شخصیت کو ہر طرح سے دلکش اور دلفریب بنادے۔ لیکن کیا اتنے بہت سارے اہتمام کے بعد بھی آپ دوسروں کی نظر میں دلکش بن جاتی ہیں؟ کیا اس کے بعد آپ ہر دلعزیز ہو جاتی ہیں؟اس کا جواب بڑی دیانتداری کے ساتھ تلاش کیجئے جو یقینا نفی میں ہوگا۔بیشک چہرے کی جاذبیت ، خوش لباسی اور بناؤ سنگھار آپ کی دلکشی کا ایک حصہ ہیں، لیکن جس طرح حسین تر پھول خوشبو کے بغیر کسی کی نگاہ میں نہیں چڑھتا اسی طرح ظاہری حسن بغیر حسن اخلاق کے کبھی دلکشی کا مرکز نہیں بنتا۔جتنی فکر آپ میک اپ کے لئے کرتی ہیں، جتنی محنت آپ بناؤ سنگھار کے لئے کرتی ہیں اور جتنا اہتمام آپ لباس کی خوبصورتی کے لئے کرتی ہیں اگر اس کی نصف توجہ آپ اپنے اخلاق و اطوار کو دلکش بنانے کے لئے کریں تو ہر دلعزیزی خود آپ کے جلو میں چلنے لگے۔اگر آپ اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں اور دنیا کی نامور خواتین کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو یہ دیکھ کر حیران ہوں گی کہ ان میں بیشتر شکل و صورت کے اعتبار سے کسی غیر معمولی حسن کی مالک نہیں تھیں بلکہ میری اور آپ کی طرح عام خدوخال کی مالک تھیں۔
دلکش شخصیت اور ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لئے یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ سادگی سب سے بڑا حسن ہے، جو خواتین و لڑکیاں اپنی شکل و صورت، رنگ اور قدوقامت کی بنا پر خود کو کمتر تصور کر کے اس لئے پریشان رہتی ہیں کہ شخصیت کو دلکش کیسے بنایا جائے ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ شخصیت صرف شکل و صورت کا نام نہیں، اس میں اطوار اخلاق، ذہانت، سمجھ بوبجھ، لباس اور آرائستگئ زبان اور لہجہ سب کچھ شامل ہوتا ہے، اس لئے جب ہم دلکش اور ہر دلعزیز شخصیت کی بات کرتے ہیں تو اس سے صرف شکل و صورت کا حسن مراد نہیں ہوتا۔آپ کی دلکش شخصیت آپ کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، اس کی تعمیر خود آپ کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے۔ صفائی اور تازگی آپ کے جسم، بالوں، آنکھوں اور لباس سے عیاں ہونی چاہیئے۔ مرجھائی ہوئی اور پریشان حال شخصیت کسی کو متاثر نہیں کرتی، خوش و خرم، مسکراتی اور چہکتی، پاک و صاف شگفتہ شخصیت بے پناہ کشش رکھتی ہے اور یہ پاکیزگی اور شگفتگی صرف باہر نہیں اپنے گھر میں بھی ضروری ہے۔ عورت خواہ کنواری ہو یا شادی شدہ، اس کی دلکشی ہنستی مسکراتی اور صاف ستھری شخصیت میں ہے۔ لباس خواہ کیسا ہو صاف ستھرا ہونا چاہیئے اور ان کو سلیقے سے پہننا چاہیئے، بال صاف بھی ہوں اور سنوارے ہوئے بھی، ناخن صاف اور تراشے ہوئے، جسم پاکیزہ اور مہکتا ہوا، بناؤ سنگھار میں سادگی ہو غیر معمولی نمائش نہیں۔
چہرے پہ سکون و شگفتگی ہو، چڑ چڑا پن، غصہ اور نک چڑھی شخصیت سارے حسن کو زائل کر دیتی ہے۔ مسکراتا اور مطمئن چہرہ مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے، دانت صاف ہونا ضروری ہیں اور آنکھوں میں بھی تروتازگی صفائی سے آتی ہے، ان چند باتوں پر توجہ دی جائے تو شکل و صورت خواہ کیسی ہو آپ کا سراپا دلکش بن جاتا ہے۔زندگی کو زندہ دلی کا نام دیا گیا ہے۔ جو بھی رونق محفل بننا چاہے اسے یہ اصول اپنانا ہوگا۔ زندہ دل لوگ ہر سمت مسرتیں بکھیرتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ہر جگہ ہر دلعزیز ہوتے ہیں، زندگی سے پیار کرنا سیکھئے یعنی اسے ہنستے کھیلتے بسر کرنے کا انداز اپنائیے، مسکراتے چہروں میں بے پناہ کشش ہوتی ہے۔ روتے بسورتے اور زندگی کا شکوہ کرتے لوگوں سے لوگ بیزار رہتے ہیں۔ دنیا میں کون ہے جسے دکھ درد اور مسائل کا سامنا نہیں، لیکن بعض خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ ہر محفل میں اپنا دکھڑا رونے بیٹھ جاتی ہیں ایسی خواتین سے سب دور بھاگتی ہیں، خود آپ بھی۔ لیکن آپ اپنی بات کرنے بیٹھتی ہیں تو اس کمزوری کو بھول جاتی ہیں، یاد رکھیے کہ دنیا ہمدردی اور محبت کا پھول ہے آپ دوسروں کے دکھ درد اور ان کی بات توجہ سے سن کر اور ان کو محبت سے مشورے دے کر ہلکا کر سکتی ہیں۔
آپ کو سب سے زیادہ غیر مقبول بتانے والی چیز اپنی برتری کا اظہار اور دوسروں پر تنقید کرنے کی عادت ہے۔بعض خواتین ہر محفل میں یہی دو کام کرتی ہیں اور اپنی شخصیت کو ناپسندیدہ بنالیتیں ہیں، ایسی خواتین کا کوئی بھی دوست نہیں ہوتا۔ آئندہ اس بات کو یاد رکھئے، جہاں بھی جائیے جس سے بھی ملئیے، اس کی ذات ، اس کے لباس اور اس کی اچھی باتوں کی ستائش میں فراخدی سے کام لیجئے، اس کی ہمت افزائی کیجئے اور اس سے اپنائیت کا سلوک کیجئے۔ ہر دلعزیز کا یہ بہترین اصول ہے۔
لوگوں سے ملنے جلنے کا انداز مہذب اور شائستہ ہونا چاہیئے لیکن اس میں تصنع اور بناوٹ باکل نہ ہو ممکن ہے آپ کو احساس نہ ہو لیکن بناوٹ کو لوگ فورًا محسوس کر لیتے ہیں اس لئے اپنے اندر شائستگی اور تہذیب پیدا کیجئے تاکہ قدرتی طور پر طرز عمل خوشگوار بن جائے۔ بہت زیادہ پرتکلف انداز مصنوعی محسوس ہوتا ہے اور حد سے زیادہ بے تکلفی بھی پسند نہیں کی جاتی۔ ہمیشہ میانہ روی کو اپنانے کی کوشش کیجئے۔
کچھ لوگ اجنبی ماحول میں بھی بہت جلد گھل مل جاتے ہیں اور بعض اپنے ماحول میں بھی اجنبی ہوتے ہیں، ظاہر ہے گھل مل جانے کی صلاحیت ان کو ہر دل عزیزبناتی ہے۔ اخلاق ایک ایسا حسن ہے کہ اجنبی کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ شائستگی شخصیت کو جاذب نظر بناتی ہے اور خوش مزاجی آپ کے لئے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرتی ہے۔