روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا
اسپیشل فیچر
28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار، روبوٹ نے یوسین بولٹ کو پیچھے چھوڑ دیا
روبوٹکس کی دنیا میں انسان نما مشینوں کو تیز، ذہین اور زیادہ باصلاحیت بنانے کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ''سپر مین‘‘ نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے حیران کن رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس روبوٹ نے دوڑتے ہوئے 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو تقریباً 45.5 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ رفتار عام انسان کیلئے حیران کن ہے اور روبوٹکس کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ایسی پیشرفت مستقبل میں روبوٹس کی نقل و حرکت، صنعتی کاموں اور مختلف مشکل حالات میں ان کے استعمال کے امکانات کو مزید وسیع کرسکتی ہے۔
ایک حیرت انگیز ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چینی سائنس دانوں کا تیار کردہ روبوٹ ''سپر مین‘‘ ٹریک پر دوڑتے ہوئے 12.66 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرلیتا ہے۔اس کے مقابلے میں سپرنٹ کے عالمی چیمپئن یوسین بولٹ نے 2009ء میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 12.42 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 27.78 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔اس روبوٹ کو چین کے شہر ہانگژو میں قائم روبوٹکس کمپنی یونٹری (Unitree) نے تیار کیا ہے، جو جدید اور تیز رفتار روبوٹک کتوں اور انسان نما روبوٹس کی تیاری کے حوالے سے مشہور ہے۔ویڈیو کے ایک اور حصے میں یہ مشین کھڑے کھڑے دو میٹر عمودی بلندی تک ہوا میں چھلانگ لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کارکردگی بھی موجودہ انسانی عالمی ریکارڈ سے بہتر ہے۔ امریکا کے کرسٹوفر اسپیل نے 2021ء میں کھڑے ہوکر 1.7 میٹر (5 فٹ 7 انچ) بلند چھلانگ لگا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔
کمپنی نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یونٹری کا نیا روبوٹ ''سپر مین‘‘ انسانی صلاحیتوں کی حدود توڑ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئی مشین کی تیاری کو ابھی صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
یہ شاندار مظاہرے بظاہر کسی عملی کام کے بجائے روبوٹ کی خالص جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ویڈیو محض کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا ایک مظاہرہ ہے اور روبوٹ کی تیز رفتار دوڑ اور بلند چھلانگ سے متعلق دعوؤں کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کی ٹانگوں کی لمبائی مبینہ طور پر صرف 0.85 میٹر (2.8 فٹ) ہے۔ نسبتاً چھوٹے قدموں کے باوجود اس قدر زیادہ رفتار حاصل کرنا اس کی کارکردگی کو خاص طور پر حیران کن بنا دیتا ہے۔
یونٹری نے ابھی تک ''سپر مین‘‘ روبوٹ کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ ان تفصیلات میں روبوٹ کا قد، وزن، بیٹری کی گنجائش اور یہ معلومات بھی شامل نہیں کہ رفتار اور چھلانگ کے تجربات کتنی مرتبہ دہرائے گئے۔ یہ نئی مشین یونٹری کے اس سے قبل تیار کیے گئے انسان نما روبوٹ ''H1‘‘ کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے بھی دوڑنے کی صلاحیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ ایک سابقہ مظاہرے میں H1 نے 10 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 22.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔ اس روبوٹ کی موجودہ قیمت 13,500 امریکی ڈالر (تقریباً 9,980 برطانوی پاؤنڈ) بتائی جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے کے تجربہ کار تجزیہ کار ما جیہوا نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اس نوعیت کے انتہائی کارکردگی والے تجربات بنیادی طور پر روبوٹ کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے باہمی تال میل کے ''اسٹریس ٹیسٹ‘‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ روبوٹ کے مختلف نظام انتہائی جسمانی دباؤ کے دوران کس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔یہ تجربات روبوٹ کی دوڑنے، چھلانگ لگانے، دھماکہ خیز طاقت، توازن برقرار رکھنے اور انتہائی متحرک حرکات جیسی صلاحیتوں کو ان کی آخری حدود تک آزمانے کیلئے کیے جاتے ہیں، تاکہ نظام کی کارکردگی کی حقیقی حد کا تعین کیا جاسکے۔
ما جیہوا کے مطابق، جس طرح گاڑیوں یا طیاروں کی تیاری کے دوران انتہائی حالات میں ان کی آزمائش کی جاتی ہے، اسی طرح روبوٹ کی حدود کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی روبوٹ کو حقیقی دنیا کے کاموں میں قابلِ اعتماد طریقے سے استعمال کیا جائے، یہ جاننا ناگزیر ہے کہ وہ کس حد تک دباؤ برداشت کرسکتا ہے۔ماہر کے مطابق، انتہائی متحرک حرکات میں مہارت حاصل کرنے سے مستقبل میں ہیومنائیڈ روبوٹس دشوار گزار علاقوں، قدرتی آفات کے مقامات اور دیگر خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں یونٹری نے بتایا تھا کہ وہ دیگر انسان نما ڈیزائنز اور پہیوں والے ماڈلز کو چھوڑ کر اب تک تقریباً 18 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرچکی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے
اگرچہ ویڈیو نے لوگوں کو متاثر کیا، تاہم بعض افراد نے اس کے دوڑنے کے انداز کو مزاحیہ بھی قرار دیا۔ ایک شخص نے تبصرہ کیا: ''شاید یہ سب سے مضحکہ خیز دوڑ ہے جو میں نے کبھی دیکھی ہے‘‘ ۔
ایک اور صارف نے لکھا: ''یہ تو عجیب انداز میں دوڑتا ہے۔‘‘ کسی نے مزاحاً کہا: ''اس کے بعد اسکول کے کھیلوں کے مقابلے پہلے جیسے نہیں رہیں گے‘‘۔
تاہم کئی افراد روبوٹ کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر روبوٹ کا ہارڈویئر اسی رفتار سے بہتر ہوتا رہا تو ہیومنائیڈ روبوٹس بہت جلد انتہائی حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل ہوجائیں گے۔