مکتوب اور افسانہ نگاری میں اپنا مقام رکھنے والے پطرس بخاری کی آج 65 ویں برسی

لاہور: (دنیا نیوز) مزاح نگاری، مکتوب نگاری، افسانہ نگاری، شاعری، تنقید نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنانے والے پطرس بخاری کی آج 65 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

پروفیسر پطرس یکم اکتوبر 1898ء کو پشاورمیں پیدا ہوئے، مشن ہائی سکول پشاور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کیا اور کیمبرج یونیورسٹی کے کالج سے انگریزی ادب کی اور اول درجے کی سند حاصل کی، پطرس بخاری گورنمنٹ کالج لاہور میں کئی سال تک ادبیات کے پروفیسر رہے۔

پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے سیکرٹری سمیت 1937ء سے ڈپٹی کنٹرولر اور 1940ء سے کنٹرولر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے عہدے پر بھی فائز رہے، 1946ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے، 1955ء میں اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنے۔

پطرس بخاری کے 11 مضامین کو شہرہ آفاق حیثیت حاصل ہے، ان میں مرحوم کی یاد میں، کتے، میبل اور میں، لاہور کا جغرافیہ، ہاسٹل میں پڑھنا، سینما کا عشق اور میں ایک میاں ہوں کو کافی شہرت حاصل ہوئی، ان کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مختصر مجموعہ پطرس کے مضامین پاکستان اور بھارت میں اردو نصاب کا حصہ ہیں۔

سال 1945ء میں برطانوی دور حکومت میں انہیں سی آئی ای کے اعزازسے نوازا گیا، 2003ء میں حکومت پاکستان نے پطرس بخاری کو ہلال امتیاز سے نوازا، تیونس میں پطرس بخاری کے نام پر ایک سڑک بھی موجود ہے، پطرس بخاری آج ہی کے دن 1958ء میں انتقال کر گئے اور نیویارک کے ایک قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں