آج کا دن
اسپیشل فیچر
ڈاگیریو ٹائپ فوٹوگرافی
19 اگست 1839ء کو فرانسیسی موجد لوئی ژاک مانڈے ڈاگیریو کے تیار کردہ فوٹوگرافی کے طریقے، جسے ڈاگیریو ٹائپ (Daguerreotype) کہا جاتا ہے، کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اعلان فرانسیسی اکیڈمی آف سائنسز کے اجلاس میں ہوا۔ اس ایجاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی تھی کہ اس سے پہلے کسی منظر یا انسان کی شکل کو مستقل اور انتہائی تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا بہت مشکل تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ میں چاندی سے ملمع شدہ تانبے کی پلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ اسے کیمیائی طریقے سے حساس بنایا جاتا، کیمرے میں رکھ کر روشنی کے سامنے لایا جاتا اور پھر کیمیائی عمل کے ذریعے تصویر ظاہر کی جاتی۔ نتیجہ ایک انتہائی باریک تفصیلات والی تصویر کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ اگرچہ نسبتاً پیچیدہ، مہنگا تھا، لیکن اس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد مضبوط کی۔
ڈائیپے پر اتحادی حملہ
19 اگست 1942ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے ساحلی شہر ڈائیپے (Dieppe) پر اتحادی افواج نے ایک بڑا بحری و زمینی حملہ کیا۔ اس فوجی کارروائی کو 'آپریشن جوبلی‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً چھ ہزار سے زائد اتحادی فوجی اس کارروائی میں شریک ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار کینیڈین تھے۔ حملہ مختلف ساحلی مقامات پر کیا گیا۔ جرمن افواج نے بھرپور مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کے لیے واپسی بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔ نتیجتاً یہ کارروائی اتحادیوں کے لیے ایک بڑی فوجی ناکامی ثابت ہوئی۔ تاہم اس کارروائی سے اتحادی کمانڈروں کو معلوم ہوا کہ مضبوط جرمن ساحلی دفاع کے خلاف براہِ راست حملے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ تجربات 6 جون 1944ء کے نارمنڈی حملے کی منصوبہ بندی میں اہم ثابت ہوئے۔
محمد مصدق حکومت کا خاتمہ
19 اگست 1953ء کو ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل فضل اللہ زاہدی نے اقتدار سنبھال لیا۔ مصدق 1951ء میں وزیراعظم بنے تھے اور ان کی حکومت نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام سے برطانیہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ برطانوی کمپنی ایرانی تیل کی پیداوار اور تجارت میں مرکزی کردار رکھتی تھی۔بعد میں سامنے آنے والی امریکی سرکاری دستاویزات اس واقعے میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA اور برطانوی کردار کی تصدیق کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ مصدق کو اقتدار سے ہٹانے کا عمل 19 اگست 1953ء کو کامیاب ہوا اور زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا۔
سپوتنک 5 کی لانچنگ
19 اگست 1960ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 5 خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں دو کتے Belka اور Strelka، ایک خرگوش، 40 چوہے اور مختلف پودے اور حیاتیاتی نمونے شامل تھے۔اس مشن کی اصل اہمیت صرف جانوروں کو خلا میں بھیجنے میں نہیں تھی بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانے میں تھی۔ اس سے پہلے مختلف ممالک خلا میں جانور بھیجنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ہر مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سوویت سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایک زندہ جسم خلائی سفر، راکٹ کے ارتعاش، بے وزنی اور دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کے مراحل کو کس طرح برداشت کرتا ہے۔سپوتنک 5 نے زمین کے گرد چکر لگائے اور اگلے دن اس کا کیپسول واپس لایا گیا۔ Belka اور Strelka دونوں زندہ واپس آ گئے۔
Syncom 3کی لانچنگ
19 اگست 1964ء کو امریکہ نے Syncom 3 نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا گیا اور بعد میں اسے خطِ استوا کے اوپر ایسی مدار میں پہنچایا گیا جہاں وہ زمین کے مقابلے میں تقریباً ساکن دکھائی دیتا تھا۔۔ یہ واقعہ جدید عالمی مواصلاتی نظام کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔Syncom 3 نے جیو سٹیشنری کمیونی کیشن سیٹلائٹ کے تصور کو عملی طور پر مزید مضبوط کیا۔Syncom 3کی کامیابی کا ایک بہت مشہور عملی مظاہرہ 1964ء کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران ہوا۔ ناسا کے تکنیکی ریکارڈ کے مطابق Syncom 3 کے ذریعے جاپان سے امریکہ تک اولمپک مقابلوں کی براہِ راست ٹیلی ویژن ترسیل میں مدد ملی۔ اسی سیٹلائٹ نے بحرالکاہل کے پار مسلسل مواصلاتی رابطے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