غزہ میں مظالم پر دستاویزی فلم کی اسرائیل میں پذیرائی، نیتن یاہو برہم

غزہ: (دنیا نیوز) غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق دستاویزی فلم ’نازا‘ کو اسرائیل میں پذیرائی ملنے کے بعد وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلم میں شناخت ظاہر کیے بغیر انٹرویو دینے والے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو نے ہفتے کی شام سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج کے سربراہ، داخلی خفیہ ادارے شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلم میں شامل اہلکاروں کے معاملے کی تحقیقات شروع کریں۔

رپورٹس کے مطابق، دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیے گئے۔ ان اہلکاروں کے بقول، ان نظاموں کے ذریعے مشتبہ اہداف کی نشاندہی کے دوران ممکنہ شہری ہلاکتوں کو بھی متوقع نتائج میں شمار کیا جاتا تھا۔

نیتن یاہو نے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف خفیہ معلومات افشا کرنے، مبینہ مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سیکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلم کو گمراہ کن اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے عالمی سطح پر اسرائیلی ریاست اور فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دستاویزی فلم میں عائد الزامات مسترد کردیے ہیں۔ فوج کے مطابق، فوجی اہداف کے تعین اور حملوں کی منظوری کے فیصلے انسانی اہلکار کرتے ہیں، جبکہ کارروائیاں مقررہ ضوابط کے تحت انجام دی جاتی ہیں۔

دستاویزی فلم ’نازا‘ اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریچل شور کی ہدایت کاری میں تیار کی گئی ہے۔ فلم کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ اس کی نمائش کے بعد حاضرین نے تقریباً 25 منٹ تک تالیاں بجائیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...