آج کا دن
اسپیشل فیچر
برطانیہ کا اعلانِ جنگ
4 اگست 1914ء کو برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جس کے بعد پہلی جنگِ عظیم ایک حقیقی عالمی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس سے چند روز قبل آسٹریا۔ہنگری اور سربیا کے درمیان تنازع شروع ہوا تھا لیکن جرمنی کی جانب سے غیر جانبدار ملک بلجیم پر حملے نے برطانیہ کو مداخلت پر مجبور کر دیا۔ جب جرمنی نے برطانوی الٹی میٹم مسترد کر دیا تو 4 اگست کی رات برطانیہ باضابطہ طور پر جنگ میں شامل ہوگیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی برطانوی سلطنت کے زیرِ انتظام ممالک بھی جنگ کا حصہ بن گئے جن میں برصغیر ہند بھی شامل تھا۔ لاکھوں ہندوستانی فوجیوں نے یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مختلف محاذوں پر خدمات انجام دیں۔
این فرینک کی گرفتاری
4 اگست 1944ء کو نازی جرمنی کی پولیس نے ایمسٹرڈیم میں این فرینک، اس کے خاندان اور ان کے ساتھ چھپے ہوئے دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔ این فرینک تقریباً دو سال تک ایک خفیہ مقام پر اپنے خاندان کے ساتھ چھپی رہی تھی۔ اسی دوران اس نے اپنی روزمرہ زندگی، خوف، امیدوں اور جنگ کے حالات پر مشتمل ایک ڈائری لکھی جو بعد میں دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شامل ہوئی۔ گرفتاری کے بعد انہیں مختلف حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا۔ این فرینک1945 کے اوائل میں برگن بیلسن کیمپ میں بیماری کے باعث وفات پا گئی لیکن اس کے والد اوٹو فرینک زندہ بچ گئے۔ جنگ کے بعد اوٹو فرینک نے این کی ڈائری شائع کروائی جو اَب درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔
اپر وولٹا کا نام تبدیل
4 اگست 1984ء کو مغربی افریقہ کے ملک اپر وولٹا کا نام تبدیل کرکے برکینا فاسو رکھا گیا۔ یہ فیصلہ صدر تھامس سانکارا نے اپنی حکومت کے پہلے سال کی تکمیل پر کیا۔ برکینا فاسو کا مطلب دیانت دار لوگوں کی سرزمین یا باعزت انسانوں کا وطن ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد نوآبادیاتی دور کی شناخت سے نکل کر ایک نئی قومی شناخت قائم کرنا تھا۔ سانکارا نے صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ زرعی اصلاحات، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور خود انحصاری کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے۔ اگرچہ ان کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی لیکن آج بھی انہیں افریقہ کے اہم انقلابی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بیروت بندرگاہ دھماکہ
4 اگست 2020ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ایک ہولناک دھماکہ ہوا جسے جدید تاریخ کے سب سے بڑے غیر ایٹمی دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بندرگاہ کے گودام میں کئی برسوں سے تقریباً 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ غیر محفوظ حالت میں رکھا گیا تھا۔ آگ لگنے سے یہ کیمیکل پھٹ گیا جس سے پورا شہر لرز اٹھا۔ اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق، سات ہزار سے زیادہ زخمی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ بندرگاہ، ہسپتالوں، رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اربوں ڈالر کا معاشی خسارہ ہوا۔
جیسی اوونز کا تمغہ
4 اگست 1936ء کو امریکی ایتھلیٹ جیسی اونزنے برلن اولمپکس میں 100 میٹر دوڑ کا طلائی تمغہ جیتا۔ یہ اولمپکس نازی جرمنی کے حکمران ایڈولف ہٹلر کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئے تھے جہاں آریائی نسل کی برتری کا بھرپور اظہار کیا گیا۔ اوونز، جو ایک افریقی نژاد امریکی کھلاڑی تھے، نے نہ صرف 100 میٹر بلکہ مجموعی طور پر چار طلائی تمغے جیت کر اس نسل پرستانہ نظریے کو دنیا کے سامنے غلط ثابت کیا۔ ان کی غیر معمولی کارکردگی کھیلوں کی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ واپس آنے پر بھی انہیں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ وہ مساوات، عزم اور انسانی وقار کی علامت بن گئے۔