قدیم چینیوں کی حیران کن ایجادات
اسپیشل فیچر
سائنس کا طالبعلم ہونے کے ناطے مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ ہم رومیوں اور یونانیوں کی ایجادات، سماجی و معاشی ترقی اور تہذیب و تمدن سے تو بہت زیادہ واقف ہیں لیکن چین اور سنٹرل ایشیائی ممالک میں ہونے والی تہذیبی اور سائنسی ترقی سے مغرب نے دانستہ یا نا دانستہ کسی حد تک انحراف کیا ہے، ان کی ایجادات اور کمالات دنیا کے سامنے یا تو رکھے ہی نہیں گئے یا پھر سرسری سا ذکر ملتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ چین کے دور افتاد ہ علاقوں کے مکین بھی سائنسی ترقی میں درجہ کمال پر فائزتھے۔ ان کی ایجادات سے ہمارے لئے لاتعداد آسانیاں پیدا ہوئیں۔ ایسی ہی کچھ ایجادات میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
زلزلے کی شدت ماپنے والا آلہ
چین سیمسک زون میں واقع نہیں ہے نہ ہی اسے شدید ترین زلزلوں کا مرکز کہا جا سکتا ہے، وہاں جاپان یا دوسرے ممالک جیسی تباہ کاریاں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔لیکن کسی زمانے میں چین شدید ترین زلزلوں کا مرکز رہا ہے ۔ اتنے شدید کہ دریائوں کارخ بدل گیا، شہر کے شہر غائب ہو گئے ، نام و نشان مٹ گیا۔قدیم دور کے معروف چینی مورخ سیما چیان (Sima Qian)کی 91 قبل مسیح میں لکھی جانے والی دستاویز (Annals) میں شدید زلزلوں کا ذکر ملتا ہے۔سیما چیان کے بیان کے مطابق ''780قبل مسیح میں آنے والے زلزلے کی شدت سے تین بڑے دریائوں کا رخ بدل گیا تھا‘‘۔ ایک اور مورخ تائے پنگ یولان (Taiing Yulan) کے محفوظ نسخوں میں چین کے 600 زلزلے مذکور ہیں ۔ زلزلوں کے بعد قحط اور خشک سالی سے الگ تباہ کاریاں ہوئیں۔ یہ کئی مرتبہ سیاسی افرا تفری اور بغاوت جیسی صورتحال پیداکرنے کا سبب بھی بنتے رہے ہیں، اسی لئے بادشاہ زلزلے کی شدت کا پتہ چلانے اور ان کے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے میں کافی دل چسپی رکھتے تھے۔ بادشاہ کے حکم پر 78ء میں جنم لینے والے ایک ریاضی دان ژینگ ہینگ (Zhang Heng) نے زلزلے کی شدت ناپنے والا آلہ بنالیا تھا۔ یہ ریاضی دان 139ء تک زندہ رہا، اس دوران اس نے متعدد اہم ایجادات کیں۔ اس آلے کو دور حاضر میں ''سیسموگراف‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کانسی یا تانبے کا بنا ہوا مرتبان کی شکل کا ایک آلہ تھا۔ گولائی کے اطراف میں اژدہے کی شکل کے آٹھ برتن لگائے گئے تھے۔ ہر اژدہے کے منہ میں ایک گیند نما آلہ تھا۔ برتن کے ہلتے ہی گیند بھی ہلنے لگتی تھی ۔جتنی شدت سے یہ برتن ہلتا، اتنی ہی طاقت سے گیند لڑھکنا شروع کر دیتی تھی اور یوں نیچے گر جاتی تھی۔تاہم اس سائنس دان کا خیال تھا کہ زلزلے کا سبب تیز ہوا یا آندھی ہوتی ہے۔
قطب نما
قدیم چینی سائنسد انوں کی ایک حیرت انگیز ایجاد ریڑھی کی طرز کا ایک آلہ ہے جس کا رخ جنوب کی جانب رہتا تھا، آپ اسے کہیں بھی لے جائیں یہ بتا دیگا کہ جنوبی چین کس جانب ہے۔اسے آج بھی ''سائوتھ پوائنٹنگ چیریٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ دو پہیوں کے اوپر ایک ''گڑیا‘‘ کھڑی کر دی جاتی تھی،آپ اس ریڑھی کو کسی بھی جانب موڑ دیں گڑیا کی انگلی کا رخ جنوب کی جانب ہی رہے گا۔کہا جاتا ہے کہ ڈیوک آف ژائو(Duke of Zhau) نامی شہزادے کا کافی ملنا جلنا تھا ،متعدد مہمان راستہ بھٹک جاتے ،ان کی رہنمائی کے لئے شہزادے نے یہ قدیم آلہ بنوایا۔اس کی مدد سے مہمانوں کوراستہ تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ۔ وہ خود بھی اس کے ذریعے بھٹکے بغیر اپنے محل میں پہنچ جاتا ۔اس مکینیکل آلے کا استعمال 1030قبل مسیح سے کیا جاتارہا ہے لیکن سائنس میوزیم ، لندن میں محفوظ پیچیدہ ترین ایجاد 200ء سے 250ء کے درمیان میں تیا ر کی گئی تھی۔
''لیکور‘‘، پلاسٹک کی ایک قسم
''لیکور‘‘ (Lacquer) چینیوں کی خاص ایجاد ہے۔مغربی ممالک لیکور کی تیاری یا ایجاد پر اپنا حق نہیں جما سکتے ۔ اسے ''لاک‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔'' شنگ سلطنت ‘‘ (Shang Dynasty) میں بھی یہ استعمال کیا جاتاتھا ۔شنگ حکمرانوں نے اپنے مردوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے مراکز بنا رکھے تھے جن کی چار دیواری کے علاوہ تابوت کی لکڑی پر اسی کا لیپ کیا جاتا تھا۔1970ء میں چین کے علاقے ''انیانگ ‘‘ (Anyang) میں دریافت ہونے والی شنگ سلطنت کی ملکہ لیڈی فو ہائو (Lady Fu Hao) کی آخری آرام گاہ میں بھی ایسے برتن ملے ہیں جن پراسی کیمیکل کا پینٹ کیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق چینی باشندے ہزاروں سال سے اس کے استعمال سے واقف تھے جبکہ 1980ء کے عشرے میں ''ارلی تائو ‘‘ Erlitou)) میں ملنے والے آثار 17ویں صدی قبل مسیح تک کے ہیں۔برتنوں کی سجاوٹ میں بھی یہی کیمیکل مستعمل تھا۔چند عشرے قبل تک کسی بھی مکان، دکان، دفتر یا سرکاری ڈاک کو سیل کرنے کے لئے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کو توڑنا ممنوع ہوتا تھا۔ آج چند دفاتر میں یہ مستعمل ہے۔ اس کیمیکل کی خاص بات چمک،دیر تک قائم رہنے کی صلاحیت تھی۔
آلات سازی کے سانچے
قدیم چینی باشندے آلات سازی کے فن سے بھی واقف تھے، مختلف کیمیکلز ، موم اور معدنیات کو اپنی مرضی کی اشکال میں ڈھالنے والے سانچے یا برتن بھی بنا رکھے تھے ، انہیں زمانہ قدیم کی ''مشینری ‘‘بھی کہا جا سکتا ہے۔ان سانچوں کی مدد سے آلات، ظروف کافی آسان ہو گئی تھی۔ان دریافتوں کو '' چائنیز برونزی مینو فیکچرنگ میتھڈز‘‘ کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ چینی لگ بھگ 3000قبل میں بھی تانبے اور کانسی کے استعمال سے واقف تھے۔ شنگ سلطنت کے دور میں استعمال کیئے جانے والے نمونے بھی ملے ہیں ۔ 1500قبل از مسیح سے تعلق رکھنے والی کچھ دریافتیں ارلی تائو(Erlitou)کے علاقے میں بھی کی گئی ہیں۔یہ لوگ ٹن اور سیسے کی مدد سے بنائے جانے الے برتنوں میں موم اور دیگر کیمیکلز اور کچھ دھاتوں کو ڈھالا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں چین میں میٹل انڈسٹری عروج پر تھی۔وہ تانبے، لوہے، ٹن سیسہ اور سونے کے ملاپ کی ٹیکنالوجی سے کسی حد تک واقف تھے۔
قدیم ترین تیر کمان
1600قبل مسیح میں چینیوں نے پتیل، سونے اور چاندی کے ملاپ سے'' دور مار تیر کمان ‘‘ بنائے تھے ۔ یہ ایک قسم کی ''پروجیکٹائل‘‘ مشینیں تھیں جن میں تیر کو فکس کرنے کے لئے جگہ بنائی گئی تھی۔ چین کے نان ژن میوزیم میں محفوظ ان تیر کمانوں کو دیکھنے و الوں کا کہنا ہے کہ ''کمان میں تیر پوری طرح فٹ ہو جاتا تھا، جس سے نشانہ چوکنے کے اندیشے کم سے کم ہو جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ''ٹیریکوٹا آرمی‘‘ کا نشانہ کم ہی خطا جاتا تھا۔ وزن میں ہلکے تھے، لہٰذا نقل و حمل مشکل نہ تھی ۔اولین چینی بادشاہ کے مقبرے میں دیگر آلات کے ساتھ کمان اور تیر بھی ملے ہیں۔یہ بادشاہ کی شان اورعوام کی آزادی کی پہچان تھے ۔ یہی تری کمان ''ٹیریکوٹا آرمی‘‘ (Terracotta Army) کے بھی زیر استعمال تھے،یہ تیر کمان کئی صدیوں تک مستعمل رہے ۔