اسرائیل غزہ میں امدادی کام کرنے والی این جی اوز پر عائد پابندی ختم کرے: اقوام متحدہ

نیویارک: (دنیا نیوز) اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں امداد فراہم کرنے والے انسانی ہمدردی کے اداروں پر عائد پابندی ختم کرے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ انتونیو گوتریس نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں(این جی اوز) زندگی بچانے والے انسانی کاموں کے لیے ناگزیر ہیں اور اس معطلی سے جنگ بندی کے دوران ہونے والی معمولی پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندی کا اسرائیلی اقدام فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 37 غیرملکی امدادی تنظیموں کی غزہ تک رسائی اس وقت معطل کر دی جب انہوں نے اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرستیں اسرائیلی حکام کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کر دیا۔

اس پابندی میں ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز(ایم ایس ایف) بھی شامل ہے جس کا 1200 افراد پر مشتمل عملہ فلسطینی علاقوں میں موجود ہے اور ان کی اکثریت غزہ میں کام کر رہی ہے، پابندی کا شکار ہونے والی تنظیموں کو یکم مارچ تک اپنا کام بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ مطالبات بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہیں اور ان سے ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے، اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نئی ضابطہ بندی کا مقصد ان اداروں کو فلسطینی علاقوں میں کام کرنے سے روکنا ہے جن پر وہ دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتا ہے۔

اسرائیل میں قائم 18 بائیں بازو کی تنظیموں نے بھی اپنے بین الاقوامی ساتھیوں پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کا یہ نیا فریم ورک آزادی اور غیر جانبداری کے بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اکتوبر 2023 میں حماس کے غیرمعمولی حملے کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب سے لڑی جانے والی مہلک جنگ کے بعد سے ایک کمزور سی جنگ بندی برقرار ہے، جنگ شروع ہونے سے اب تک وہاں 70ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی قریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں جس سے بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، غزہ کے 20 لاکھ سے زائد رہائشیوں میں سے لگ بھگ 15 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں