البیرونی:عظیم مسلم سائنسدان
اسپیشل فیچر
آج ہم جس مسلم سائنسدان کی بات کریں گے وہ مسلم دنیا کے فلسفی،مفکر، ماہر طبعیات ،ماہر معدنیات،ماہر بشریات اور سائنسدان ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ریاضی کی جیومیڑی اور فلکیات ہے۔ہم بات کر رہے ہیںابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المشہور''البیرونی‘‘کی۔ان کی گراں قدر خدمات کی وجہ سے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کے عظیم سائنسدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت سے اتناآگے تھے کہ ان کے بہت سے دریافت کیے ہوئے عوامل ان کے ہمعصر سائنسدانوں کیلئے ناقابل ِ فہم تھے۔
البیرونی 973ء میں پیدا ہوئے۔ وہ بوعلی سینا کے ہمعصر تھے۔ خوارزم میں حالات خراب ہونے پر انہوں نے جرجان کی جانب رختِ سفر باندھا۔جہاں انہوں نے اپنی عظیم کتاب ''آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ‘‘مکمل کی۔حالات سازگار ہوئے توالبیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میںبو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
البیرونی نے ''کتاب الہند‘‘بھی تالیف کی۔انہیں اس کتاب کو لکھنے میں بہت محنت کرنا پڑی کیونکہ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے۔البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن حیران رہ گئے۔ اس کتاب کیلئے انہوں نے سیاحت بھی کی اور جن شہروں کی سیاحت کی ان کے ارض بلد کی پیمائش کا کام ان مقامات پر قطبی ستارے کی بلندی معلوم کرکے سر انجام دیا۔
البیرونی کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے ،انہوں نے نو عینی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا۔نظری اور عملی طور پر مائع پر دبائواور ان کے توازن پر ریسرچ کی۔انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکربرقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے محیط ارض نکالنے کا نظریہ واضح کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔
یورپ 17ویں صدی عیسوی تک جہالت کی تاریکی میں ڈوبا رہا۔جب اس نے کروٹ لی تو مسلم سائنسدانوں،ماہر فلکیات و ریاضی کی تصانیف اور تجربات سے فائدہ اْٹھایا۔یہ وہ عظیم مسلمان سائنسدان تھے جو کائنات پر غور و فکر کرتے تھے اور ہردم اسے تسخیر کرنے میں مصروف رہے تھے۔
البیرونی نے کوہِ ہمالیہ پر قدیم سمندری جانوروں کے فوسلز بھی دیکھے۔جس سے انہوں نے یہ نظریہ قائم کیا کہ کبھی پانی کی سطح نہایت بلند تھی اور یہ پہاڑی سلسلہ اس میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ پہاڑوں میں اپنی جگہ سے سرکتے رہنے کارحجان موجود ہوتا ہے۔ البیرونی نے زمین کے نیچے مختلف پرتوں کے سرکنے کا نظریہ قائم کیا جبکہ اس نظریہ کو جدید دور میں ثابت کیا جا سکا۔ارضیات پر اپنی تحریر میں البیرونی نے زمین کے حرکت کرنے کا نظریہ پیش کیاجبکہ اس دور تک اور اس کے بعد کے دور میں بھی ماہرین نجوم زمین کی گردش کے نظرئیے کو رد کرتے تھے۔
''قانونِ مسعودی‘‘ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے، جس کا نام اس نے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے اور اس وقت کے حکمران مسعود کے نام پر رکھا تھا۔یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پراس وقت میں لکھی گئیں۔
البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ''البیرونی کریٹر‘‘ ہے۔عظیم سائنسدان،ماہر فلکیات و ریاضی،عظیم مورخ، تاریخ دان اور سیاح البیرونی9دسمبر 1048ء کو دنیا فانی سے کوچ کرگئے لیکن ان کی دریافتوں سے دنیا آج بھی فائدہ اْٹھا رہی ہے۔ہمیں بھی دنیا میں کچھ ایسا کرنا چاہیے جس سے ہمارے جانے کے بعد بھی لوگ فائدہ اْٹھا سکیں۔