MIT کا ننھا روبوٹ

MIT کا ننھا روبوٹ

اسپیشل فیچر

تحریر : وقاص ریاض


کیڑے مکوڑوں کی طرح اڑنا سیکھ گیا

روبوٹکس کا شعبہ تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مشینیں صرف انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیزائن کی نقل نہیں کر رہیں بلکہ قدرت سے سیکھ کر اپنی صلاحیتیں بہتر بنا رہی ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے انجینئرز کا تیار کردہ ایک انتہائی چھوٹا اڑنے والا روبوٹ ہے جس نے اب کیڑے مکوڑوں جیسی تیز اور پھرتیلی پرواز کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ روبوٹ جسامت میں ایک جیلی بین کے قریب ہے اور اس کے پروں کا ڈیزائن بھی کیڑے کے پروں سے متاثر ہے۔ لیکن اصل حیرت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کی پرواز کی صلاحیت میں ہے۔ MIT کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا کنٹرول سسٹم تیار کیا ہے جس نے اس ننھے روبوٹ کو تیز رفتاری سے موڑنے، اچانک سمت تبدیل کرنے اور مسلسل قلابازیاں لگانے کے قابل بنا دیا ہے۔
رفتار اور پھرتی میں غیر معمولی اضافہ
چھوٹے اڑنے والے روبوٹس کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں بہت تیزی سے حرکت دینا اور ساتھ ہی مستحکم رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جسامت جتنی کم ہوتی ہے ہوا کا معمولی زوراور جسم کی معمولی حرکت بھی روبوٹ کی پرواز پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔MIT کی نئی تحقیق نے اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجربات میں روبوٹ کی رفتار پہلے کے بہترین مظاہروں کے مقابلے میں تقریباً 447 فیصد بڑھ گئی جبکہ اس کی acceleration یعنی رفتار پکڑنے کی صلاحیت میں تقریباً 255 فیصد اضافہ ہوا۔لیکن شاید سب سے حیران کن مظاہرہ اس کی قلابازیاں ہیں۔ یہ ننھا روبوٹ صرف 11 سیکنڈ میں مسلسل دس somersaults مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس دوران اگر ہوا کا جھونکا اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش بھی کرتا رہا تو روبوٹ نے اپنی پرواز کو درست کیا اور مطلوبہ راستے کے قریب رہا۔ MIT کے مطابق تجربات میں یہ روبوٹ اپنے طے شدہ راستے سے عموماً صرف 4 سے 5 سینٹی میٹر تک ہی ہٹا۔یہ کارکردگی اس لیے اہم ہے کیونکہ حقیقی کیڑے، مثلاً بھونرا یا مکھی انتہائی تیزی سے اپنی پرواز کی سمت اور جسم کا زاویہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ روایتی ڈرونز میں یہ صلاحیت نسبتاً محدود ہوتی ہے۔
روبوٹ کے پر اور مصنوعی پٹھے
یہ روبوٹ کسی عام کواڈ کاپٹر ڈرون کی طرح چار گھومتے ہوئے پروپیلرزاستعمال نہیں کرتا۔اس میں ایسے پر استعمال کیے گئے ہیں جو کیڑے کے پروں کی طرح تیزی سے پھڑپھڑاتے ہیں۔MIT کی ٹیم نے روبوٹ کے ایک زیادہ پائیدار ورژن میں نسبتاً بڑے پر استعمال کیے جنہیں نرم مصنوعی پٹھوں کے ذریعے حرکت دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعی پٹھے انتہائی تیزی سے پروں کو حرکت دے سکتے ہیں جس سے روبوٹ کو فضا میں اٹھنے، آگے بڑھنے اور اچانک سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔تاہم صرف اچھے پر اور طاقتور مصنوعی پٹھے کافی نہیں تھے۔ روبوٹ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کس لمحے کتنی طاقت لگانی ہے، کس سمت جھکنا ہے اور کب اپنی حرکت کو روکنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے اہم کردار ادا کیا۔
اصل کمال اس کے AI دماغ کا ہے
اس روبوٹ کی پرواز کا سب سے اہم حصہ اس کا نیا AIبیسڈ کنٹرولر ہے۔ پہلے روبوٹ کا کنٹرول سسٹم بڑی حد تک انسانوں کی جانب سے ہاتھ سے ٹیون کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے روبوٹ بنیادی پرواز تو کر سکتا تھا لیکن انتہائی تیز اور پیچیدہ حرکات کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔MIT کے محققین نے ایک دو مرحلوں پر مشتمل نظام تیار کیا۔ پہلے مرحلے میں ایک طاقتورکنٹرولر روبوٹ کی حرکت کا اندازہ لگاتا اور پیچیدہ قلابازیوں کے لیے بہترین راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ روبوٹ کتنی قوت استعمال کر سکتا ہے تاکہ حرکت کے دوران وہ بے قابو نہ ہو جائے۔دوسرے مرحلے میں ڈیپ لرننگ استعمال کی گئی۔ سادہ الفاظ میں ایک طاقتور کنٹرولر پہلے مشکل حرکات کرنا سیکھتا ہے پھر AI اس کے طریقہ کار سے سیکھ کر ایک ایسا نسبتاً ہلکا اور تیز ماڈل تیار کرتی ہے جو حقیقی وقت میں روبوٹ کو کنٹرول کر سکے۔یہ طریقہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ اتنے چھوٹے روبوٹ پر بہت زیادہ کمپیوٹیشنل طاقت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر ہر لمحے انتہائی پیچیدہ کیلکولیشنز کی جائیں تو روبوٹ کا نظام اتنی تیزی سے فیصلہ نہیں کر پائے گا جتنی تیزی سے اسے پرواز کے دوران ضرورت ہوتی ہے۔ AI نے اس پیچیدہ عمل کو نسبتاً تیز اور مؤثر بنا دیا۔
مستقبل خودکار روبوٹس تک
MIT کے محققین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مثلاً کسی زلزلے کے بعد عمارتیں گرنے کی صورت میں بڑے ڈرونز یا ریسکیو مشینیں ملبے کے اندر موجود انتہائی تنگ جگہوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ایک کیڑے جتنا چھوٹا روبوٹ ملبے کے درمیان موجود دراڑوں سے گزر کر ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ روبوٹ گرتے ہوئے ملبے اور دوسری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اپنی سمت تیزی سے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔مستقبل میں ایسے روبوٹس پر چھوٹے کیمرے اور سنسرز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے وہ صرف پہلے سے طے شدہ راستے پر چلنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرکے خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ MIT کی ٹیم خاص طور پر ایسے سنسرز کے استعمال پر کام کرنا چاہتی ہے جو روبوٹ کو بیرونی ماحول میں بغیر کسی بڑے موشن کیپچر سسٹم کے پرواز کرنے میں مدد دیں۔یہاں سے ایک اور دلچسپ امکان سامنے آتا ہے کہ اگر متعدد ایسے ننھے روبوٹس ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ طور پر کام کرنا سیکھ جائیں تو وہ ایکrobotic swarm کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک روبوٹ کے بجائے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے روبوٹس کسی بڑے علاقے کی نگرانی، تلاش یا ماحولیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔موجودہ تجربات میں کنٹرولر بیرونی کمپیوٹر پر چلتا ہے جبکہ مستقبل کا اہم ہدف اتنی ہی مؤثر AI کو روبوٹ کے اپنے آن بورڈ کمپیوٹنگ نظام پر چلانا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ انسانی ہمدردی

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

انسانیت کی حفاظت کا عالمی عہددنیا میں ایسے دن بھی آتے ہیں جو کسی جشن، فتح یا تاریخی کامیابی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ انسان کو اس کی اپنی انسانیت یاد دلاتے ہیں۔ عالمی یومِ انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) بھی ایسا ہی دن ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں انسانوں کے نام ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، قحط، وباؤں، نقل مکانی اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہوتے ہیں ،اور ان لوگوں کے نام بھی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ لوگوں تک مدد پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں۔ اس دن کا بنیادی مقصد انسانی خدمت کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرانوں میں گھرے لوگوں کی بقا، وقار اور فلاح کے لیے عالمی عزم کو مضبوط کرنا ہے۔ایک المیے سے جنم لینے والا دنعالمی یومِ انسانی ہمدردی کی تاریخ ایک المناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 19 اگست 2003 ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر، کینال ہوٹل، پر بم حملہ ہوا جس میں 22 افراد مارے گئے، ان میں اقوام متحدہ کے عراق میں خصوصی نمائندے سرجیو ویئرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا بلکہ دنیا بھر کے انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کے کام کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔اس سانحے کی یاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء میں قراردادکے ذریعے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی قرار دیا۔ انسانی ہمدردی محض کسی ضرورت مند کو چند روپے یا کھانے کا ایک پیکٹ دینے کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی انسانی اصول کا نام ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کی مدد کی جائے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب، نسل، زبان یا سیاسی گروہ سے ہو۔ جنگ زدہ علاقے میں زخمی شخص کو طبی امداد دینا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقام تک پہنچانا، بے گھر خاندانوں کو خوراک اور خیمے فراہم کرنا، بچوں کو تعلیم کے مواقع دینا اور وبا کے دوران لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا،یہ سب انسانی خدمت کے مختلف روپ ہیں۔ خطرے میں امید قدرتی آفت یا جنگ کے دوران عام انسان عموماً محفوظ مقام تلاش کرتا ہے مگر انسانی امدادی کارکن اکثر اس کے برعکس خطرے کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں، ریسکیو اہلکار، رضاکار، ڈرائیور، امدادی اداروں کے کارکن اور مقامی کمیونٹی کے افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی کارکن صرف خوراک اور پانی تقسیم نہیں کرتے وہ تباہ شدہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے لیے عارضی سکول قائم کرتے ہیں، بیماروں کا علاج کرتے ہیں، بے گھر افراد کو پناہ دیتے ہیں، خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد کرتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچانے نکلتے ہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے393 امدادی کارکن مارے گئے۔ اس دن کی اہمیت پہلے سے زیادہآج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی بحرانوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ جنگیں، سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، قحط اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے کروڑوں انسانوں کو غیر یقینی زندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے 2026 ء کے جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 239 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی انسانی نظام محدود وسائل کے باوجود تقریباً 135 ملین افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے بھی انسانی ہمدردی کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بحران کے وقت ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی قوت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔انسانی ہمدردی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیںعالمی یومِ انسانی ہمدردی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف اقوام متحدہ، حکومتوں یا بڑے امدادی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ عام شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد، خون کا عطیہ، آفت زدہ لوگوں کے لیے امداد، کسی بے گھر خاندان کے لیے سہارا یا کسی پریشان انسان کے ساتھ ہمدردی،یہ سب انسانی خدمت کی صورتیں ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دوسروں کے لیے کتنا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل میں سے کتنا بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔انسانیت کو زندہ رکھنے کا عہدعالمی یومِ انسانی ہمدردی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی ترجیحات دیکھ سکتی ہے۔ اگر ایک طرف انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کی ہیں تو دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی جنگ، بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یہ دن ہمیں ان گمنام ہیروز کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو کسی تمغے یا شہرت کی خواہش کے بغیر دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کسی سرحد، زبان یا قوم کی پابند نہیں۔19 اگست کا پیغام دراصل بہت سادہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور دنیا کو اس اصول پر قائم کیا جائے کہ ہر انسان کی جان، عزت اور وقار برابر اہمیت رکھتے ہیں۔کیونکہ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک زندگی نہیں بچتی، انسانیت کا تصور بھی زندہ رہتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ڈاگیریو ٹائپ فوٹوگرافی19 اگست 1839ء کو فرانسیسی موجد لوئی ژاک مانڈے ڈاگیریو کے تیار کردہ فوٹوگرافی کے طریقے، جسے ڈاگیریو ٹائپ (Daguerreotype) کہا جاتا ہے، کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اعلان فرانسیسی اکیڈمی آف سائنسز کے اجلاس میں ہوا۔ اس ایجاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی تھی کہ اس سے پہلے کسی منظر یا انسان کی شکل کو مستقل اور انتہائی تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا بہت مشکل تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ میں چاندی سے ملمع شدہ تانبے کی پلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ اسے کیمیائی طریقے سے حساس بنایا جاتا، کیمرے میں رکھ کر روشنی کے سامنے لایا جاتا اور پھر کیمیائی عمل کے ذریعے تصویر ظاہر کی جاتی۔ نتیجہ ایک انتہائی باریک تفصیلات والی تصویر کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ اگرچہ نسبتاً پیچیدہ، مہنگا تھا، لیکن اس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد مضبوط کی۔ ڈائیپے پر اتحادی حملہ19 اگست 1942ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے ساحلی شہر ڈائیپے (Dieppe) پر اتحادی افواج نے ایک بڑا بحری و زمینی حملہ کیا۔ اس فوجی کارروائی کو 'آپریشن جوبلی‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً چھ ہزار سے زائد اتحادی فوجی اس کارروائی میں شریک ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار کینیڈین تھے۔ حملہ مختلف ساحلی مقامات پر کیا گیا۔ جرمن افواج نے بھرپور مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کے لیے واپسی بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔ نتیجتاً یہ کارروائی اتحادیوں کے لیے ایک بڑی فوجی ناکامی ثابت ہوئی۔ تاہم اس کارروائی سے اتحادی کمانڈروں کو معلوم ہوا کہ مضبوط جرمن ساحلی دفاع کے خلاف براہِ راست حملے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ تجربات 6 جون 1944ء کے نارمنڈی حملے کی منصوبہ بندی میں اہم ثابت ہوئے۔ محمد مصدق حکومت کا خاتمہ19 اگست 1953ء کو ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل فضل اللہ زاہدی نے اقتدار سنبھال لیا۔ مصدق 1951ء میں وزیراعظم بنے تھے اور ان کی حکومت نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام سے برطانیہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ برطانوی کمپنی ایرانی تیل کی پیداوار اور تجارت میں مرکزی کردار رکھتی تھی۔بعد میں سامنے آنے والی امریکی سرکاری دستاویزات اس واقعے میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA اور برطانوی کردار کی تصدیق کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ مصدق کو اقتدار سے ہٹانے کا عمل 19 اگست 1953ء کو کامیاب ہوا اور زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ سپوتنک 5 کی لانچنگ19 اگست 1960ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 5 خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں دو کتے Belka اور Strelka، ایک خرگوش، 40 چوہے اور مختلف پودے اور حیاتیاتی نمونے شامل تھے۔اس مشن کی اصل اہمیت صرف جانوروں کو خلا میں بھیجنے میں نہیں تھی بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانے میں تھی۔ اس سے پہلے مختلف ممالک خلا میں جانور بھیجنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ہر مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سوویت سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایک زندہ جسم خلائی سفر، راکٹ کے ارتعاش، بے وزنی اور دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کے مراحل کو کس طرح برداشت کرتا ہے۔سپوتنک 5 نے زمین کے گرد چکر لگائے اور اگلے دن اس کا کیپسول واپس لایا گیا۔ Belka اور Strelka دونوں زندہ واپس آ گئے۔ Syncom 3کی لانچنگ 19 اگست 1964ء کو امریکہ نے Syncom 3 نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا گیا اور بعد میں اسے خطِ استوا کے اوپر ایسی مدار میں پہنچایا گیا جہاں وہ زمین کے مقابلے میں تقریباً ساکن دکھائی دیتا تھا۔۔ یہ واقعہ جدید عالمی مواصلاتی نظام کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔Syncom 3 نے جیو سٹیشنری کمیونی کیشن سیٹلائٹ کے تصور کو عملی طور پر مزید مضبوط کیا۔Syncom 3کی کامیابی کا ایک بہت مشہور عملی مظاہرہ 1964ء کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران ہوا۔ ناسا کے تکنیکی ریکارڈ کے مطابق Syncom 3 کے ذریعے جاپان سے امریکہ تک اولمپک مقابلوں کی براہِ راست ٹیلی ویژن ترسیل میں مدد ملی۔ اسی سیٹلائٹ نے بحرالکاہل کے پار مسلسل مواصلاتی رابطے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

نیا عالمی ریکارڈ ، نئے خطراتدنیا کے سمندر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ان کا درجہ حرارت ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے قریب ہے۔سائنسی جریدے 'Nature‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سمندری سطح کا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے بلکہ سمندر کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ سمندر فضا میں موجود اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر پانی مسلسل گرم ہوتا جائے تو یہ قدرتی نظام اپنی کارکردگی کھونا شروع کر سکتا ہے۔سمندر گرم کیوں ہو رہے ہیں؟سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری حرارت روکنے والی گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بہت بڑا حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں۔قدرتی موسمیاتی عوامل، خصوصاًEl Niño بھی بعض اوقات سمندری درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف قدرتی عوامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ طویل مدتی عالمی حدت نے سمندروں کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے جس کے اوپر قدرتی واقعات مزید گرمی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔'Nature‘ کی رپورٹ میں جس نئے ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم سمندری سطح سمندری حیات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔یہ خدشہ محض نظری نہیں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی ETH Zurich کے محقیقن اور ان کے ساتھیوں کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 2023ء کے ریکارڈ گرم سمندروں کا جائزہ لیا۔ محققین نے بتایا کہ سمندروں نے اس سال توقع کے مقابلے میں 10 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کی جس سے بعض علاقوں میں سمندر سے فضا کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں اضافہ ہوا۔گرم سمندر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو سکتے ہیں؟سمندر انسانی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خلاف قدرت کا ایک اہم دفاع ہیں۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ سمندر جذب کر لیتا ہے لیکن گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم مقدار میں اپنے اندر حل کر سکتا ہے۔یہ عمل ایک خطرناک موسمیاتی ری ایکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سمندر کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں تو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ جائے گی جس س سے گرین ہاؤس اثر مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا اور سمندر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023ء میں گرم سمندری سطح کے باوجود بعض قدرتی عوامل نے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے اثر کو کسی حد تک متوازن کیا تاہم محققین نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حدت یا اس سے بھی زیادہ شدید سمندری درجہ حرارت کے واقعات میں لازمی نہیں کہ یہ قدرتی مزاحمت برقرار رہے۔مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات کو بڑا خطرہسمندری گرمی کا ایک نمایاں اثرCoral reefsیعنی مرجانی چٹانوں پر پڑتا ہے۔ مرجان نسبتاً محدود درجہ حرارت کی حدود میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔ جب پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا ہے تو مرجان سفید پڑنے لگتے ہیں جسے کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔ مرجانی چٹانیں ہزاروں سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کی جگہ فراہم کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو لہروں سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔ کیا کرنا چاہیے؟سائنسدانوں کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سمندر اس سال کتنا گرم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ یہ گرمی مستقبل میں کتنی بار اور کتنی شدت سے واپس آئے گی؟میرین ہیٹ ویو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً تمام سمندروں اور سمندری خطوں میں حیاتیاتی، ماحولیاتی اور معاشی تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں۔ ان کے اثرات میں مچھلیوں کا نقصان، کورل ریفس کو نقصان اور بعض بڑے سمندری جانوروں کی اموات شامل ہیں۔ محققین کے مطابق طویل مدت میں ان خطرات کا بنیادی حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔دنیا کو ایک طرف فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہوگی جبکہ دوسری طرف سمندری محفوظ علاقوں، پائیدار ماہی گیری،مرجان کی بحالی اور سمندری مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سمندروں کا نیا درجہ حرارت ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہوگا یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ زمین کا وہ قدرتی نظام جو صدیوں سے حرارت اور کاربن کو جذب کرکے انسانی تہذیب کو سہارا دیتا آیا ہے کس حد تک دباؤ میں آ چکا ہے۔ اگر سمندر اپنی حرارت اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کھونے لگے تو موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اور اس کے اثرات دونوں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سمندری حدت کو مستقبل کی ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا سمندروں کے لیے ہماری غلطیوں کو برداشت کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

معمولی سرگرمی ، بڑے فائدے لفٹ استعمال کریں یا سیڑھیاں چڑھیں، بظاہر یہ ایک چھوٹا فیصلہ ہے لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے جیسی سادہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثرات ڈال سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اورنارفوک این ناروک یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی ایک تحقیق میں چار لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماری سے موت اور مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم تھا۔ یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی مہنگے جم، خصوصی آلات یا روزانہ طویل ورزش کی ضرورت نہیں۔ عام زندگی میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا انتخاب جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تقریباً 1900 سٹڈیز کا جائزہ لینے کے بعد نو اعلیٰ معیار کی سٹڈیز کو تجزیے میں شامل کیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 480,479 افراد شامل تھے اور شرکاکی عمریں تقریباً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو کئی سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے سب سے قابلِ توجہ نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے ان میں سیڑھیاں کم چڑھنے والے افراد کے مقابلے میںcardiovascular disease سے موت کا خطرہ تقریباً 39 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 24 فیصد کم تھا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں بعض اہم قلبی بیماریوں، مثلاًہارٹ اٹیک،سٹروک اور ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی کم تھا۔ سیڑھیاں اتنی مفید کیوں ہیں؟تحقیق کے مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل کے امراض دنیا بھر میں موت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔محققین نے بتایا کہ دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ان کے کیسز کی تعداد میں 1990ء سے 2019ء کے درمیان لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے خطرات صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محقیقین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک عملی مگر طریقہ ہے، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیق کی شریک کار ڈاکٹر سوفی پیڈک کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے کی خاص خوبی یہ ہے کہ اسے الگ سے ورزش کا وقت نکالے بغیر گھر، دفتر یا باہر معمول کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے کئی بڑے عضلات بیک وقت کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سرگرمی مختصر وقت میں جسم میں نسبتاً زیادہ کارڈیو وسکولر ڈیمانڈ پیدا کرتی ہے۔روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنی چاہئیں؟اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض مطالعات میں تقریباً چھ فلائٹس یعنی تقریباً 60 سے 70 سیڑھیوں کے برابر روزانہ چڑھنے پر نمایاں فائدہ دیکھا گیا، لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہر شخص کے لیے روزانہ چھ فلائٹس ہی ضروری ہیں۔ تحقیق کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی جسمانی ورزش بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ اگر کسی عمارت میں لفٹ اور سیڑھی دونوں موجود ہوں اور صحت اور جسمانی صلاحیت اجازت دے تو سیڑھی کا استعمال روزمرہ ورزش کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو جم جانے، دوڑنے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سیڑھیاں ان کے لیے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ دن میں کئی مختصر مواقع پر چند منزلیں چڑھنا بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق کیا سبق دیتی ہے؟اس تحقیق کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر سرگرمی کا باقاعدہ ورزش کے نام سے ہونا ضروری نہیں۔ صحت کے لیے ہمارے روزمرہ کے چھوٹے فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھی، گاڑی کے بجائے کچھ فاصلے تک پیدل چلنا یا مسلسل بیٹھنے کے بجائے درمیان میں اُٹھ کر چلنا،یہ سب مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی بڑھانے کے طریقے ہیں۔ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ دل کی صحت صرف سیڑھیاں چڑھنے سے وابستہ نہیں صحت مند غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب وزن، بلڈ پریشر،کولیسٹرول اورزیابیطس سے بچنا بھی اہم عوامل ہیں۔ مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ جن افراد کو جوڑوں کی شدید تکلیف ہے یا کوئی اہم طبی مسئلہ ہو ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

آج کا دن

آج کا دن

روآنُوک بستی کا معمہ18 اگست 1590ء کو شمالی امریکہ کی انگریزی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک مشہور اور آج تک حل نہ ہونے والا واقعہ پیش آیا۔ انگریز مہم جُو اور روآنُوک بستی کا گورنر جان وائٹ تین سال کی طویل غیر حاضری کے بعد روآنُوک جزیرے پر واپس پہنچا تو وہاں آبادکاروں کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ اس واقعے نے بعد میں ''گم شدہ روآنُوک بستی‘‘ کے نام سے ایک تاریخی معمے کو جنم دیا۔وائٹ 18 اگست 1590ء کو بستی کے مقام پر پہنچا اور وہاں نہ کوئی انسان ملا نہ کوئی واضح جنگی تباہی کے آثار البتہ ایک درخت پر ''کرو‘‘ اور قلعہ نما حفاظتی دیوار پر ''کروایٹون‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ مورخین آج تک قطعی طور پر یہ نہیں بتا سکے کہ آبادکاروں کے ساتھ کیا ہوا۔ مریخ کا چاند دریافت18 اگست 1877ء کو امریکی ماہرِ فلکیات آساف ہال نے مریخ کے دوسرے چاند فوبوس کو دریافت کیا۔ یہ دریافت واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی بحری رصدگاہ میں ہوئی۔ ناسا کے مطابق آساف ہال نے 1877ء میں مریخ کے دونوں چاند دریافت کیے؛ پہلے ڈیموس اور اس کے چند دن بعد فوبوس کو شناخت کیا۔فوبوس مریخ کا سب سے بڑا اور مریخ کے سب سے قریب گردش کرنے والا چاند ہے۔ اس کا مدار مریخ کی سطح سے تقریباًچھ ہزار کلومیٹر بلند ہے اور یہ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے میں مریخ کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ بعد میں خلائی مشنز نے فوبوس اور ڈیموس کا تفصیلی مطالعہ کیا جس سے مریخ کے ماضی، اس کے چاندوں کی ساخت اور ان کے ارتقائی امکانات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ کارل جاتھو کی پروازجرمن موجد اور انجینئر کارل جاتھو نے 18 اگست 1903ء کو جرمنی کے شہر ہنوور کے قریب اپنے تیار کردہ موٹر سے چلنے والے طیارے کو اڑانے کا تجربہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق جاتھو نے کئی مختصر پروازیں کیں ۔واضح رہے رائٹ برادران نے 17 دسمبر 1903ء کو امریکہ کے علاقے کٹی ہاک میں اپنی مشہور پہلی کامیاب پرواز کی تھی یعنی جاتھو کے مبینہ تجربے کے تقریباً چار ماہ بعدتاہم جاتھو کو دنیا کا پہلا کامیاب ہواباز تسلیم کرنے پر مورخین میں اختلاف ہے۔ ان کی پرواز کے شواہد رائٹ برادران کے مقابلے میں کم واضح اور کم دستاویزی ہیں اسی وجہ سے عام طور پر رائٹ برادران کو پہلی باقاعدہ ہوائی پرواز کا کریڈٹ دیا جاتا ہے تاہم جاتھو کی کوششیں ہوابازی کی ابتدائی ترقی میں قابلِ ذکر ضرور ہیں۔امریکی خواتین کا حقِ رائے دہی 18 اگست 1920ء کو ریاست ٹینیسی نے امریکی آئین کی انیسویں ترمیم کی توثیق کرکے خواتین کے حقِ رائے دہی کی آئینی راہ ہموار کردی۔ ٹینیسی اس ترمیم کی توثیق کرنے والی 36ویں ریاست تھی اور اس وقت آئینی ترمیم کے لیے تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری ضروری تھی۔خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کی جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط تھی۔ خواتین کی منظم حقِ رائے دہی کی تحریک 19ویں صدی کے وسط میں مضبوط ہوئی ۔ 18 اگست1920ء کو ترمیم کی ریاستی توثیق مکمل ہوئی جبکہ اسے امریکی آئین کا باقاعدہ حصہ قرار دینے کی وفاقی تصدیق 26 اگست کو وزیر خارجہ بین برج کولبی نے کی۔اس واقعے نے امریکی جمہوریت میں خواتین کی سیاسی شرکت کو آئینی بنیاد فراہم کی اور خواتین کے لیے قومی سطح پر سیاسی عمل میں شرکت کا راستہ کھولا۔ انڈونیشیا ، آئین کی منظوری 18اگست 1945ء کو انڈونیشیا کا آئین منظور کیا گیا، اس طرح آزادی کے اعلان کے فوراً بعد ملک کو ایک باقاعدہ سیاسی قیادت فراہم ہوگئی اور ایک قومی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ پارلیمانی اداروں کے باقاعدہ قیام تک صدر اور نائب صدر کے کام میں معاونت کی جا سکے۔ انڈونیشیا کے بنیادی ریاستی اصول جنہیں پنچ سیلا کہا جاتا ہے کی حتمی آئینی صورت بھی اسی مرحلے میں سامنے آئی۔ پنچ سیلا کی تشکیل طویل سیاسی اور فکری عمل کا نتیجہ تھی جس کی حتمی صورت 18 اگست 1945ء کو طے ہوئی۔یوں 18 اگست 1945ء محض آزادی کے اگلے دن کا ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ نئی انڈونیشی ریاست کو عملی حکومتی شکل دینے کا بنیادی مرحلہ تھا۔

جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

خوراک کا انتخاب صرف صحت ہی نہیں، زمین کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہوتا ہےدنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے اور اب تک اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، فوسل ایندھن کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کو شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث میں ایک نیا اور حیران کن پہلو شامل کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنریشن الفا (2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں) اور بالخصوص نوعمر افراد کی غذائی عادات بھی موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ کاربن اخراج سے وابستہ غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ماحول پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر بچے اور نوجوان