انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن دھویں میں اڑتی زندگی

انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن دھویں میں اڑتی زندگی

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹرمصورانصاری


صحت مند زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے سب سے قیمتی تحفہ ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ یہ ایک فطری جذبہ بھی ہے۔ کوئی بھی انسان جانتے بوجھتے اپنی صحت سے غافل نہیں رہ سکتا لیکن اس کے باوجود بھی اس دنیا میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق سگریٹ نوشی ایسی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے جنہیں تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ روکا جا سکتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب دس کروڑ افراد تمباکونوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت سگریٹ نوشی ہر دس بالغ افراد میں سے ایک کی ہلاکت کا سبب ہے۔ یعنی ہر سال تقریباً پانچ ملین لوگ سگریٹ نوشی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو 25برسوں میں یہ تعداد دگنی یعنی ایک کروڑ ہو جائے گی۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 36فیصد مرد اور 9فیصد خواتین تمباکونوشی کی عادت میں مبتلا ہیں اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 افراد سگریٹ نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہرسال ایک لاکھ63 ہزارسے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں خصوصاً اس کے پھیلاؤ کی رفتار بہت تیز ہے۔
اس منظر نامے میں اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ پوری دنیا مل کر عوام الناس میں تمباکونوشی کے حوالے سے آگاہی کے لیے کردار ادا کرے۔ تمام لوگوں کی توجہ کسی خاص جانب مرکوز کرنے کیلئے عالمی ایام نہایت اہم ہوتے ہے۔ اسی کے پیش نظر گزشتہ کئی سال سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ''عالمی ادارہ صحت‘‘کی جانب سے 31 مئی کو دنیا بھر میں تمباکونوشی سے انکار کا دن منایا جاتا ہے۔ ابلاغ کے تمام ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے بڑے پیمانے پر عوام الناس میں تمباکونوشی سے انسانی صحت کو لاحق خطرات سے آگاہی کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں اور مختلف ممالک میں عوامی آگاہی کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔
تمباکونوشی کے نقصانات
جب کوئی انسان تمباکونوشی کرتا ہے تو سات ہزار سے زائد کیمیائی مادے اس کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کینسر سوسائٹی آئر لینڈ اور امریکن لنگ ایسوسی ایشن نے ان خطرناک اور مہلک ترین کیمیائی مادوں کی باقاعدہ نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ کس قدر انسانی صحت کیلئے خطرناک ہیں جنہیں تمباکو نوش جانتے بوجھتے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جب کوئی انسان سگریٹ، پان ، نسوار، گٹکا یا حقے کا استعمال کرتا ہے تو یہ تمام نقصان دہ کیمیائی مادے جن میں کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی اکسائیڈ، سائنائڈف، ٹار وغیرہ شامل ہیں اس کے پھیپھڑوں اور جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔پھیپھڑوں کا کینسر90فیصد تمباکو کی وجہ سے ہوتا ہے۔
انسانی نفسیات پر اثرات
تمباکونوشی کے صرف انسانی جسم ہی نہیں، نفسیات پر بھی انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ تمباکو کا استعمال کرنے والے ذہنی تناؤ کو کم کرنے ، تھکاوٹ کو دور کرنے ، سکون کے حصول اور پریشانی سے نجات کو اس کا جواز بناتے ہیں۔ اکثر لوگ بے بنیاد طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ تمباکونوشی ان کے لیے آسودگی و سکون کا باعث ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی بوریت کو دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان بے بنیاد خیالات کو امریکی یونیورسٹی کی طبی تحقیق میں غلط ثابت کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق تمباکونوشی نفسیاتی دباؤ کم کرنے کی بجائے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
تمباکونوشی سے خود اس فرد کی زندگی اور صحت پر جو بُرے اثرات پڑتے ہیں ، وہ اپنی جگہ مسلمہ ہیں لیکن دوسری جانب دوسرے ایسے لوگ جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے، وہ بھی اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ اس عمل کو پیسو سموکنگ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ گھر کا ایک فرد اگر تمباکونوشی کرتا ہے تو اس دوران اس کے اہل خانہ اور خاندان کے دیگر افراد بھی اس کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں۔ اس کے دہرے اثرات ہوتے ہیں۔ ایک تو اس کے بچوں اور دیگر کم عمر افراد میں اس عمل کا شوق پیدا ہوتا ہے دوسرا وہ اس کے دھوئیں کے منفی اثرات کی براہ راست زد میں ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوش کے ساتھ رہنے والا ایک گھنٹے میں جتنا تمباکو سونگھتا ہے، وہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
