ناسا کا نیا منصوبہ
اسپیشل فیچر
چاند پر جوہری خلائی گاڑی بھیجنے کی تیاری
انسان نے گزشتہ چند دہائیوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب چاند پر قدم رکھنا ہی انسان کا سب سے بڑا خواب سمجھا جاتا تھا، مگر آج خلائی ادارے نہ صرف دوبارہ چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں بلکہ مریخ اور اس سے بھی دور اجرامِ فلکی تک رسائی کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں۔ انہی کوششوں کے تسلسل میں امریکی خلائی ادارہ ناسا ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والے مریخ طرز کی خلائی گاڑی کو چاند پر بھیجا جا سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
''روور‘‘ دراصل ایک خودکار روبوٹک گاڑی ہوتی ہے جو کسی سیارے یا چاند کی سطح پر چلتے ہوئے تصاویر حاصل کرتی، مٹی اور چٹانوں کا تجزیہ کرتی، ماحول کا مشاہدہ کرتی اور قیمتی سائنسی معلومات زمین پر بھیجتی ہے۔ ناسا نے گزشتہ برسوں میں مریخ پر متعدد کامیاب خلائی گاڑیاں بھیجی ہیں، جن میں اسپرٹ، آپرچیونٹی، کیوریاسٹی اور پرسیویئرنس نمایاں ہیں۔ ان مشنز نے مریخ کے بارے میں انسانی علم میں بے پناہ اضافہ کیا اور اس امکان کو تقویت دی کہ ماضی میں وہاں پانی اور زندگی کیلئے سازگار حالات موجود رہے ہوں گے۔
اب سائنس دان اسی تجربے کو چاند پر بھی آزمانا چاہتے ہیں، لیکن اس مرتبہ خلائی گاڑی کو جوہری توانائی سے چلانے کی تجویز زیر غور ہے۔ عام طور پر خلائی گاڑیاں شمسی توانائی پر انحصار کرتی ہیں، مگر چاند پر تقریباً چودہ دن طویل رات ہوتی ہے، جس کے دوران سورج کی روشنی دستیاب نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں صرف شمسی پینل کافی ثابت نہیں ہوتے۔ جوہری توانائی پر مبنی نظام روور کو مسلسل توانائی فراہم کر سکتا ہے، جس کی بدولت وہ شدید سردی، تاریکی اور دشوار ماحول میں بھی کئی برس تک اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف چاند کی سطح کا مزید تفصیلی مطالعہ نہیں بلکہ مستقبل کی طویل المدتی خلائی مہمات کیلئے نئی ٹیکنالوجی کا عملی امتحان بھی ہے۔ آنے والے برسوں میں اگر انسان چاند پر مستقل تحقیقی مراکز یا رہائشی اسٹیشن قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے خودکار آلات کی ضرورت ہوگی جو انسانی موجودگی کے بغیر بھی مسلسل کام کرتے رہیں۔ جوہری توانائی سے چلنے والا روور اسی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں کی خاص دلچسپی چاند کے جنوبی قطب میں ہے، جہاں مستقل سائے میں رہنے والے بعض گڑھوں میں برف کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ اگر وہاں واقعی پانی کی برف موجود ہے تو اسے پینے کے پانی، آکسیجن کی تیاری اور ہائیڈروجن ایندھن بنانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی زیادہ تر خلائی مہمات کا مرکز یہی علاقہ بن رہا ہے، اور ایک جدید خلائی گاڑی ان وسائل کی بہتر انداز میں نشاندہی کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ منصوبہ مریخ پر انسانی مشن کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ چاند زمین کے مقابلے میں زیادہ قریب ہے، اس لیے نئی ٹیکنالوجی کو پہلے وہاں آزمانا نسبتاً محفوظ اور کم خرچ سمجھا جاتا ہے۔ اگر جوہری توانائی سے چلنے والا روور چاند کے سخت ماحول میں کامیابی سے کام کرتا ہے تو اسی طرز کی ٹیکنالوجی مستقبل میں مریخ، مشتری کے برفیلے چاندوں اور دیگر دور دراز خلائی مشنز میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
البتہ اس منصوبے کے ساتھ بعض چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جوہری توانائی کا خلائی استعمال انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ سائنس دانوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ راکٹ کی لانچنگ سے لے کر مشن کی تکمیل تک تابکار مواد مکمل طور پر محفوظ رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ماحول یا انسانی جانوں کیلئے خطرہ پیدا نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے منصوبوں میں کئی برس تک تحقیق، آزمائش اور حفاظتی جائزے کیے جاتے ہیں۔
آج خلائی تحقیق صرف سائنسی جستجو تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی، مواصلات، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبوں سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ امریکہ، چین، یورپ، بھارت اور دیگر ممالک چاند اور مریخ سے متعلق اپنے اپنے پروگراموں کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس نئی خلائی دوڑ میں کامیابی صرف تکنیکی برتری ہی نہیں بلکہ مستقبل کے سائنسی اور معاشی امکانات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
اگر ناسا کا یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو جوہری توانائی سے چلنے والی خلائی گاڑی صرف چاند کی نئی حقیقتوں سے پردہ نہیں اٹھائے گی بلکہ انسان کی بین السیاراتی مہمات کی بنیاد بھی مزید مضبوط کرے گی۔ ممکن ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہی ٹیکنالوجی انسان کو مریخ پر مستقل موجودگی قائم کرنے، خلائی وسائل سے فائدہ اٹھانے اور نظامِ شمسی کے دیگر مقامات تک رسائی میں مدد دے۔ یوں یہ منصوبہ محض ایک خلائی گاڑی بھیجنے کی کوشش نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اگلے خلائی باب کی تیاری بھی ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