پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ
اسپیشل فیچر
کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے بچے ہوتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے معمار، سائنس دان، اساتذہ اور رہنما بنتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کیلئے اُس بچے کا تصور کیجیے جس کی زندگی کتابوں، کھیل کے میدانوں اور خوابوں کے بجائے اسپتال کے بستروں، خون کی بوتلوں اور سوئیوں کے گرد گھومتی ہو۔ جو ہر پندرہ سے بیس دن بعد صرف زندہ رہنے کیلئے خون لگوانے پر مجبور ہو۔ پاکستان میں ہزاروں بچوں کی زندگی اسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے اور یہی حقیقت تھیلیسیمیا کو ہمارے ملک کے سب سے بڑے مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے عوامی صحت کے مسائل میں شامل کرتی ہے۔
تھیلیسیمیا کوئی لاعلاج یا ناقابلِ روک تھام بیماری نہیں۔ جدید طبی سائنس نے برسوں پہلے ایسے مؤثر طریقے فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے اس بیماری کے نئے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ مسئلہ بیماری نہیں بلکہ ہماری غفلت، کمزور پالیسی سازی اور صحت کے نظام کی ناکامی ہے۔
پاکستان میں ساٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریض تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً چھ ہزار نئے بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد افراد تھیلیسیمیا جین کے کیریئر ہیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اپنی کیفیت کا علم بھی نہیں ہوتا۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔
جب دو ایسے افراد، جو بظاہر صحت مند ہوں مگر دونوں تھیلیسیمیا جین کے حامل ہوں، آپس میں شادی کرتے ہیں تو ہر حمل میں پچیس فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوگا۔ پچاس فیصد امکان یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھی صرف کیریئر ہوگا، جبکہ صرف پچیس فیصد امکان رہ جاتا ہے کہ بچہ مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر والدین کو اس حقیقت کا علم اُس وقت ہوتا ہے جب ان کی گود میں ایک متاثرہ بچہ آ چکا ہوتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صرف مریض کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک بچے کے مسلسل علاج کیلئے والدین کو بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے، ملازمت سے چھٹیاں لینا پڑتی ہیں، معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور خاندان کے دیگر بچوں کی تعلیم اور ضروریات بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یوں یہ بیماری صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اگر پاکستان واقعی صحت مند اور مضبوط معاشرہ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بیماری کے علاج سے زیادہ اس کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک نے یہی راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوئے، جبکہ ہم اب بھی اُن بچوں کا انتظار کرتے ہیں جو ہر سال اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
تھیلیسیمیا میجر کے مریض کی زندگی ایک مستقل آزمائش ہوتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی آسان علاج نہیں بلکہ مریض کو پوری زندگی باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد خون نہ لگایا جائے تو جسم میں خون کی شدید کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف مسلسل خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جسے کم کرنے کیلئے آئرن چیلیشن تھراپی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر یہ علاج بروقت نہ ہو تو دل، جگر اور دیگر اہم اعضا نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس بیماری کا معاشی بوجھ بھی کسی سانحے سے کم نہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 85 فیصد متاثرہ خاندان علاج کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نجی اسپتال میں صرف ایک مرتبہ خون کی منتقلی پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، سفر اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ بہت سے والدین اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں، قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنے دوسرے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات قربان کر دیتے ہیں تاکہ ایک بچے کی زندگی بچائی جا سکے۔
دنیا کے کئی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی اور سیاسی عزم کے ذریعے تھیلیسیمیا کے نئے کیسز میں حیرت انگیز حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ایران اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ 1990ء کی دہائی میں وہاں شادی سے قبل لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ کا قومی پروگرام متعارف کرایا گیا۔ شادی کے خواہشمند جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ کیریئر ثابت ہونے والے جوڑوں کو جینیاتی مشاورت فراہم کی گئی۔ مسلسل حکومتی سرپرستی، عوامی آگاہی اور مؤثر نظام کی بدولت ایران نے تھیلیسیمیا میجر کے نئے کیسز کو تقریباً ختم کر دیا۔ اس کامیابی نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ بیماری کے علاج سے کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ راستہ اس کی بروقت روک تھام ہے۔
اسی طرح سعودی عرب نے بھی 2004ء میں تھیلیسیمیا اور سکل سیل بیماری کیلئے شادی سے قبل لازمی اسکریننگ کا پروگرام نافذ کیا۔ حکومت نے صرف قانون سازی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علماء، طبی ماہرین، میڈیا اور کمیونٹی کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا۔ نتیجتاً عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا اور موروثی خون کی بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔یہ دونوں مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تھیلیسیمیا کے خلاف کامیابی صرف اسپتالوں میں نہیں بلکہ مؤثر پالیسی، عوامی شعور، سیاسی عزم اور معاشرتی تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کو تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے کسی نئے معجزے یا مہنگی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس قابل ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ، تشخیصی لیبارٹریاں اور سائنسی مہارت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو ایک انفرادی بیماری نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایک جامع قومی پالیسی مرتب کرے جس میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کیریئر اسکریننگ کو مرحلہ وار قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جینیاتی مشاورت کی سہولت ہر ضلع تک پہنچائی جائے، تاکہ نوجوان اور ان کے خاندان سائنسی معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلے کر سکیں۔ اسکریننگ کا مقصد کسی کی شادی روکنا یا سماجی رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس کے ساتھ محفوظ خون کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ملک بھر میں جدید بلڈ بینکنگ سسٹم، رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ثقافت اور خون کی سخت جانچ کے نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ تھیلیسیمیا کے تمام مریضوں کو معیاری خون، آئرن چیلیشن ادویات اور خصوصی طبی مراکز تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ علاج کسی خاندان کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر مریض کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔
اگر ہم نے آج احتیاط، آگاہی اور سائنسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی بیماری سے محفوظ بنا سکتے ہیں جو بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہے۔ لیکن اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو ہر سال ہزاروں نئے بچے اور ان کے خاندان اسی اذیت ناک سفر کا آغاز کریں گے جسے ہم آج بھی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو ایک قابلِ روک تھام بحران کو مسلسل برداشت کرتے رہیں یا پھر قومی عزم، سائنسی شواہد اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں کسی بچے کا مستقبل ہر پندرہ دن بعد خون کی ایک بوتل کا محتاج نہ ہو۔اب صرف آگاہی کافی نہیں، عمل کا وقت آ چکا ہے۔