تاریخ میں پہلی بار خلائی سٹیشن سے خلا بازوں کاطبی انخلا
اسپیشل فیچر
ناسا کی ہنگامی کاروائی،کریو11 کی مقروہ وقت سے پلے واپسی
خلائی تحقیق کی تاریخ میں گزشتہ ہفتے ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ناسا نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کیلئے طبی انخلا کی کارروائی شروع کی۔ یہ واقعہ نہ صرف سائنسی دنیا بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کی بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ خلا جیسے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں انسانی صحت کا تحفظ ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے اور اس ہنگامی اقدام نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جدید خلائی طب، حفاظتی منصوبہ بندی اور انسانی جان کی اہمیت کو اوّلین ترجیح دینے کی واضح مثال ہے، جو مستقبل کی خلائی مہمات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کو تاریخ میں پہلی بار اس وقت انخلا کی تیاری کرنا پڑی جب ایک خلا باز کو طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین (Jared Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ''کریو11‘‘ اپنی طے شدہ واپسی کی تاریخ (فروری) تک مشن جاری نہیں رکھے گا اور ان کی محفوظ واپسی کا طریقہ کار جلد طے کیا جائے گا۔ آئزک مین نے کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے خلا بازوں کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ کریو11 کو مقررہ وقت سے پہلے واپس بلایا جائے۔ یہ اعلان اس پیش رفت کے ایک دن سے بھی کم وقت میں سامنے آیا جب ناسا نے طبی مسئلے کے باعث جمعرات کو ہونے والی اسپیس واک منسوخ کر دی تھی۔
''کریو11‘‘ میں چار خلا باز ناسا کی زینا کارڈمین (Zena Cardman ) اور مائیک فنکے(Mike Fincke)، جاپانی خلا باز کیمیا یوئی (Kimiya Yui)اور روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف (Oleg Platonov) شامل ہیں۔ حال ہی میں اس گروپ کے ساتھ جاپانی خلا باز کوئیچی واکاتا (Koichi Wakata)اور ناسا کے خلا باز کرس ولیمز ( Chris Williams) بھی شامل ہوئے تھے، جو نومبر 2025ء میں ایک روسی سوئیوز خلائی جہاز کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ آئزک مین کے مطابق ولیمز امریکی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے سوئیوز عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن پر ہی قیام کریں گے۔
اگرچہ جس خلا باز کو طبی مسئلہ پیش آیا اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم ناسا کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیمز پولک نے بتایا کہ خلا باز کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں اور واپسی تک ساتھی عملے کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر پولک نے مزید کہا کہ خلا باز کو پیش آنے والا طبی مسئلہ آئندہ ہونے والی اسپیس واک یا خلائی اسٹیشن پر جاری کسی اور سرگرمی سے متعلق نہیں تھا۔انہوں نے مخصوص طبی تفصیلات بتائے بغیر وضاحت کی کہ یہ زیادہ تر مائیکرو گریویٹی جیسے مشکل ماحول میں پیدا ہونے والا ایک طبی مسئلہ ہے۔ناسا کے مطابق خلا باز کی محفوظ حالت برقرار رکھنے کیلئے واپسی تک کسی خصوصی احتیاطی تدابیر کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کی حالت کو انخلا کے منصوبے کی تکمیل تک تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
ناسا کو اس سے قبل کبھی طبی وجوہات کی بنیاد پر کسی خلا باز کو واپس نہیں لانا پڑا، تاہم ہر آئی ایس ایس مشن میں ہنگامی انخلا کا منصوبہ شامل ہوتا ہے اور عملے کی واپسی کیلئے خلائی گاڑیاں ہمہ وقت تیار رکھی جاتی ہیں۔
ناسا کے سربراہ نے مزید کہاکہ اب تک خلا بازوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ادارے کی تیز رفتار کوششوں پر مجھے فخر ہے۔البتہ ناسا کے منتظم نے یہ بھی واضح کیا کہ خلائی ادارہ اس معاملے کو ایک سنگین طبی حالت سمجھتا ہے، جس کے باعث حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ تاریخ میں پہلی بار طبی انخلا ضروری ہو گیا ہے۔تاہم ڈاکٹر پولک نے اس بات پر زور دیا کہ خلا باز کو فوری خطرہ لاحق نہیں، جس کی وجہ سے ناسا کو کسی غیر محفوظ پرواز کے وقت میں جلد بازی سے انخلا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ڈاکٹر پولک نے کہا کہ عملے کا رکن مکمل طور پر مستحکم ہے، اس لیے میں مشن کے شیڈول یا ان کی سرگرمیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کرتا۔ ''کریو11‘‘ یکم اگست 2025ء کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچا تھا، جس کے باعث ان کی واپسی کی تاریخ فروری کے اواخر میں طے کی گئی تھی۔ چاروں خلا بازوں کو اس وقت واپسی کرنا تھی جب ''کریو12‘‘ پندرہ فروری سے قبل ایک اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچتا۔ جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ اگر کریو12 کی لانچ تاریخ آگے لانے پر غور بھی کیا گیا تو اس سے فروری 2026ء میں طے شدہ ''آرٹیمس ٹو ‘‘ مشن متاثر نہیں ہوگا۔
انہوں نے دونوں لانچز کوبالکل الگ مہمات قرار دیاہے، جس کا مطلب ہے کہ آرٹیمس مشن وقت پر لانچ ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آرٹیمس ٹو 1972ء کے بعد چاند کے گرد گردش کرنے والی پہلی انسانی خلائی پرواز ہوگی۔
دوسری جانب، آئی ایس ایس پر ہر وقت خلا بازوں کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، کیونکہ وہ دیکھ بھال، مرمت، پیچیدہ تجربات کے انعقاد، لائف سپورٹ نظام کے انتظام اور اسپیس واکس جیسے اہم فرائض انجام دیتے ہیں۔ایسے کام جنہیں خودکار نظام مکمل طور پر سنبھال نہیں سکتے۔ اس طرح حفاظت اور سائنسی پیداوار کیلئے انسانی نگرانی برقرار رہتی ہے۔اب تک آئی ایس ایس سے کسی بھی عملے کو مقررہ وقت سے پہلے واپس نہیں بلایا گیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں خلا بازوں کو درپیش مختلف صحت کے مسائل کے باعث دو اسپیس واکس منسوخ کی جا چکی ہیں۔2021ء میں ایک مشن اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب خلا باز مارک وانڈے ہائی کو اعصابی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اسٹیشن سے باہر جانے کے قابل نہ رہے۔اسی طرح 2024ء میں ایک اسپیس واک آخری لمحے پر اس وقت منسوخ کر دی گئی جب ایک خلا باز کو ''اسپیس سوٹ میں تکلیف‘‘ محسوس ہوئی۔