خوراک سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے لحاظ سے کسی بھی دوسری عمر کے گروہ سے آگے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے ہوئے اخراج کا تعلق غیر صحت بخش غذائی عادات سے بھی ہے، جس کے نتیجے میں ناقص غذائیت اور تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک ''دوہرے بحران‘‘ نے جنم لیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے 149 ممالک اور عمر کے 22 مختلف گروہوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کیلئے 2000ء سے 2019ء کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریشن الفا اور جنریشن زی کی زیادہ کاربن اخراج والی غذائی عادات کی بنیادی وجہ گوشت، پراسیسڈ غذاؤں اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔تحقیق کے شریک مصنف، یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر یولی شان کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن نتیجہ اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ عمر کے افراد ہی سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے صارفین ہوتے ہیں۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے انہیں خوراک، صحت اور ماحول سے متعلق نئی اور مؤثر حکمت عملیاں اختیار کرنا ہوں گی۔تاہم محققین نے دریافت کیا ہے کہ مختلف عمر کے افراد اس مجموعی کاربن فٹ پرنٹ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ہر عمر کے گروہ کا حصہ مختلف ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد غذائی عادات کے باعث سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔سال 2000ء سے 2019 ء کے درمیان خوراک سے متعلق عالمی کاربن اخراج میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 2.1 ارب ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بزرگ افراد کا تھا۔جاپان، امریکہ اور مغربی یورپ جیسے اعلیٰ آمدنی والے خطوں میں خوراک سے متعلق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 22 سے 29 فیصد حصہ اب 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سے منسلک ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزرگ افراد کی غذائی عادات ماحول کیلئے زیادہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بزرگ آبادی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر خوشحال ممالک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انہیں غذائی نظام سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا عمر کا گروہ بنا دیا ہے۔تاہم فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو نوجوانوں کی غذائی عادات اب بھی بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔محققین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں، خصوصاً سرخ گوشت، کے بڑھتے ہوئے استعمال کا رجحان ہے۔ متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت پر مبنی غذائیں نباتاتی خوراک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 100 گرام گوشت، جو ایک عام برگر سے بھی کم مقدار ہے، استعمال کرنے سے مکمل نباتاتی غذا کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری صرف نئی نسل پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس جانب ضرور توجہ دلاتی ہے کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور متوازن غذائی انتخاب کی تعلیم بچپن ہی سے دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔غذائی نظام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ دنیا بھر کا غذائی نظام اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کی پیداوار اور فراہمی کے نظام سے وابستہ ہے۔یہ اخراج کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں کاشتکاری کیلئے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، مویشیوں خصوصاً گائے اور بیلوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسیں اور خوراک کو دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کا جلنا شامل ہیں۔نباتاتی غذائیں ماحول کیلئے بہترین قرارمحققین نے یہ بھی پایا کہ نباتاتی غذا(ایسی خوراک جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل کی جاتی ہے) اختیار کرنے والے افراد کی خوراک سے پیدا ہونے والا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نباتاتی غذا ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنریشن الفا کی گوشت سے بھرپور غذائی عادات انہیں ان بزرگ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ آلودگی پھیلانے والا بنا رہی ہیں، جو نسبتاً کم جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