تمباکو کی عادت پڑنے کے بعد اس کو چھوڑنا آسان نہیں لیکن اگر انسان عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ تمباکونوشی سے نجات کیلئے سب سے زیادہ ضروری اور بنیادی چیز قوت ارادی ہے۔ یہ معلوم ہے کہ ماہِ رمضان میں تمباکونوش حضرات بھی سحری تا افطار اس عادت کو ترک کئے رکھتے ہیں۔اگر ذرا سی کوشش کی جائے تو اس عادت سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے سب سے اہم چیز ارادہ ہے کیونکہ یہ ایسی عادت ہے جس سے بہت کم عرصے میں چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے 8 گھنٹے بعد خون میںنکوٹین اور کاربن مونوآکسائیڈ کی سطح نصف سے کم رہ جاتی ہے جبکہ 48 گھنٹے بعد جسم اور پھیپھڑے کاربن مونوآکسائیڈ سے پاک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو اس عادت کو پختہ بنا کر تمباکونوشی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیںبچوں کی مسکراہٹ ان کی صحت، اعتماد اور خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں دانتوں کی ایک ایسی پراسرار بیماری تیزی سے سامنے آ رہی ہے جس نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بیماری کے باعث بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی دباؤ یا چبانے کے دوران بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف صفائی کی کمی یا زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پس پردہ کئی پیچیدہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اس بیماری کی وجوہات جاننے کیلئے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بچوں کی خوراک، بولنے کی صلاحیت، اعتماد اور مجموعی صحت پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے طبی مسئلے نے والدین، دانتوں کے ڈاکٹروں اور محققین سب کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد دانتوں کی ایک کم معروف بیماری کا شکار ہو رہی ہے، جس کے باعث ان کے دانت زرد، کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کو ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (molar incisor hypomineralisation ) کہا جاتا ہے۔ اس میں دانتوں کی حفاظتی بیرونی تہہ، یعنی اینیمل (Enamel)، مناسب طور پر مضبوط نہیں بن پاتی، جس کے نتیجے میں دانت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کیڑا لگنے یا ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری کو عام طور پر ''چاک جیسے دانت‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ متاثرہ دانت معمول سے زیادہ نرم اور بھربھرے ہوتے ہیں۔ اس کی علامات اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جب تقریباً چھ سال کی عمر سے بچے کے مستقل دانت نکلتے ہیں۔ شدید نوعیت کے مریضوں میں دانت اتنے نازک ہو جاتے ہیں کہ نکلنے کے صرف چند ماہ بعد ہی ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو برسوں تک دانتوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں بار بار فلنگ کروانا، دانت نکلوانا اور طویل المدتی و مہنگا علاج شامل ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری دانت صاف نہ کرنے، زیادہ چینی کھانے یا روزمرہ کی ناقص عادات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل وجہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں دانتوں کے اینیمل کی تشکیل میں خرابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں میں دانتوں کی صفائی سے متعلق عام خرابیوں اور کیڑے لگنے کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (MIH) کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونے لگی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیماری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بیماری کو پہلی بار 1980ء کی دہائی میں شناخت کیا گیا تھا، لیکن آج اندازاً ہر چھ میں سے ایک بچہ اس عارضے کا شکار ہے۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ناروے کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق اس خطے میں تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ اس بیماری سے متاثر ہے۔برطانوی ماہرین دندان سازی کا کہنا ہے کہ ان کے کلینکس میں ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ کے شکار بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری بچوں کیلئے کھانا کھانے، مشروبات پینے اور یہاں تک کہ دانت صاف کرنے کے عمل کو بھی انتہائی تکلیف دہ بنا سکتی ہے۔ تاہم سائنس دان اب تک اس بیماری کی اصل وجہ جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔شیفیلڈ یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کی ماہر اور پروفیسر ڈاکٹر ہیلن راڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ بیماری کیوں ہو رہی ہے۔ اس کا تعلق بچوں کے دانتوں کی صفائی یا دیکھ بھال سے نہیں، کیونکہ یہ دانت پیدائش کے وقت ہی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تقریباً چھ سال کی عمر میں مستقل دانت نکلتے ہیں تو وہ پہلے ہی بد رنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں، مگر ہم اس کی واضح وجہ بیان نہیں کر سکتے۔ اسی طرح نیوکاسل یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کے کلینیکل لیکچرر اور برٹش سوسائٹی آف پیڈیاٹرک ڈینٹسٹری کے ترجمان پروفیسر گریگ ٹیلر کے مطابق اصل مسئلہ دانتوں میں موجود معدنیات کی مقدار سے متعلق ہے۔ دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ، جسے اینیمل کہا جاتا ہے، انسانی جسم کا سب سے مضبوط مادہ ہے۔ یہ زیادہ تر معدنیات، خصوصاً کیلشیم اور فاسفیٹ، پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ''ایم آئی ایچ‘‘سے متاثرہ بچوں میں اینیمل میں ان معدنیات کی مقدار معمول سے کم جبکہ پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اینیمل کمزور، نرم اور زیادہ مسام دار (Porous) بن جاتا ہے۔ متاثرہ دانتوں کے چھوٹے چھوٹے حصے آسانی سے ٹوٹ کر الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کا رنگ بھی اردگرد کے صحت مند دانتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ رنگ دھبے دار سفید، کریمی، زرد یا بھورے رنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔طبی تعریف کے مطابق ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ سب سے پہلے مستقل داڑھوں (پہلی مولر) کو متاثر کرتی ہے، جو عموماً بچے کی چھ سال کی عمر میں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر سامنے کے اوپری مستقل دانت (اِنسائزر) بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر متاثرہ بچے کے تمام متعلقہ دانت اس بیماری کا شکار ہوں۔

