نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پشاورزلمی کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 198 رنز کاہدف
  • بریکنگ :- پشاورزلمی نےمقررہ اوورزمیں 5وکٹوں پر 197 رنزبنائے
  • بریکنگ :- ابوظہبی:ڈیوڈملر 73 رنزبناکرنمایاں رہے
Coronavirus Updates

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

اسپیشل فیچر

تحریر : گوہر علوی


مصر میں اپنے وقت کی مشہور اور خوبصورت ملکہ نیل نفرتیتی کا مقبرہ واقع ہے۔خوبصورت نقش و نگار اور اپنی لمبی صراحی دار گردن کی بدولت یہ ملکہ اپنے حسن کا ثانی نہیں رکھتی تھی اور مصر کے بازاروں میں سب جگہ اسی کے مجسمے پائے جاتے تھے۔ قلوپطرہ کے علاوہ بھی مصر کی ایک حسین ملکہ تھی۔ نام تو اس کا نفرتیتی تھا لیکن پیار سے لوگ اسے نیل کی ملکہ کہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اس کو سرکاری طور پر اس کے شوہر اور بادشاہ وقت فرعون آخینا تن نے کوئی درجن بھر القابات سے نوازا ہوا تھا۔ وہ قدیم مصری حسن کا ایک شاہکار تھی۔ آج تک مصر میں جتنے بھی اس ملکہ کے مجسمے بنائے اور خریدے جاتے ہیں وہ شاید ہی کسی اور کے ہوں۔ تقریباً ہر مجسمے میں وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں، صراحی دار گردن اور لمبے سے تاج کے ساتھ بہت ہی منفرد نظر آتی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کے پہلو میں کھڑے ہو کر دو دہائیوں تک مصر پر حکومت کی۔ اس دوران اس کے خاوند نے فرعونوں کے تاریخی دارالخلافہ تھبیس سے کوئی سو کلومیٹر آگے امرنا کے مقام پر اپنا نیا دارالخلافہ بنا لیااور خود بھی وہاں منتقل ہوگیا ۔وہاں جا کر اس نے نئے سرے سے اپنے محلات اور مندروں وغیرہ کی تعمیر شروع کروائی۔ نفرتیتی بھی اسی کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہوئی اور کاروبار سلطنت چلانے میں اپنے شوہر کا خوب ساتھ نبھایا جودو سرے فرعونوں کے بر عکس حیرت انگیز طور پر صرف ایک خدا کو مانتا تھا ۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق وہ ایک وبائی مرض کا شکار ہو کر محض چالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئی اور اپنی خوبصورتی کے علاوہ ذہانت اور عظمت کی بے شمار داستانیں مصریوں اور دنیا والوں کے لئے چھوڑ گئی۔
حیرت انگیز طور پر اس کی موت کے بعد اس کا کوئی مقبرہ یا مدفن تاریخ دانوں کو نہ ملا۔ تاہم 1880ء میں
امرنا کے رہائشیوں نے ایک بری طرح تباہ شدہ مقبرہ دریافت کیا جس پر تفصیلاً تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ مقبرہ اس کے شوہربادشاہ آخیناتن اور اس کی بیٹی کا تھا۔ ملکہ نفرتیتی کے مدفن کاپھر بھی علم نہ ہوسکا ۔ پھر اسی تحقیق کے دوران ڈرامائی طور پر بادشاہ کے اس مقبرے کے ساتھ بری طرح تباہ شدہ حالت میں ایک اورکمرہ دریافت ہو۔ا اس کو جب کھولا گیا تو اس میں سے تین خواتین کی ممیاں برآمد ہوئیں جس میں سے ایک بڑی عمر کی عورت اور دو نسبتاً جوان لڑکیوں کی تھیں۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ نے یہ تسلیم کر لیا کہ بڑی عمر کی یہ خاتون ہی دراصل عظیم ملکہ نفرتیتی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

کہا جاتا ہے کہ چین کی قدیم سلطنتیں دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شامل تھیں۔ریشم، نمک اور لوہے کی تجارت پر ان کی اجارہ داری نے چین کو دنیا کادولت مند ترین ملک بنا دیا تھا۔چاول کی اہم ترین فصل کی بھی دنیا بھر میں مانگ تھی اسی لئے وہاں دولت مندوں کا ایک طاقت ور طبقہ حکمرانوں کی صف میں شامل ہو چکا تھا ۔118قبل مسیح میں بھی 28ارب سکے گردش میں تھے، محنت مزدوری بھی انہی سکوں میں ادا کی جاتی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم چینی باشندے بھی معاشی ترقی کے رازوں سے واقف تھے۔اگر گزشتہ دو ہزار سال کے افراط زر کو شامل کر لیا جائے تو ہر سال جاری ہونے والے 28کروڑ سکوں کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ماہر معاشیات آگس میڈیسن کے مطابق 10صدی عیسوی میں چین کی فی کس جی ڈی پی 450ڈالرکے برابر تھی۔تاہم جوزف نیدھم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے چینیوں کو اس سے کہیں امیر قرار دیا ہے۔چین کی شہنشاہیت یورپ کی شہنشاہیت سے کہیں بہتر اور دولتمند سمجھی جاتی رہی ہے ۔زمانہ قدیم میں چین کی شہنشاہیت نے دنیا کی معیشت پر اپنا بڑا اثرقائم رکھا۔چین آج بھی ایک معاشی سپر پاور ہے۔یورپ میں آج چین کو جدید، ہائی ٹیک، اور ترقی یافتہ معیشت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے پیچھے ایک بڑی تاریخ ہے اور ماضی قدیم میں بھی چین کی معیشت دنیا بھر میں ٹاپ پر رہی تھی۔چینی تہذیب میں دیوار چین اور ممنوعہ شہر کا بہت اہم کردار ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین کی ایمپائر کو مغرب سے مقابلے کے بعد کچھ عرصہ زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ چین کئی صدیوں تک دنیا کا امیر ترین ملک رہا۔حتی کہ مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے استوار کرنے کے بعد بھی دنیا کی تجارت پر چین کا کافی قبضہ رہا۔ستارہویں اور اٹھارویں صدی میں مغرب سے تعلقات استوار ہونے سے پہلے بھی چین کی شہنشاہیت ایک امیر اور دولت مند شہنشاہیت تھی۔مغرب کے ساتھ کمرشل تعلقات کو فروغ دینے کا مقصد یہ تھا کہ آنے والے سالوں میں چین کا دنیا کی معیشت پر اثر برقرار رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں مغرب کے بھی مفادات شامل تھے۔مغرب کا مشرق کی ایک امیر ترین شہنشاہیت کے ساتھ بہتر روابط رکھنا ،کہ جب وہ اپنی سلطنت کے دائرہ کار کو بڑھا رہا تھا ، ایک ضروری قدم تھا۔ افیون کی جنگ نے چین کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اس دور میں جب یہ جنگ لڑی گئی چین کئی سال پیچھے چلا گیا۔ تاہم سولہویں صدی کو چین کیلئے بہت خوش آئند کہا جاتا ہے جب وہ دنیا کی 25سے30 فیصد معیشت تھی۔شروع میں چین کی اشیا بہت مہنگی تھی لیکن اٹھارویں صدی میں ان کی قیمتیں گر گئیں۔ مثال کے طور پر پورسلین برطانیہ کے درمیانے درجے کے تاجروں کی پہنچ میں ہوگیا۔ چائے بھی ان میں سے ایک تھی جو امیر اور غریب کی پہنچ میں ہوگئی۔چین کیلئے چاندی کی تجارت بہت اہم تھی اور چاندی کی تجارت سے اس نے اپنی معیشت کو مضبوط کیاکیونکہ اس دور میں یورپ اپنی کالونیوں کو ایک نئی دنیا میں بدل رہا تھا۔غلاموں کو چاندی کی کانوں میں جھونکا جارہا تھا جس سے چاندی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ، یہ چاندی چین کیلئے اہم تھی ۔ خاص طور پر جب چین کی ''منگ سلطنت ‘‘میں چاندی کا بہت استعمال ہوا کیونکہ یہ اس سلطنت کی پالیسی تھی۔