کھپرا اور سسری اناج کے دشمن
اسپیشل فیچر
گندم کی فصل سردیوں میں یعنی اکتوبر نومبر میں کاشت کی جاتی ہے اور گرمیوں میں یعنی اپریل مئی میں پک کر تیار ہونے کے بعد کاٹی جاتی ہے۔ گندم کی فصل کو تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زمین کی تیاری، خالص بیج کا حاصل کرنا، کاشت کرنا، مہنگی کھادیں، جڑی بوٹی مار ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، کٹائی، تھریشنگ اور سب سے زیادہ محنت طلب کام پانی لگانا ہے۔ شدید سردی میں گندم کو رات کے وقت جنگلی جانوروں کی موجودگی میں پانی لگانا سخت جان کاشتکار ہی کر سکتا ہے۔
یہ کسان کی خوراک کی فصل ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ ''جس کے گھر میں دانے اس کے کملے بھی سیانے‘‘ ورنہ اس میں کاشتکار کو منافع نہیں ہوتا ہے۔ کاشتکار کی فصل پک جانے اور گھر میں دانے آ جانے کے بعد بھی مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ گندم کے دانے گھر آ جانے کے بعد گھر والوں کیلئے 1/2یا 1من تک گندم پسوائی جاتی ہے جس سے روٹی پکا کر گھر والوں کیلئے خوراک کا حصہ بنتی ہے اور باقی گندم کے دانے بوریوں اور بڑھولوں میں سنبھال دی جاتی ہے۔ دوسری وجہ سنبھالنے کی یہ بنتی ہے کہ فصل تیار ہو کر گھر آ جانے کے بعد نرخ کم لگتا ہے اس لئے گندم کے دانوں کو محفوظ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ گندم کے دانے کیڑوں سے صاف بوریوں یا بڑھولوں میں بھرنے چاہئے ورنہ ان بوریوں یا بڑھولوں میں محفوظ شدہ دانوں پر کھپرا اور سسری جیسے کیڑے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ان کیڑوں کی چار حالتیں ہوتی ہے مثلاً انڈہ، لاروا( گرب)، پیو پا اور کھپرا یا سسری۔ یہ کیڑے یعنی کھپرا یا سسری اور لاروا( گرب) کی حالت میں دانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے نمی والے مہینوں مثلاً جون، جولائی اور اگست میں زیادہ پھیلتے ہیں اس لئے ان کی روک تھام کیلئے جون، جولائی بہترین مہینے ہیں۔
گندم کے دانوں کی جلد سخت ہوتی ہے۔ کیڑوں کو اس طرح دانوں کو کھانا مشکل ہوتا ہے۔ کیڑا دو وجوہات سے گندم کے دانوں کو خراب کرتا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ سٹور کرتے وقت ٹوٹے ہوئے دانوں کی موجودگی جو کہ عموماً تھریشر کی وجہ سے شامل ہو جاتے ہیں اور دوسری وجہ نمی کی ہے جس سے گندم کا دانہ نرم ہو جاتا ہے۔ گندم کے دانہ کو اگر دانت سے توڑیں تو ''کڑک‘‘ کی آواز آنی چاہئے۔ ایسے دانوں میں نمی کا تناسب صحیح ہوتا ہے اور یہ سٹور کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ٹونے ٹوٹکوں پر عمل نہیں کرنا چاہئے اور صرف اینٹو مولوجسٹ کے مشوروں پر عمل کریں۔
سب سے بہترین دوائی المونیم فاسفائیڈ ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں ہر زرعی ادویات کے ڈیلروں کے پاس موجود ہیں۔ پیکنگ 10 گولیوں سے لے کر 150گولیوں تک ہوتی ہے۔ 2.5من دانوں میں ایک گولی کے حساب سے خرید کریں یا اتنی خریدیں جتنی ضرورت ہے۔ ورنہ اس کو گھر میں اگلے سال تک کیلئے رکھنا نقصان دہ ہے۔
اگر پچھلے سال بوریوں یا بھڑولوں میں کھپرا اور سسری کا حملہ ہو چکا تھا تو ضروری ہے کہ استعمال شدہ بوریوں اور بھڑولوں کو گندم کے دانے ڈالنے سے پہلے ڈیلٹا میتھرین ایک حصہ دوائی اور 50 حصہ پانی میں ملا کر بھڑولہ کے اندر یا بوریوں پر سپرے کریں۔ ایک یا دو دن کے بعد گندم کے دانے ڈالیں اور ان کے اندر پلیٹ یا پیالے میں 2.5من دانوں کیلئے ایک گولی کے حساب سے استعمال کریں۔ ان گولیوں کو کپڑے میں باندھ کر نہ رکھیں اس طریقہ سے گولیوں سے صحیح طریقہ سے گیس خارج نہیں ہوتی ہے۔ گولیوں کی گیس 15فٹ تک نیچے، اوپر اور دائیں بائیں اثر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ پیالہ یا پلیٹ اس لئے بھی بہتر ہے کہ بعد میں گولیوں کی راکھ گندم کے دانوں میں مکس نہیں ہونی چاہیے۔
گولیاں رکھنے کے بعد بھڑولہ میں گندم ڈالنے والی اور نکالنے والی جگہوں کو صحیح طور پر بند(سیل) کرنا ضروری ہے۔ بھڑولہ کا اوپر والا حصہ اور دانے نکالنے والے حصہ کو اچھی طرح آٹا کو گیلا کرکے یا گارا سے لیپ دینا چاہئے تاکہ گیس باہر نہ نکل سکے اور اس طرح دانوں کو دو ہفتہ (15دن)تک سیل بند رہنا چاہئے اور سیل کھولنے کے 2دن بعد تک گندم کے دانوں کو ہرگز استعمال نہ کریں۔ گولیوں کی راکھ کو شاپر میں ڈال کر دانوں کے باہر زمین میں دبا دیں یا کوڑا کرکٹ میں ڈال دیں۔