باسفورس پل

باسفورس پل

دو براعظموں کو ملانے والا عظیم شاہکاردنیا میں بعض تعمیرات محض اینٹ، پتھر، فولاد اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اقوام کی ترقی، فنی مہارت اور تہذیبی شناخت کی علامت بن جاتی ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں واقع باسفورس پل بھی ایسی ہی ایک عظیم شاہکار تعمیر ہے، جو نہ صرف ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط استعارہ بھی ہے۔ آبنائے باسفورس پر ایستادہ یہ شاندار پل روزانہ لاکھوں افراد اور ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت کو ممکن بناتا ہے، جس کے باعث استنبول کی معاشی، سماجی اور سفری زندگی میں اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنی منفرد انجینئرنگ، دلکش منظر اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے باسفورس پل نہ صرف ترکی کی ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔باسفورس برج استنبول میں آبنائے باسفورس کے اوپر بنے ہوئے دو پلوں میں سے پہلا پل ہے۔ یہ لوہے اور سٹیل سے تیار کیا گیا معلق پل ہے۔ باسفورس میں اس پل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے۔ بلکہ باسفورس کے دونوں کناروں پر لمبے ستون کھڑے کرکے مضبوط سٹیل کے رسوں سے پل کو سہارا دیا گیا ہے۔ باسفورس پل4954فٹ لمبا اور 128فٹ چوڑا ہے جبکہ دونوں ستونوں کے درمیان کا فاصلہ3524فٹ ہے اور ستونوں کی بلندی 344 فٹ ہے۔ نیچے پانی کی سطح سے پل 210 فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ پل کے نیچے سے بڑے سے بڑا جہاز بھی آسانی سے گزر سکے۔ جب یہ پل1973ء میں مکمل ہوا تو اس وقت یہ دنیا کا چوتھا معلق پل اور امریکہ کے پلوں کے بعد سب سے لمبا پل تھا اور اس وقت یہ دنیا کا 17واں طویل معلق پل ہے۔ اس پل کو دو برطانوی انجینئروں سر گلبرٹ رابرٹس اور ولیم برائون نے ڈیزائین کیا۔ انھوں نے دنیا کے کئی مشہور پل ڈیزائن کیے تھے۔ فروری 1970ء میں باسفورس برج کی تعمیر شروع ہوئی اور30اکتوبر1973ء کو یہ مکمل ہوا۔ اس پل کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ترکی کے صدر جودت ثنائے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمریل نے شرکت کی۔ ایک ٹرکش تعمیراتی کمپنی نے برطانیہ کی کلیو لینڈ برج اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے اشتراک سے اس پل کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس پل کی تعمیر میں 35 انجینئروں اور 400 کاریگروں نے حصہ لیا۔ یہ پل 1973ء میں ترکی کے جمہوریہ بننے کی 50سالہ گولڈن جوبلی کی تقریب سے ایک دن بعد مکمل ہو گیا۔ صدر کورو ترک اور وزیر اعظم نعیم ناتونے مل کو اس پل کا افتتاح کیا۔ اس پل کی تعمیر پر200ملین ڈالر لاگت آئی۔ باسفورس برج کے کل8لین ہیں۔ 3،3لین گاڑیوں کیلئے اور ایک ایک لین کوایمرجنسی استعمال کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ صبح کے وقت کیونکہ زیادہ تر ٹریفک کا بہائو ایشیاسائیڈ سے یورپ سائیڈ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے صبح چار لین صرف جانے کیلئے اور دو لین یورپ سائیڈ سے ایشیاسائیڈ جانے کیلئے کھولے جاتے ہیں اوریہی صورت شام کو یورپ سائیڈسے ایشیا سائیڈ جانے کیلئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس پل سے روزانہ ایک لاکھ 85ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور ایشیاسائیڈ کی طرف13ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں اور واپسی پر دوبارہ ٹول ادا نہیں کرنا پڑتا۔ باسفورس پل درمیان میں 35انچ تک جھولتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!علن فقیر:صوفی و لوک گلوکار ( 2000-1932ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!علن فقیر:صوفی و لوک گلوکار ( 2000-1932ء)

٭...1932ء میں پیدا ہوئے، اصل نام علی بخش تھا، سندھ کے ضلع دادو سے تعلق تھا۔٭...ان کے والد دھمالی فقیر مشہور ساز شہنائی بجانے کے حوالے سے معروف تھے۔ ٭...وہ سریلی آوازیں سنتے، مقامی سازوں کو دیکھتے، انھیں تھامنے اور بجانے کے فن کو سمجھتے ہوئے بڑے ہوئے۔ یوں وہ لوک گیت اور موسیقی سے شروع ہی سے مانوس ہوگئے۔٭...انہیں سندھی شاعری کی مشہور صنف وائی گانے میں مہارت حاصل تھی۔ ٭...وہ اپنی گائیکی کے مخصوص انداز کی وجہ سے ہر خاص و عام میں مقبول تھے۔ ٭...پرفارمنس کے دوران سندھ کے روایتی لباس کے ساتھ ان کا منفرد اور والہانہ انداز حاضرین و ناظرین کی توجہ حاصل کر لیتا تھا۔ ٭...گائیکی کے دوران ان کا مخصوص رقص، جھومنا اور مست و سرشاری کا عالم اپنی مثال آپ تھا۔٭...سندھ کے عظیم شاعروں کا کلام گانے والے علن فقیر کا نام ''تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا، اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا‘‘ اور ''اتنے بڑے جیون ساگر میں تْو نے پاکستان دیا‘‘ جیسے گیتوں کی بدولت فن کی دنیا میں امر ہو گیا۔٭...1987ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭... 1999ء میں پاکستان ٹیلی وژن نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عطا کیا۔ ٭...وہ 4 جولائی 2000ء کو کراچی میں فوت ہوئے،جامشورو میں آسودہ خاک ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی اعلان آزادی 4 جولائی 1776ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس نے امریکہ کے اعلانِ آزادی کی منظوری دی۔ اس تاریخی دستاویز کے ذریعے تیرہ امریکی نوآبادیات نے برطانوی حکومت سے اپنی آزادی کا باضابطہ اعلان کیا۔ اعلان آزادی کی تیاری میں تھومس جیفرسن نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ امریکی انقلاب کا اہم سنگ میل ثابت ہوا اور اسی کی یاد میں ہر سال 4 جولائی کو امریکہ میں یومِ آزادی قومی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ ہیٹ ویو4جولائی 1911ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید گرمی کی ایک ہولناک لہر نے تباہی مچا دی۔ یہ ہیٹ ویو مسلسل گیارہ دن تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں 380 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس دوران کئی شہروں میں درجہ حرارت نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے، جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ اس واقعے کو امریکی تاریخ کی ابتدائی اور مہلک ترین گرمی کی لہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ''گرینڈ جنکشن ریلوے‘‘کا افتتاح 1837ء میں آج کے روز دنیا کی پہلی طویل فاصلے کی ریلوے لائن ''گرینڈ جنکشن ریلوے‘‘ کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ریلوے لائن برمنگھم اور لیورپول کے درمیان قائم کی گئی تھی۔ اس منصوبے نے برطانیہ میں ریل کے سفر اور تجارتی نقل و حمل میں انقلاب برپا کیا، مختلف شہروں کے درمیان رابطے مضبوط بنائے اور بعد ازاں دنیا بھر میں ریلوے نظام کی ترقی کیلئے ایک اہم مثال ثابت ہوا۔بلغراد کا محاصرہ 4جولائی 1456ء کوبلغراد کا محاصرہ شروع ہوا، جو ایک اہم معرکہ تھا۔ بلغراد کے مضبوط قلعے کا محاصرہ سلطان محمود فاتح دوئم کی عثمانی فوج نے کیا، مگر جان ہنیادی کی قیادت میں ہنگری کے محافظوں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ اس فتح نے یورپ میں عثمانی پیش قدمی کو کئی دہائیوں تک سست کر دیا اور اسے قرونِ وسطیٰ کی اہم ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔مجسمہ آزادی کے تاج تک رسائی4جولائی 2009ء کو مجسمہ آزادی ''لبرٹی‘‘ کے تاج کو آٹھ سال بعد دوبارہ عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ اسے 11 ستمبر کے حملہ کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔ دوبارہ افتتاح کے بعد محدود تعداد میں سیاحوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت مجسمہ آزادی کے تاج تک جانے کی اجازت دی گئی، جہاں سے نیویارک سٹی کا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔سپیس شٹل ڈسکوری کی روانگی2006ء میں آج کے روز سپیس شٹل ڈسکوری نے ''ایس ٹی ایس121‘‘ مشن کے تحت بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی جانب کامیاب پرواز کی۔ اس مشن کا مقصد خلائی اسٹیشن تک سامان اور عملہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ شٹل کی حفاظتی جانچ اور نئے طریقہ کار کا جائزہ لینا تھا۔ یہ مشن اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ امریکی خلائی شٹل پروگرام کی تاریخ میں یہ واحد پرواز تھی جو ریاستہائے متحدہ کے یومِ آزادی (4 جولائی) کے دن روانہ ہوئی، جس کے باعث اسے عالمی ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی توجہ حاصل ہوئی۔