اسی سلطنت نے پہلی مرتبہ سکوں کی جگہ کاغذ کی کرنسی متعارف کرائی۔لیکن یہ سکیم ناکام ہوگئی جس پر سلطنت کو چاندی کی ضرورت پڑی اور 1425میں چاندی کی کرنسی شروع کی گئی۔ پندرہویں اور اٹھارویں صدی میں دنیا کا بیشتر چاندی چین بھیجا جاتا تھا جبکہ اس کے متبادل کے طور پر چین کی اشیا یورپ میں آتی تھیں۔ ہسپانیہ کی چاندی بھی چینی ایمپائر کے لئے اہم تھی، اس کے سکوں کو ''بدھاز‘‘ کہا جاتا تھا۔سولہویں سے اٹھارویں صدی جو کہ ''ہائی قنگ دور ‘‘ کہلاتا ہے میں آبادی دگنی ہوگئی۔تاہم اس دوران مقامی مصنوعات اور پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔چینی ایمپائر کی معیشت کا زوال اٹھارویں صدی میں شروع ہوا جب یورپی طاقتوں نے محسوس کیا کہ چین کے ساتھ تجارت میں بہت خسارہ کما رہے ہیں۔آزاد تجارت کا نعرہ بلند ہوا۔یورپ کے تاجروں کو براہ راست چین میں اترنے کی اجازت نہیں تھی۔آزاد تجارت کو فروغ دینے کیلئے برطانیہ نے اپنا نمائندہ چین بھیجا۔ شہنشاہ چین کے پیدائش کے دن ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ تاہم معاہدہ نہ ہو سکا۔ معیشت میں تنزلی کی ایک اور وجہ افیون کی جنگ تھی۔یورپ کے تاجروں نے چین میں چاندی کی جگہ کسی اور متبادل چیز کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کا حل یہ سوچا گیا کہ افیون چین بھیجی جائے۔ایسٹ انڈیا کمپنی جو کہ اس وقت ایک طاقت ور کمپنی تھی نے 1730میں افیون امپورٹ کرنا شروع کردیا۔افیون دوائوں اور تفریح کیلئے کئی صدیوں سے چین میں استعمال ہوتی آ رہی تھی۔لیکن اس کا مجرمانہ استعمال اٹھارویں صدی کے ابتدا میں ہوا۔ جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی۔تاہم ایسٹ انڈیا کمپنی نے افیون کی امپورٹ جاری رکھی۔برطانیہ کے علاوہ امریکہ بھی چین میں افیون کی تجارت سے وابستہ تھا۔ 1830 تک افیون چین کے کلچر کاحصہ بن چکی تھی۔ سموکنگ شہروں میں تیزی سے پھیل چکی تھی۔ 1839میں بادشاہ ڈائوگوئنگ نے غیرملکی افیون کی امپورٹ پر پابندی لگا دی۔ برطانوی افیون کو بڑی مقدار میں ضائع کردیا گیا۔ جس کے بعد برطانوی جنگی بحری جہازوں اور چین کے درمیان افیون جنگ چھڑ گئی۔ برطانوی افواج جدید ہتھیاروں سے لیس تھی جس نے جلد ہی چین کے شہروں پر قبضہ کرلیا اور ایک اہم شہر چنکیانگ کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔جنگ میں کامیابی کے بعد برطانوی حکومت آزاد تجارت کی شرط عائد کرنے کے قابل ہوگئی۔1842میں نانکنگ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔اس طرح پورٹ آزاد تجارت کیلئے کھول دیئے گئے۔افیون جنگ نے چین کی کمزور یوں کو آشکار کردیا جس سے مغربی افواج کی طاقت میں اضافہ ہوا۔آنے والے سالوں میں فرانس اور امریکہ نے بھی چین کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کئے۔چین اب بھی ایک آزاد ملک تھا لیکن اس کے بہت سے معاملات میں مغربی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ شنگھائی کے بہت سے حصوں پر غیرملکی طاقتوں کا اثر رسوخ ہوگیا اور اس کے کاروبار اور انتظامی امور کے مالک بن گئے۔ اس طرح 1856میں دوسری افیون جنگ چھڑ گئی۔اس میں بھی برطانوی اور فرانسیسی افواج نے کامیابی حاصل کی اور بیجنگ کو تخت و تاراج کیا گیا۔اس طرح چین کی تجارت پر غیرملکی اثر ورسوخ بڑھ گیا۔اس طرح چین کی معیشت کو کمزور کردیا گیا اور جو شہنشاہیت میں ایک دولت مند ملک تھا اسے جھکنے پر مجبور کردیا گیا۔

 میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

یہ 18 اپریل1986 کی بات ہے ، موسم بہار اور گرمی کے موسم کے درمیان خوشگوار دن چل رہے تھے۔ ان دنوں میں محلے کے چند گھروں میں ہی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ انٹینا کو ادھر ادھر گھما کر ٹی وی سکرین کلیئر کی جاتی تھی۔محلے کے ایک ہی گھر میں سب کرکٹ کے دیوانے جمع ہوجایا کرتے تھے۔ میزبان جو کہ خود بھی کرکٹ کا شوقین ہوتا تھا بھی خوش ہوتا تھا کہ اس کے گھر رونق لگی ہوئی ہے ۔شارجہ میں آسٹریلیشیا کپ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائنل میچ کھیلا جارہا تھا۔ میچ پر انڈیا کی مکمل گرفت تھی ، ہم سب نے زندگی کی سب سے زیادہ دعائیں اس دن مانگیں جب آخری اوور میں پاکستان کو جیت کیلئے 11رنز درکار تھے اور جاوید میانداد کریز پر موجود تھے۔ اس آخری ایک ہی اوور میں وسیم اکرم اور وکٹ کیپر ذوالقرنین آئوٹ ہوچکے تھے۔ توصیف احمدنے سنگل لے کر جاوید میانداد کو سٹرائیک دی۔ آخری گیند پر چار رنز درکار تھے ۔ جاوید میانداد چیتن شرما کا سامنا کررہے تھے۔کمنٹیٹر کی آواز گونجی۔۔۔''لاسٹ بال کمنگ اپ، فور رنز ریکوائرڈ، ہی ہٹ اے سکس اینڈ پاکستان ہیوو ون‘‘اور ہم سب خوشی سے اچھل پڑے۔ایک ناقابل یقین میچ جاوید میانداد نے پاکستان کی گود میں لاکر رکھ دیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی جیت کا اتنا جشن منایا گیا کہ شام تک شارجہ کی مٹھائی کی دکانیں ہر قسم کے میٹھے سے خالی ہو چکی تھیں۔یہ واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں اس لئے بھی اچھوتا تھا کہ آج تک کسی بیٹسمین نے ون ڈے میں اس طرح آخری گیند پر چھکا مارکر میچ نہیں جتوایا تھا۔ 1986 میں ہونے والے آسٹریلیشیا کپ میں آسٹریلیا، انڈیا، نیوزی لینڈ، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس فائنل میچ میں انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے245 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کیلئے 246رنز کا ہدف دیا تویہ ایک بظاہر مشکل ٹارگٹ لگ رہا تھا۔ انڈیا کی طرف سے سنیل گواسکر ، دلیپ ونگسارکر اور کرس سری کانت نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ جواب میں بھارتی بائولرز نے عمدہ بائولنگ کرائی اور کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کو ٹکنے نہ دیا سوائے جاوید میانداد کے کوئی بھی بلے باز قابل ذکر سکور نہ کرسکا۔ جاوید میانداد نے اس میچ میں 116رنز بنائے اور مین آف دی میچ رہے تھے ۔ حالانکہ چتن شرما نے اس میچ میں اچھی بائولنگ کرائی تھی اور تین کھلاڑیوں کو آئوٹ بھی کیا تھالیکن آخری گیند پر چھکا ان کے لئے بڑا برا ثابت ہوا جس نے زندگی بھر ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔چیتن شرما اب بھی کہتے ہیں کہ وہ چھکا آج بھی آسیب کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے، اور شاید اس وقت تک کرتا رہے گا، جب تک کہ میں زندہ ہوں۔میں اس کو بھلا دینا چاہتا ہوں لیکن لوگ نہیں چاہتے کہ میں اسے بھلاؤں اور آخر وہ بھلائیں بھی کیسے ؟ یہ مقابلہ بھی تو پاکستان کے خلاف تھا اور ہندوستان کا کوئی شخص پاکستان سے ہارنا نہیں چاہتا۔ایک مرتبہ چیتن نے کہا تھا کہ لوگوں کو ورلڈ کپ 1987ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف میری ہیٹ ٹرک یاد نہیں، انگلستان کے خلاف اسی کے ملک میں شاندار کارکردگی یاد نہیں، یاد ہے تو وہ صرف ایک گیند جو میں نے شارجہ میں جاوید میانداد کو پھینکی تھی۔ لوگ شاید یہ بات بھول جاتے ہیں کہ میں اس وقت 20 سال کا نوجوان تھا، جبکہ میرے سامنے جاوید میانداد جیسے پائے کا بلے باز تھا، مجھ سے غلطی ہوئی اور انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔جاوید میانداد نے اپنی سوانح حیات'' کٹنگ ایج‘‘ میں اس میچ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔میانداد نے تسلیم کیا کہ متواتر وکٹیں گرنے کے سبب وہ ایک مرحلے پر یقین کر چکے تھے کہ پاکستان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔میانداد لکھتے ہیں کہ جب عمران خان آؤٹ ہوئے تو انھوں نے سوچ لیا تھا کہ پاکستان کے جیتنے کی اب کوئی امید نہیں بچی اور اس وقت وہ ہارا ہوا میچ کھیل رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ پورے 50 اوورز تک کھیل کر شکست کا مارجن کم سے کم کر سکیں۔میانداد کہتے ہیں جب 48 واں اوور شروع ہوا تو اس وقت انھیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ پاکستان یہ میچ جیت سکتا ہے۔پاکستان کو آخری تین اوورز یعنی 18 گیندوں پر 31 رنز درکار تھے۔جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ ''عقلمند بلے باز ہمیشہ بائولر کا دماغ پڑھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔‘‘'مجھے پتا تھا کہ آخری گیند پر چیتن شرما یارکر کی کوشش کریں گے لہٰذا میں کریز سے تھوڑا سا آگے آکر کھڑا ہو گیا تھا تاکہ اگر وہ یارکر کرتے ہیں تو میں پیچھے ہٹ کر کھیل سکوں۔خوش قسمتی سے گیند پورے ریڈار پر آئی اور میں نے شارٹ کھیل دیا۔ گیند فل ٹاس تھی اور میری مڈ آن اور مڈوکٹ کے درمیان شارٹس لگ بھی رہی تھیں، اس لئے میں نے سوچا تھا کہ اسی ایریا میں شارٹ کھیلوں گا‘‘۔چیتن شرما نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ جو گیند کرنا چاہتے تھے وہ نہ ہو سکی۔ میری بدقسمتی کہ وہ گیند فل ٹاس ہو گئی۔چیتن شرما یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے آخری گیند کرنے سے قبل اپنا ذہن تبدیل کیا تھا کہ انھیں شارٹ پچ گیند کرنی چاہیے۔ آخری لمحے میں بائولر کے لیے ذہن تبدیل کرنا صحیح نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس وقت بہت ہی کم ہوتا ہے۔چیتن شرما کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھے کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے یہ میچ ہارنا نہیں چاہتے تھے۔ انڈیا کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کہتے ہیں کہ اس آخری گیند پر چیتن شرما کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔کریڈٹ جاوید میانداد کو جاتا ہے جنھوں نے انتہائی ذہانت سے وہ اننگز اور خاص کر آخری گیند کھیلی تھی۔جاوید میانداد نے جس بیٹ سے تاریخی چھکا لگایا وہ انھوں نے شارجہ کرکٹ کے روح رواں عبدالرحمن بخاطر کو تحفے میں دے دیا تھا۔تاہم جب ٹورنامنٹ کا آفیشل ڈنر ہوا تو اس یادگار بیٹ کو نیلام کرنے کا اعلان ہوا اور اسی وقت اس کا خریدار مل گیا ۔اس چھکے کے بعد جاوید میانداد کو ہر جانب سے قیمتی انعامات بھی ملے جن میں مرسڈیز کار بھی شامل تھی۔اس یادگار چھکے کے حوالے سے انور مقصود کا لکھا گیت جب بشریٰ انصاری نے پیروڈی میں گایا تو اس کی دھوم مچ گئی۔ بول تھے ''ایک چھکے کے جاوید کو سولاکھ ملیں گے، توصیف بچارے کو درھم آٹھ ملیں گے‘‘۔توصیف احمد نے بتایا کہ مجھے آٹھ درہم تو نہیں ملے لیکن اس گیت کے بعد انکم ٹیکس والے میرے گھر پہنچ گئے ۔جاوید میانداد کا بھی کہنا تھا کہ انہیں سو لاکھ نہیں ملے تھے اس دور میں کرکٹ میں اتنا پیسہ نہیں تھا۔

