ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب

تہران: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔

ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عامر سعیدی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک امریکا کے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی دھمکی کی مذمت کریں۔

ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو بچانے کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔

دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے جواب میں انگریزی زبان میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔

علی لاریجانی نے کہا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے، ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہئے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے پُرامن مظاہرین پرتشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا، ہم مظاہرین کو بچانے جانےکے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

دوسری طرف ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔

دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے، جھڑپوں میں اب تک 8 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں سکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ۔

سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران آٹھ مظاہرین کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں