خطرناک آتش فشاں کے نیچے میگما جمع ہونے لگازمین کے سینے میں چھپی آتش فشانی طاقت جب حرکت میں آتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ بظاہر خاموش دکھائی دینے والے آتش فشاں بھی اندر ہی اندر تباہ کن قوت جمع کرتے رہتے ہیں، جو کسی بھی وقت لاوے، راکھ اور زہریلی گیسوں کی صورت میں باہر نکل سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے اب ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والے خطرناک آتش فشاں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں پگھلی ہوئی چٹانوں، یعنی میگما، کے جمع ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کی یہ تنبیہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قدرت کی بعض خاموش قوتیں بیدار ہونے پر انسانی آبادیوں اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والا آتش فشاں دوبارہ بیدار ہو سکتا ہے۔محققین نے فعال آتش فشاں ماسایا کے نیچے میگما کے دو ایسے ذخائر کے بھرنے کے شواہد دریافت کیے ہیں، جن میں پگھلی ہوئی چٹانیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ آتش فشاں نکاراگوا کے دارالحکومت مناگوا سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ افراد آباد ہیں۔دوسری جانب، ہر سال ہزاروں سیاح اس آتش فشاں کے خوف ناک نام کی وجہ بننے والے لاوے سے بھرے سانتیاگو دہانے کو دیکھنے کیلئے یہاں آتے ہیں۔آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ مسلسل تشویش کا باعث بنا رہتا ہے اور ایک نئی تحقیق میں زمین کے نیچے چھپی سرگرمی کے پریشان کن آثار سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ تحقیق میں کسی فوری خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''جہنم کے دہانے‘‘ کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ میگما کی زیر زمین سرنگوں اور ذخائر پر مشتمل اس نظام کو سمجھنا ان تبدیلیوں کی نشاندہی کیلئے انتہائی اہم ہے جو آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور امریکی ریاست پنسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ لیزی جانسن نے کہا کہ ماسایا آتش فشاں کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھنا انتہائی اہم ہے۔''جہنم کا دہانہ‘‘ ایک غیر معمولی طور پر پیچیدہ آتش فشاں ہے، جو ایک دوسرے کے اندر واقع کئی دہانوں اور زمین میں بننے والے گڑھوں پر مشتمل ہے۔ یہ گڑھے میگما کے زیر زمین ذخائر خالی ہونے کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس پیچیدہ ساخت کے باعث زمین کی سطح کے نیچے موجود سرنگوں اور میگما کے ذخائر کے باہمی نظام کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ان معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہونے کا اشارہ دے سکتی ہیں۔ شہر کے اتنے قریب واقع سیاحتی مقام کیلئے یہ صورت حال سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔محترمہ جانسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماسایا آتش فشاں سے آخری مرتبہ 1772ء میں لاوے کا ایک بڑا بہاؤ خارج ہوا تھا، تاہم اس سے مسلسل خارج ہونے والی گیسوں کے باعث آتش فشانی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار اکثر پیدا ہوتی رہتی ہے۔گزشتہ 50 برسوں کے دوران اس آتش فشاں میں کئی دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اب تک ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم محققین کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ تحقیق کاروں نے اپنے نئے مقالے میں یورپی خلائی ایجنسی کے ''سینٹینل1‘‘ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن بعد اس علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے اور زمین کی سطح کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلی تصاویر جمع کرتا ہے۔ ان تصاویر کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ زمین کے نیچے میگما کی نقل و حرکت کے باعث سطح زمین کس طرح بلند یا پست ہو رہی ہے۔محترمہ جانسن کے مطابق ''جب زمین کی سطح نیچے بیٹھتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آتش فشاں کے اندر سے میگما خارج ہو کر کسی دوسری جانب منتقل ہو رہا ہے، لیکن جب زمین دوبارہ بلند ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ نیا میگما اندر داخل ہو رہا ہے‘‘۔ تحقیق کاروں نے 2018ء سے 2022ء کے وسط تک مشاہدہ کیا کہ مشہور سانتیاگو دہانے کے عین شمال میں واقع ماسایا کے مرکزی میگما ذخیرے کے اردگرد زمین کی سطح تقریباً 1.2 انچ (3 سینٹی میٹر) نیچے بیٹھ گئی تھی۔اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین موجود ذخیرے سے میگما کی کچھ مقدار دوسری جانب منتقل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں زمین کی سطح نیچے دھنس گئی۔تاہم، 2022ء سے 2024ء کے دوران زمین کی سطح ایک بار پھر بلند ہونا شروع ہو گئی، جس سے یہ اشارہ ملا کہ زیر زمین میگما کا ذخیرہ دوبارہ بھر رہا ہے۔حیرت انگیز طور پر، اس پورے چھ سالہ عرصے کے دوران سانتیاگو دہانے اور اس میں موجود لاوے کی جھیل کے آس پاس زمین کی سطح مسلسل نیچے دھنس رہی تھی۔ محققین کے مطابق، اس صورتِ حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 656 فٹ (200 میٹر) نیچے میگما کا ایک دوسرا، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرہ بھی موجود ہے، جو سرگرم ہے۔ محترمہ جانسن نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ آتش فشاں کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی ایک وجہ میگما کے دوسرے، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرے میں اس کی مقدار کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔محققین مستقبل میں اس نوعیت کی مزید پیمائشوں کے ذریعے آتش فشاں کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ جامع معلومات حاصل کرنے اور اس کے پھٹنے کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے شریک محقق ڈاکٹر ینگ چولکم کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی کے ذریعے ہمیں آتش فشاں کی معمول کی سرگرمیوں کو سمجھنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کسی موقع پر لوگوں کو خبردار کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مسلسل نگرانی کی بدولت ہم بروقت ایسا کر سکتے ہیں۔