عمل کی شمع جلائیے

عمل کی شمع جلائیے

یہ گرمیوں کی ایک سہانی صبح تھی سورج کی کرنیں پہاڑوں کی اوٹ سے نکل رہی تھیں۔ سرگودھا ایک پروگرام پر جانا تھا۔ ٹیکسی کرائے پر لی اور لاری اڈے کی جانب عازم سفر ہوا۔ شہر کے صدر مقام پر پہنچا تو اشارہ بند تھا۔ قبل اس کے کہ ٹیکسی ڈرائیور اشارہ توڑتا میں نے رکنے کا کہہ دیا۔ میرے اس اچانک سے جملے پر اس نے مجھے آنکھوں کی کنکھیوں سے دیکھا اور چہرے کے تاثرات سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اور لوگ بھی تو ٹریفک کا اشارہ توڑ رہے ہیں پھر ہم کیوں رک گئے۔ اگرچہ وہ اپنی بات میں سچا تھا اور جتنا وقت ہم رکے اتنے وقت میں اطمینان سے دیکھ چکے تھے کہ اشارہ توڑنے والوں میں ایک گوالا تھا جسے دودھ پہنچانا تھا۔ ایک پولیس کی وردی میں ملبوس موٹر سائیکل سوار جسے شاید ڈیوٹی پر جانا تھا۔اشارہ توڑنے کے ساتھ ساتھ ہیلمٹ بھی نہیں تھا اور ایک صاحب کی گاڑی میں ہم نے ڈاکٹروالا کوٹ بھی دیکھا اور ایک خاتون جن کو شاید آفس پہنچنا تھا۔ بس اب ایک پیدل چلتا گدا گر ہی باقی رہ گیا تھا جو پار کے اشارے پر خاموشی سے رک کر اشارہ کھلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور اور میری نظر کا ایک ساتھ گدا گر پر پڑنا حسن اتفاق تھا اور پھر ہم دونوں کی نظروں کا ٹکرانا دوسرا حسن اتفاق تھا۔ شاید وہ مجھے بتانا چاہ رہا تھا کہ ہم میں اور اس گدا گر میں کوئی فرق باقی نہیں اور میں بتانا چاہتاتھا کہ دیکھو یہ گدا گر بھی کتنا اچھا ہے اپنی زندگی سے پیار کرتا ہے کہ اشارہ نہیں توڑتا۔ لیکن ہم دونوں کو یقین تھا کہ ہم ایک دوسرے کو ان اشاروں سے سمجھا نہیں پائے۔آج مجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ ہم ترقی کیوں نہیں کر پاتے۔ اسباب کے باوجود ترقی کانہ ہونا صرف ''ون ورڈ‘‘ جواب رکھتا ہے اور وہ ہے بے عملی۔ ہم نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔ بے عملی کا جواز تلاش کرتے ہیں اور پھر اس غلط کو درست ثابت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ہمیں ضرورت پڑنے پر غلط کو درست اور درست کو غلط بنانے کی روش چھوڑنا ہو گی۔ برائی کو خوبصورت بنانے کی ملمع سازی کو روکنا ہو گا اور اس راہ کامسافربننے کا آغاز اپنے من کی دنیا سے کرنا ہوگا وگرنہ جو افراد اللہ کی عطا کردہ نعمتوں صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاتے ان کا انجام بے وقعت ناکام اور شکستہ خورد ہ ہونے کے سوا کچھ نہیں، بے عملی کی فضا ہمارے رویوں کا اتنا گہرا حصہ بن چکی ہے کہ ہم برائی اور نیکی میں تمیز بھی نہیں کر پاتے۔ بے عمل انسان یا تو بہانے تراش کر خود کو تسلی دیتا ہے یا دوسروں پر الزامات لگا کر مگر اپنی واضح ناکامی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا آج اگر ہم اپنی عمومی زندگی پر غور و فکر کریں تو ہمیں اپنے رویوں کی بے عملی کی چند تصاویر یوں نظر آئیں گی جن سے ہم اپنے دل کو سکون دیتے ہیں۔ رشوت۔.۔۔''یہ تو تحفہ ہے۔‘‘موسیقی۔۔۔ ''یہ تو روح کی غذا ہے۔‘‘بدنظری۔۔۔۔ــ''ایک بار دیکھنا حلال ہے۔‘‘غیبت۔۔۔۔''میں اس کے منہ پہ بھی یہ بات کہہ سکتا ہوں۔‘‘سود کھانا۔۔۔ساری دینا کھاتی ہے۔‘‘بیہودہ ناول پڑھنا۔۔۔''ہم انہیں کچھ سیکھنے کیلئے پڑھتے ہیں۔‘‘تہمت۔۔۔۔یہ تو پوری دنیا کہہ رہی ہے۔‘‘حرام محفل۔۔۔۔بس ایک رات کی تو بات ہے۔‘‘بے پردگی۔۔۔۔'' پردہ تو آنکھ کا ہوتا ہے۔‘‘ترک نماز۔۔۔۔''فلاں نمازی ہزار گناہ بھی کرتا ہے۔‘‘شادیوں میں بے حیائی۔۔۔''یہ فاتحہ یا جنازہ تھوڑی ہے۔‘‘اسراف۔۔۔۔''لوگ کیا کہیں گے۔‘‘نماز باجماعت نہ پڑھنا۔۔۔''ٹائم نہیں ملتا۔‘‘آئیے آج خود سے عہد کیجیے کہ ہم خود کو بے عملی اور بد عملی سے بچائیں گے۔ چاہے اس عمل کا تعلق صرف ہماری ذات سے ہو یا قومی ملکی مفاد سے ہو۔ اس بدلائو کا آغاز ہم اپنی ذات سے ہی کر سکتے ہیں۔ اپنے حصے کا چراغ جلائیے۔ یاد رکھیں ایک برائی دوسری برائی کا جواز نہیں۔

آم کے بے شمار فوائد

آم کے بے شمار فوائد

آج کل آم بازاروں میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ اسے ذائقے اور مٹھاس کی وجہ سے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔آم میں متعدد اقسام کے وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے فائدہ مند پھل بناتے ہیں ۔ایک کپ یا 165 گرام کٹے ہوئے آم میں 99 کیلوریز، 1.4 پروٹین، 0.6 چکنائی، 25 گرام نشاستہ، 22.5 گرام مٹھاس، 2.6 گرام فائبر، وٹامن سی کی روزانہ درکار مقدار کا 67 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ مقدار کا 20 فیصد، فولیٹ کی روزانہ مقدار کا 18 فیصد، وٹامن اے اور ای کی روزانہ درکار مقدار کا 10 فیصد اور پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 6 فیصد حصہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی متعدد اہم اجزا جیسے میگنیشم، کیلشیئم، فاسفورس، آئرن اور زنک کی بھی کچھ مقدار اس پھل میں موجود ہوتی ہے۔آم میں 90 فیصد سے زیادہ کیلوریز قدرتی مٹھاس کا نتیجہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ سکتی ہے۔مگر اس پھل میں فائبر اور متعدد اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس بھی موجود ہیں جو بلڈشوگر کے مجموعی اثرات کو کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔پکے ہوئے اور میٹھے آم چھونے میں معمول سے زیادہ نرم ہوتے ہیں بالکل آڑو کی طرح، مگر اتنے بھی نرم نہیں کہ آپ کی انگلیاں اس کے اندر دھنسنا شروع ہوجائیں، تو آم کو اٹھا کر دیکھیں کہ وہ تھوڑا نرم محسوس ہو تو وہ کھانے کے لیے مناسب ہے۔اچھا آم کسی فٹ بال جیسی ساخت کا ہوتا ہے تو ایسے پھل کا انتخاب کریں جو گول مٹول ہے۔کچے آم یا کیری بھی ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے، لوگ انہیں چٹنیوں یا مختلف چیزوں کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں گرمی بہت زیادہ پڑتی ہے، کچے آم بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں، جن کا مشروب بھی تیار کیا جاسکتا ہے ۔کچے آم جگر کے لیے بہت فائدہ مند ہیں جبکہ جسمانی توانائی بڑھانے کا بھی باعث ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آم وٹامن ای سے بھرپور ہے جس کے استعمال سے انسان صحت مند اور شاداب رہتا ہے جب کہ یہ وٹامن جلد کو ترو تازگی فراہم کرتے ہیں اور چہرے پر دانوں اور کیل مہاسوں سے بچاتے ہیں۔ آم میں شامل وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے جب کہ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔آم میں موجود اجزا انسانی جسم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں اور جو لوگ آم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے دمے کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آم میں شامل اینٹی آکسیڈنٹ آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے جب کہ گلے کے غدود کے کینسر کے خلاف بھی یہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق بڑی آنت کے سرطان کے خلاف آم ایک اہم مدافعانہ ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ آم کا استعمال ہڈیوں کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے اور آم کھانے کے شوقین افراد میں وقت سے پہلے ہڈیوں کی کمزوری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آم میں موجود وٹامن اے ،بی،سی اور فائبر کے علاوہ 20 دیگر اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی گردش میں شکر کے جذب ہونے کے عمل کو کم کرتے ہیں۔ امریکی ماہرین کے مطابق آم میں موجود قدرتی مٹھاس کی مناسب مقدار شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتی۔تھوڑی مقدار میں آم کھا سکتے ہیں لیکن زیادتی سے پرہیز کیا جائے ۔آم میں موجود ریشے جنہیں فائبر بھی کہا جاتا ہے آنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ماہرین کیمطابق دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے آم ایک بہترین پھل ہے اس میں موجود پوٹاشیم ،فائبر اور وٹامن دل کی صحت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔

’’ مجسمہ آزادی‘‘ کی قیمت کس نے ادا کی؟

’’ مجسمہ آزادی‘‘ کی قیمت کس نے ادا کی؟

مجسمہ آزادی فرانسیسی عوام کا تحفہ تھا ، تانبے کے اس مجسمہ کے زیادہ ترا خراجات فرانسیسی شہریوں نے ادا کئے تھے ۔تاہم جس پتھر کے اوپر یہ مجسمہ نیو یارک ہاربر کے ایک جزیرے پر کھڑا ہے ، اس کی ادائیگی امریکی اخبارات کے ناشر ، جوزف پلٹزر کے زیر اہتمام فنڈ ریزنگ مہم کے ذریعے امریکیوں نے ادا کی ۔ فرانسیسی مصنف اور سیاسی شخصیت ایڈورڈ ڈی لیبولی نے سب سے پہلے ایک مجسمے کی آزادی کے بارے میں خیال کیا تھا جو آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا جو فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفہ ہو۔ مجسمہ ساز فریڈرک آگسٹ بارتھولدی اس خیال سے دل موہ گئے اور ممکنہ مجسمے کو ڈیزائن کرنے اور اس کی تعمیر کے خیال کو فروغ دینے میں آگے بڑھے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کی ادائیگی کیسے کی جائے۔فرانس میں مجسمے کے فروغ دینے والوں نے 1875 ء میں فرانسیسی امریکن یونین نامی ایک تنظیم تشکیل دی ۔ اس گروپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں عوام سے چندہ لینے کا مطالبہ کیا گیا اور ایک عمومی منصوبہ پیش کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ اس مجسمے کی ادائیگی فرانس کرے گا ، جبکہ پیڈسٹل کی قیمت امریکیوں کے ذریعہ ادا کی جائے گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف سے فنڈ ریزنگ کی کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ 1875 ء میں پورے فرانس سے چندہ آنا شروع ہوا۔ فرانس کی قومی حکومت کے لئے اس مجسمے کے لئے رقم کا عطیہ کرنا نامناسب محسوس ہوا ، لیکن مختلف شہروں کی حکومتوں نے ہزاروں فرانک کا حصہ ڈالا ، اور تقریباً 180 شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں نے بالآخر رقم دی۔ہزاروں فرانسیسی اسکولوں کے بچوں نے چھوٹی چھوٹی رقم دی۔ فرانسیسی افسران کی نسل کے افراد جنہوں نے ایک صدی قبل امریکی انقلاب میں جنگ کی تھی ، ان میں لفائٹی کے رشتے دار بھی شامل تھے۔ ایک تانبے کی کمپنی نے تانبے کی چادریں عطیہ کیں جو مجسمے کی جلد کو فیشن ایبل بنانے کے لئے استعمال ہوئیں۔جب 1876 میں فلاڈیلفیا میں اور اس کے بعد نیویارک کے میڈیسن اسکوائر پارک میں مجسمے کا ہاتھ اور مشعل دکھایا گیا تو اس کی خوبصورتی نے امریکیوں کوچندہ دینے کی طرف مائل کیا۔عام طور پر فنڈ مہم کامیاب رہی ، لیکن مجسمے کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہا۔ پیسے کی قلت کا سامنا کرتے ہوئے ، فرانسیسی امریکن یونین نے قرعہ اندازی کی۔ پیرس میں سوداگروں نے انعامات دیئے ، اور ٹکٹ فروخت ہوئے۔لاٹری کامیاب تھی ، لیکن ابھی مزید رقم کی ضرورت تھی۔ مجسمہ ساز بارتھولڈی نے آخر کار اس مجسمے کے چھوٹے ورژن فروخت کردیئے اور خریدار کا نام ان پر کندہ تھا۔آخر کار ، جولائی 1880 میں فرانسیسی امریکن یونین نے اعلان کیا کہ مجسمے کی عمارت کو مکمل کرنے کے لئے کافی رقم اکٹھی کی جاچکی ہے۔بے حد تانبے اور اسٹیل کے مجسمے کے لئے کل لاگت لگ بھگ 20 لاکھ فرانک تھی (جس کا اندازہ اس وقت کے امریکی ڈالر میں تقریبا$ 000 400 ڈالر تھا)۔ لیکن نیو یارک میں اس مجسمے کے قیام سے قبل مزید چھ سال گزر گئے۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لوگوں کو مجسمے کا تحفہ قبول کرنا آسان نہیں تھا۔مجسمہ ساز برتھولی 1871 میں اس مجسمے کے خیال کو فروغ دینے کے لئے امریکہ گیا ، اور وہ 1876 میں ملک کی عظیم الشان صدی کی تقریبات کے لئے واپس آیا تھا۔ اس نے چار جولائی 1876 کو نیو یارک شہر میں گذارتے ہوئے اور بندرگاہ کو عبور کرتے ہوئے مستقبل کے مقام کی سیر کی۔ بارتولڈی کی کوششوں کے باوجود ، اس مجسمے کو فروخت کرنا مشکل تھا۔ کچھ اخبارات ، خاص طور پر نیو یارک ٹائمز ، نے اکثر اس مجسمے کو بے وقوف قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی اور اس پر کوئی رقم خرچ کرنے کی شدید مخالفت کی تھی۔اگرچہ فرانسیسیوں نے اعلان کیا تھا کہ سن 1880 میں اس مجسمے کے لئے فنڈز موجود تھے ، 1882 کے آخر تک امریکی امداد ، جوکہ پیڈسٹل بنانے کے لئے درکار تھا ، ابھی تک اکٹھی نہیں ہوئی تھی ۔بارتھولڈی نے یاد دلایا کہ جب پہلی دفعہ مشعل فلاڈیلفیا کی نمائش میں 1876 میں آویزاں کی گئی تھی ، تو کچھ نیو یارک والوں کو خدشہ تھا کہ فلاڈیلفیا کا شہر پورا مجسمہ ملنے پر ختم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ 1880 کی دہائی کے آغاز میں بارتولدی نے دھمکی آمیز افواہ پھیلائی کہ اگر نیو یارک کے لوگ مجسمہ نہیں چاہتے تو ، شاید بوسٹن اسے لے کر خوش ہوگا۔اس افواہ نے کام کیا ، اور نیویارک نے اچانک مجسمے کو مکمل طور پر کھو جانے کے خوفزدہ سے اسے قبول کرلیا اور پیڈسٹل کے لئے رقم اکٹھی کرنے کے لئے میٹنگیں کرنا شروع کردیں، جس کی توقع تھی کہ اس میں کئی ہزار ڈالر لاگت آئے گی۔ پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک آرٹ شو سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ایک موقع پر وال اسٹریٹ پر ایک ریلی نکالی گئی۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا ، 1880 کی دہائی کے اوائل میں اس مجسمے کے مستقبل پر بہت زیادہ شک تھا۔فنڈ اکٹھا کرنے والے منصوبوں میں سے ایک آرٹ شو نے شاعر یما لازر کو مجسمے سے متعلق نظم لکھنے کے بارے میں تحرک دیا۔سن 1880 کی دہائی کے اوائل میں ، اخبار کے ناشر جوزف پلٹزرنے اس مجسمے کے پیچھے جانے کی وجہ کو قبول کیا۔ اس نے ہر ایک ڈونر کے نام پرنٹ کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ، توانائی سے بھر پور فنڈ مہم چلائی ۔پلٹزر کے بہادر منصوبہ نے کام کیا ، اور ملک بھر کے لاکھوں افراد نے جو کچھ بھی دے سکے وہ عطیہ کرنا شروع کردیا۔ پورے امریکہ میں اسکول کے بچوں نے پیسہ دینا شروع کیا۔پلٹزربالآخر اگست 1885 میں اعلان کرنے میں کامیاب ہوگئے ، کہ مجسمے کے پیڈسٹل کے لئے حتمی $ 000 100 ڈالرز جمع ہوچکے ہیں۔پتھر کے ڈھانچے پر تعمیراتی کام جاری رہا ، اور اگلے ہی سال فرانس سے کریٹوں میں بھری ہوئی'' اسٹیچو آف لبرٹی ‘‘(مجسمہ آزادی)کو اوپر کھڑا کردیاگیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مجسمہ آزادی کیلئے اس دور میں دنیا کی سب سے بڑی فنڈ مہم چلائی گئی۔آج اسٹیچو آف لبرٹی ایک محبوب سنگ میل ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح جو لبرٹی جزیرے پر آتے ہیں انھیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ نیویارک میں مجسمہ بنانا اور فنڈ جمع کرنا ایک لمبی تھکادینے والی جدوجہد تھی۔