یورپ میں گرمی کی شدید لہر

یورپ میں گرمی کی شدید لہر

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اشارےیورپ طویل عرصے تک معتدل موسم، خوشگوار گرمیوں اور ٹھنڈی ہواؤں کیلئے جانا جاتا رہا ہے لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یورپ ایسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جسے سائنسدان اب تک کی سب سے زیادہ گرم اور مرطوب ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں۔ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جبکہ فضا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس گرمی کو انسانی صحت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے جو مستقبل میں دنیا کے دیگر خطوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔نمی اور گرمی کا امتزاجعام طور پر جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو انسانی جسم پسینہ خارج کرکے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن اگر ہوا میں نمی بہت زیادہ ہو تو پسینہ جلد خشک نہیں ہوتا۔ نتیجتاً جسم کا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے ماہرین صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ ہیٹ انڈیکس یا محسوس ہونے والے درجہ حرارت کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ موجودہ ہیٹ ویو میں کئی یورپی ممالک میں اگرچہ درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، لیکن نمی کی وجہ سے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ گرمی محسوس کی۔یہ صورتحال بچوں، بزرگوں، مزدوروں اور مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔یورپ میں ریکارڈ ٹوٹنے لگےفرانس، سپین، اٹلی، جرمنی، پرتگال، پولینڈ اور وسطی یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک نے سکول بند کر دیے، بیرونی کھیلوں کی سرگرمیاں محدود کر دیں اور شہریوں کو دن کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات جاری کیں۔بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے توانائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ زراعت، سیاحت اور صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثرماہرین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ اس نوعیت کی شدید گرمی قدرتی موسمی تغیر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے۔کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کے مسلسل استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ رہی ہے جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں بلکہ ان کا دورانیہ بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ علاقے بھی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ماضی میں ایسی صورتحال شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی۔تحقیقی اداروں کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو آئندہ برسوں میں یورپ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں اس سے بھی زیادہ شدید اور مرطوب ہیٹ ویوز معمول بن سکتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبقاگرچہ یہ ہیٹ ویو یورپ میں آئی ہے لیکن پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کے ساتھ نمی بھی اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ہیٹ انڈیکس خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کراچی، لاہور، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں موسم گرما کے دوران یہی صورتحال بارہا دیکھی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی، زیادہ درخت لگانے، گرین ایریاز میں اضافہ، صاف توانائی کے استعمال اور عوام میں آگاہی پیدا کیے بغیر مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنا مشکل ہوگا۔عام شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گرمی کے اثرات کم کر سکتے ہیں مثلاً زیادہ پانی پینا، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا اور بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنا۔یورپ کی ہیٹ ویو صرف ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کا امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔اگر عالمی برادری نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں پر فوری عمل نہ کیا تو مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور زیادہ تباہ کن ہو جائیں گی۔

