سائنس دانوں کا جدید اے آئی نظامطب کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز پیشرفت نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے، کیا انسان کے چہرے کی ایک عام سی تصویر یہ اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے کہ کینسر کا مریض کتنی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا جدید نظام تیار کیا ہے جو مریض کی سیلفی کا تجزیہ کرکے اس کی حیاتیاتی عمر اور کینسر سے متعلق موت کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریض کی حالت سمجھنے اور علاج کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں اور اس کی افادیت کی مزید جانچ ضروری ہے۔یہ نظام مریض کے چہرے کا تجزیہ کرکے ان افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے جنہیں موت کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ آزمائشوں کے دوران زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل نصف سے زائد مریض 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ اس کے برعکس کم خطرے والے گروپ میں اسی عرصے کے دوران صرف دو فیصد مریضوں کی موت ہوئی۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کن مریضوں کی جسمانی حالت کینسر کے سخت علاج کی متحمل ہو سکتی ہے اور کن مریضوں کیلئے نسبتاً محتاط طریقہ علاج اختیار کرنا ضروری ہے۔''فیس سروائیول‘‘ (FaceSurvival) نامی یہ نظام امریکا کے طبی تحقیقی ادارے میس جنرل بریگھم (Mass General Brigham)کے محققین نے تیار کیا ہے۔یہ تحقیق سابقہ مطالعات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ کینسر کے وہ مریض جو اپنی اصل عمر سے زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے ہیں، ان میں موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔تاہم، مریض کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت کا یہ نیا نظام چہرے کے ان معمولی اور باریک نشانات کا تجزیہ کرتا ہے جو مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔یہ تحقیق علاج شروع کرنے سے پہلے مریضوں کی حالت کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈاکٹر پہلے ہی مریض کو دیکھ کر اس کی صحت کے بارے میں فوری اندازہ لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو ''آئی بال ٹیسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مریض بظاہر کتنا کمزور یا ناتواں دکھائی دیتا ہے۔بڑی آنت اور مقعد کی سرجری کی ماہر اور تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر گریس لی کے مطابق معالجین پہلے ہی مریض کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کی صحت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارا تیار کردہ نظام اس تجرباتی اندازے کو ایک باقاعدہ اور قابلِ پیمائش طریقے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس سے بیماری کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی درستگی اور طبی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری کیلئے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو 4 کروڑ سے زائد عوامی طور پر دستیاب چہروں کی تصاویر کے ذریعے تربیت دی۔ اس کے بعد 34 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی تصاویر استعمال کر کے '' فیس سروائیول‘‘ کو موت کے خطرے کی پیش گوئی کرنا سکھایا گیا۔بعدازاں 3 ہزار 820 مریضوں کے ایک الگ گروپ پر اس نظام کی آزمائش کی گئی۔ اس دوران مصنوعی ذہانت نے ہر مریض کو صفر سے ایک کے درمیان خطرے کا اسکور دیا، جس کی مدد سے ان کیلئے موت کے خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔سب سے زیادہ خطرے کا اسکور حاصل کرنے والے 122 مریضوں میں سے 64 تین ماہ کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ کم ترین خطرے والے گروپ کے 975 مریضوں میں سے صرف 20 کی موت ہوئی۔مجموعی طور پر، سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے ایک چوتھائی مریضوں میں موت کا امکان، کم ترین خطرے والے گروپ کے مریضوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تھا۔ یہ فرق مریضوں کی عمر، جنس اور کینسر کی قسم کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔ محققین نے ان نتائج کی جانچ نیدرلینڈز کے تقریباً 4 ہزار 900 کینسر کے مریضوں پر بھی کی۔سائنس دانوں نے ''ایف اے ایچ آر فیس ایج‘‘ کے نام سے ایک دوسرا نظام بھی تیار کیاہے، جو چہرے کی تصویر سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے۔ عام عمر کے برعکس، حیاتیاتی عمر سے مراد یہ ہے کہ جسم پر بڑھتی عمر کے اثرات کس حد تک مرتب ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایک تحقیق میں ٹیم نے ہالی وڈ کے دو اداکاروں کی مثالوں کے ذریعے اس تصور کو واضح کیا تھا۔ دونوں کی تصاویر اس وقت لی گئی تھیں جب ان کی عمر 50 سال تھی۔فلم ''اینٹ مین‘‘ اور ''دی 40 ایئر اولڈ ورجن‘‘ کے اداکار پال رڈ، جن کی موجودہ عمر 57 سال ہے، کی حیاتیاتی عمر محض 42.6 سال لگائی گئی۔ اس کے برعکس، 1985ء کی فلم ''کوکون‘‘ میں اداکاری کرنے والے ول فورڈ برملے، جن کا انتقال 2020ء میں 85 سال کی عمر میں ہوا، کی حیاتیاتی عمر 69 سال بتائی گئی تھی۔تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے والے اس نئے نظام کو 38 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں پر آزمایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن مریضوں کے چہرے ان کی اصل عمر سے کم از کم پانچ سال زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، جو مریض اپنی حقیقی عمر سے پانچ سال چھوٹے دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔تحقیق میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا تعلق بھی عمر سے زیادہ بوڑھا دکھائی دینے والے چہرے سے سامنے آیا۔ ان عوامل میں تمباکو نوشی کا تعلق سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ موجودہ سگریٹ نوش افراد کے چہرے سابقہ سگریٹ نوشوں اور کبھی سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دینے کا رجحان رکھتے تھے۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ان دونوں نظاموں کو بیک وقت استعمال کرکے ڈاکٹروں کو مریضوں کی حالت کا زیادہ تیزی اور کم لاگت سے جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسپتالوں میں اس کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔ سائنسدان یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا پلاسٹک سرجری اور چہرے کی کاسمیٹک تبدیلیاں اس نظام کی درستگی کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔اس کے علاوہ، اگرچہ مصنوعی ذہانت زیادہ خطرے والے مریضوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نظام کی مدد سے علاج کے فیصلے کرنے سے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