کان ہی نہیں جلد بھی سنتی ہے

کان ہی نہیں جلد بھی سنتی ہے

حواس خمسہ کے باعث انسان دنیا سے رابط رکھتا ہے ۔یہ کسی بھی کمپیوٹر کے ڈیوائس کیطرح انسان کیلئے بطور ان پٹ اور آئوٹ پٹ کام کرتے ہیں۔ دنیا سے روابط کے یہ اعضاء (ڈیوائسز) انسان کیلئے اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہیں۔ ان حواس خمسہ اور دیگر اعضاء کی سلطنت کا بادشاہ انسانی ذہن ہے جو حکمرانی کرنے میں زمانوں کی تبدیلی کا محتاج نہیں۔ تربیت اور علم ذہن کی خوارک ہے اور اسی کے باعث پھلتا پھولتا اور امور سلطنت چلاتا ہے۔ انسانی زندگی میں تحقیقات کا عمل جاری و ساری ہے جس کے باعث نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔سنا تھا دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں مگر محاورہ اس وقت بنایا گیا جب سائنس و ٹیکنالوجی کا دور نہیں تھا اور آج کی تحقیقات واضح طورپر بتلا رہی ہیں کہ یہ محاورہ بالکل درست تھا کیونکہ ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی قوت سماعت کا تمام تر انحصار کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ سننے کی حس میں انسانی جلد بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل انسانی جسم کے مختلف اعضاء مل کر آوازوں کو محسوس کرتے ہیں۔( لہٰذا جلد بھی دیواروں جیسا ہی عمل سر انجام دے رہی ہے(سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دراصل انسانی جسم کے مختلف اعضاء مل کر آوازوں کو محسوس کرتے ہیں)۔ اس سے قبل 1976ء میں بھی سائنسدانوں نے کسی آواز کو سننے میں آنکھوں کے کردار کو دریافت کیا تھا۔اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی آنکھیں اور جلد کانوں کو کسی آواز سے متعلق بے وقوف بھی بنا سکتے ہیں۔ ‘‘مِک گروک '' نامی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی ایسی ویڈیو دیکھی جا رہی ہو جس میں کوئی شخص ''گا‘‘ کہے اور اس کی آواز روک کر مصنوعی طور پر ''با‘‘ کی آواز نشر کرے تو سامع کو وہ آواز 'دا‘ کی سنائی دے گی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کئی آوازیں ایسی ہیں، جنہیں سننے کے لئے انسانی دماغ کانوں کے علاوہ دوسرے جسمانی اعضاء سے بھی کام لیتا ہے۔ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی آوازیں ایسی ہیں جنہیں پیدا کرتے ہوئے انسان ہوا میں ہلکی سی پھونک مارتا ہے، اور یہ پھونک ہوا کو اس طرح متاثر کرتی ہے کہ سامع اس لفظ کو سن سکتا ہے۔ انسانی دماغ کسی لفظ کو شناخت کرنے کے لئے کئی جسمانی اعضاء سے کام لیتا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے وابستہ ایک محقق بریان گِک نے کی ہے اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں ان کا ساتھ اسی یونیورسٹی سے وابستہ ایک طالب علم ڈونلڈ ڈیرک نے دیا ہے۔ان محققین کا کہنا ہے کہ ہوا میں کسی لفظ کی ادائیگی کے دوران پھونک کا استعمال ''پ‘‘ اور ''ت ‘‘سمیت کئی لفظوں کو قابل سماعت بناتا ہے۔محققین نے 66 افراد کا مطالعہ کیا۔ ان افراد کو ہیڈ فونز کے ذریعے کچھ آوازیں سنوائی گئیں۔ ایک سیشن کے دوران ان افراد کو ''پا‘‘ اور ''با‘‘ اور پھر'' تا‘‘ اور'' دا ‘‘کی آوازیں سنوائی گئیں۔ ان افراد کے جسموں کے مختلف حصوں پر باریک نالیوں کے ذریعے تیز ہوا بھی برسائی گئی۔ آوازوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں جب مختلف طرز کی پھونکیں ان نالیوں کے ذریعے پھینکی گئیں تو زیادہ تر افراد آواز کی شناخت کرنے میں ناکام رہے۔ اسی طرح سائنسدانوں نے کہا کہ اگران الفاظ کی ادائیگی کے دوران منہ سے ہوا کے یہ ہلکے جھکڑ نہ چلیں تو بھی انسان آوازوں کی شناخت میں ناکام ہو جاتا ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسان شروع ہی سے ان لفظوں کو جلد سے چھونے والی انتہائی کم ماہیت کی ہوا کے لحاظ سے پہچاننا سیکھتا ہے اور یہ ہوا جلد کے ذریعے دماغ میں لفظوں اور آوازوں کی شناخت کا باعث ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسان اس عمل کے لئے جلد کا استعمال اس لئے کرتا ہے کیونکہ انسان کا پورا جسم اسی غلاف میں لپٹا ہوا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی جلدکئی الفاظ کے درمیان تمیز کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے اور اگر مصنوعی طور پر ہوا میں آواز کے ساتھ بھیجی جانے والی پھونکوں کو تبدیل کر دیا جائے تو انسان آواز بھی دوسری ہی سنتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ انتہائی تیز ہوا چل رہی ہو تو آوازوں کو سننے میں سخت مشکلات پیش آتی ہیں۔تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جلد کے علاوہ انسانی دماغ اندازوں کی مدد سے بھی کئی آوازوں کو پہچانتا ہے۔ کسی جگہ پر بہت شور ہو تو بھی انسانی دماغ کانوں سے زیادہ اندازوں پر بھروسہ کرنا پسند کرتا ہے۔امید ہے کہ اس تحقیق کے بعد اب سرگوشی میں بات کرنے کیلئے نئی تکنیک استعمال کی جائے گی کیونکہ ذہن کا کیا بھروسہ وہ تو ہر حال میں سننے کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا چغلی کرنے کیلئے اب خواتین کو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، میرا مشورہ یہی ہے کہ گھر کا ماحول اب ایسی گپ شپ کیلئے سازگار نہیں رہا کیونکہ اگر ساس کی جلد حساس ہوئی تو خیر نہیں۔