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

نئی تحقیق ، حیران کن انکشافصحت مند غذا کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کر سکے۔ متوازن خوراک نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مدافعتی نظام کو بھی مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ہاورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ روزمرہ کی خوراک ہمارے دماغ کی صحت، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ دماغ کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے کے لیے کون سا غذائی نظام سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اس تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ انسٹھ ہزار سے زائد بالغ افراد کے غذائی معمولات اور ذہنی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ہاورڈ کے محققین نے مختلف غذائی منصوبوں کا موازنہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی غذائی عادات بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کو بہتر طور پر برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔تحقیق میں چھ مختلف غذائی نظام شامل تھے، جن میں Mediterranean ڈائٹ، DASH ڈائٹ اور دیگر معروف غذائی منصوبے شامل تھے۔ نتائج کے مطابق DASH ڈائٹ دماغی صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی جبکہ Mediterranean ڈائٹ دوسرے نمبر پر رہی۔DASHڈائٹ کیا ہے؟DASH دراصل Dietary Approaches to Stop Hypertension کا مخفف ہے۔ یہ غذائی منصوبہ ابتدا میں ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں متعدد مطالعات سے معلوم ہوا کہ اس کے فوائد دل اور خون کی شریانوں تک محدود نہیں بلکہ دماغ کو بھی نمایاں فائدہ پہنچاتے ہیں۔اس غذا میں تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، مچھلی اور مرغی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ نمک، چینی، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اورزیادہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے DASH ڈائٹ پر زیادہ مستقل مزاجی سے عمل کیا ان میں بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری یا یادداشت میں کمی محسوس کرنے کا خطرہ تقریباً 41 فیصد کم دیکھا گیا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متوازن غذا دماغی افعال کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو مسلسل مناسب غذائیت درکار ہوتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر، وٹامنز، معدنیات اور صحت بخش چکنائی دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے، خون کی روانی بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے مثبت اثرات یادداشت اور توجہ پر مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق میں ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اگر صحت مند غذائی عادات کا آغاز درمیانی عمر یعنی تقریباً 45 سے 54 سال کے درمیان کر لیا جائے تو بڑھاپے میں اس کے فوائد زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی صحت کے تحفظ کے لیے احتیاط کا آغاز علامات ظاہر ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی کر دینا چاہیے۔Mediterranean ڈائٹ کی اہمیت برقراراگرچہ اس تحقیق میں DASH ڈائٹ نے بہترین نتائج دیے لیکن Mediterranean ڈائٹ بھی انتہائی مفید ثابت ہوئی۔ اس غذا میں زیتون کا تیل، مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، نٹس اور ثابت اناج نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور اسے دنیا کے صحت مند ترین غذائی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے صرف یہ معلوم ہوا کہ دماغی صحت کے حوالے سے DASHڈائٹ کو معمولی برتری حاصل رہی۔محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں لوگوں کی غذائی عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا لیکن یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صرف DASH ڈائٹ ہی بہتر دماغی صحت کی وجہ بنتی ہے۔ جسمانی سرگرمی، نیند، تعلیم، معاشرتی روابط اور دیگر عوامل بھی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے باوجود چونکہ تحقیق بہت بڑی آبادی پر کی گئی اور اس کے نتائج واضح رہے اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں مزید کلینیکل تحقیقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔جدید سائنسی تحقیق اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ دماغ کی صحت کا تعلق صرف ذہنی مشقوں یا جینیاتی عوامل سے نہیں بلکہ روزمرہ کی خوراک سے بھی گہرا ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس اور کم چکنائی والی غذائیں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ دماغی افعال کو بھی بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت اب بھی موجود ہے لیکن موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات اپنانا بڑھتی عمر میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن غذا کو صرف جسمانی صحت کا ذریعہ نہیں بلکہ دماغی صحت میں سرمایہ کاری بھی سمجھنا چاہیے۔