علم جغرافیہ کا پہلا محقق اور ماہر ابو عبداللہ محمد الادریسی
اسپیشل فیچر
ابو عبداللہ محمد الادریسی دنیا کا پہلا جغرافیہ دان، نقشہ نویس اور ماڈل بنانے والا شخص تھا۔ الادریسی نے زمین کے طبعی حالات کی تحقیق کی اور اسی نے زمین کی شکل گول بتائی۔ الادریسی نے زمین کا ایک گول ماڈل بھی بنایا۔ یہ ماڈل چاندی کا تھا۔ اس ماڈل میں اس نے ممالک کے نقشے بھی بتائے۔ الادریسی نقشہ نویسی کے فن سے بھی خوف واقف تھا۔ اس نے دنیا کا نقشہ بنایا اس میں مختلف ممالک دکھائے۔ اس نے بحری نقشے بھی بنائے جس میں سمندری راستے دکھائے گئے۔ اس فن یعنی علم جغرافیہ اور نقشہ نویسی میں الادریسی دنیا کا پہلا ماہر شخص گزرا ہے۔
ابتدائی زمانہ، تعلیم و تربیت
ابو عبداللہ محمد الادریسی کے والدین اندلس کے عرب باشندے تھے، مسلم علوم و فنون کی ہر طرف دھوم تھی۔ یورپ سے طلبہ کے گروہ در گروہ اندلس آ رہے تھے۔ اور علم و فن کی تعلیم حاصل کرکے واپس جاتے تھے۔ ادریسی نے ایسے ماحول میں آنکھیں کھولیں۔الادریسی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔ الادریسی کو علم جغرافیہ سے دلچسپی تھی۔ اس نے علم جغرافیہ میں مطالعہ شروع کیا، طبعی جغرافیہ کے متعلق تحقیق کی، اس نے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کیا اور علم جغرافیہ کا ماہربن گیا۔الادریسی گھومتا پھرتا صفلیہ (سسلی)پہنچا، بادشاہ راجرس دوم نے الادریسی کا خیر مقدم کیا، بڑی خاطر مدارت کی اور اپنے دربار میں جگہ دی۔ یہ 1099ء کا واقعہ ہے۔ الادریسی کے بہترین کام یہیں انجام پائے۔ اس کی شہرہ آفاق تصنیف ''تزہتہ المشتاق فی احتراق الآفاق‘‘ اسی جگہ مرتب ہوئی۔
علمی خدمات اور کارنامے
الادریسی کو علم جغرافیہ سے کمال دلچسپی تھی۔ یہ پہلا جغرافیہ دان ہے اور پہلا شخص ہے جس نے زمین کی طبعی تحقیق کی، ملکوں کے حالات معلوم کئے اور اس علم کو مرتب کیا۔ س علم پر کتابیں لکھیں۔ نقشہ بنایا اور ماڈل تیار کیا۔الادریسی نے فلسفہ، علم ہیئت اور اس وقت کے مروج علوم و فنون سے ہٹ کر علم جغرافیہ پر اپنا کام شروع کیا۔ اس نے زمین کی بناوٹ اور اس کے حصے معلوم کئے، زمین کے طبعی حالات، موسم پیداوار، آب و ہوا ان سب باتوں کی تحقیق کی، علم جغرافیہ کو اس نے مرتب کیا اور باقاعدہ اس علم پر کتابیں لکھیں، اس نے نقشہ بھی بنایا۔الادریسی نے زمین کی شکل اور اس کی بناوٹ کے بارے میں تحقیق کی۔ اور اس نے یہ رائے قائم کی کہ زمین کی شکل گول ہے۔دنیا کے مختلف ممالک کے جائے وقوع کا نقشہ بھی اس نے بنایا۔ اس نے دنیا کا نقشہ بنایا اور اس نقشے میں مختلف ممالک کو دکھایا۔ دنیا کا یہ نقشہ اس کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ تھا۔ الادریسی نے جو نقشے مختلف ممالک کے بنائے ہیں، اس میں مقامات کے ساتھ ساتھ دریا، پہاڑ، میدان، جھیلیں، جنگلات غرض سب حصے بنائے ہیں۔
الادریسی کی دوسری کتاب'' بروضہ الانس و نزہتہ النفس‘‘ ہے ۔الادریسی کا یہ جغرافیہ اور اس کے بتائے ہوئے نقشے تین صدیوں تک یورپ میں رائج ہے اور بنیاد بنے رہے۔ اہل یورپ نے اس کتاب سے بہت فائدے اٹھائے۔ اس کتاب کا یورپ میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ دریائے نیل کو صحیح منبع اور دیگر معلومات، اہل یورپ نے اسی کتاب کے ذریعے معلوم کئے، نقشے دیکھے اور فن نقشہ نویسی سیکھا۔
بحری جغرافیہ کا پہلا محقق اور ماہر
الادریسی نے بحری نقشے بھی تیار کئے۔ اس دور میں عرب پائلاٹ جن کو عربی میں معلم یا مستعمل مرکب کہتے تھے۔ پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، ان میں سے محمد بن شاذان سہل بن امان اور ابن ماجد کو اسد البحر کا لقب دیا گیا تھا۔لیکن علمی حیثیت سے جس نے کام کیا اور جملہ معلومات کو مرتب کیا وہ الادریسی ہے۔ الادریسی نے دریائے نیل کا صحیح منبع دریافت کیا اور بتایا کہ دریائے نیل کہاں سے نکلتا ہے، اس نے افریقہ کے نقشے میں دریائے نیل کو منبع کو بتایا۔الادریسی نے علم جغرافیہ پر ایک جامع کتاب لکھی۔ اس کا نام '' نزہتہ المشتاق فی احتراق الآفاق‘‘ ہے۔ یہ کتاب علم جغرافیہ پر دنیا کی پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے اپنی جملہ تحقیقات اور جغرافیائی معلومات نہایت عمدہ ترتیب سے جمع کردی ہیں۔ ہر جگہ نقشے بھی دیئے ہیں۔
دنیا کا ماڈل
الادریسی کے جدت پسند دماغ نے دنیا کا ایک ماڈل تیار کیا۔ قیاس اور تجربے کی بنیاد پر اس نے دنیا کو گول بتایا، اور پھر دنیا کا ایک گول ماڈل بنایا۔ یہ گول ماڈل چاندی سے بنا ہوا تھا، دنیا کے اس ماڈل میں ممالک دکھائے گئے تھے۔ دنیا کا یہ پہلا ماڈل تھا۔
الادریسی نے علم جغرافیہ پر اپنی جامع کتاب اور یہ ماڈل اپنے محسن بادشاہ راجرس دوم کی خدمت میں پیش کیا۔بادشاہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور انعام و اکرام سے نوازا۔الادریسی کے دونوں ماڈل کرہ سمادی اور کرہ زمین وہاں کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