روسی افواج کے یوکرین کے اندر حملے، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا
ماسکو(شاہد گھمن سے) روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی شہری اہداف پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں روسی افواج نے یوکرین کے اندر بڑے اور چھ گروہی فوجی حملے کیے ہیں۔
ماسکو میں جاری بیان کے مطابق ان حملوں میں یوکرین میں ڈرون تیار کرنے والے مراکز، ڈرون لانچنگ سائٹس، دفاعی صنعت سے منسلک کارخانے اور توانائی کا وہ بنیادی ڈھانچہ نشانہ بنایا گیا جو فوجی صنعت کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ان کارروائیوں میں جدید اور انتہائی درست ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں کنژال ہائپرسونک میزائل بھی شامل ہیں، روسی حملوں کا ہدف یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی تیاری اور ان کے استعمال کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا، جبکہ دفاعی صنعت سے وابستہ دیگر تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دفاعی حکام کے مطابق حملوں میں یوکرین کی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والے ٹرانسپورٹ اور بندرگاہی ڈھانچے، اسلحہ و ایندھن کے ذخائر، فوجی یونٹس اور غیر ملکی کرائے کے جنگجوؤں کے عارضی ٹھکانے بھی شامل تھے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نووگورود ریجن میں واقع رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کے لیے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز داغے، تاہم روسی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
ماسکو نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا عندیہ دیا تھا، کریملن کے مطابق یہ ڈرون حملہ صرف روسی صدر ہی نہیں بلکہ یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش تھا۔
دوسری جانب، نئے سال کی شب یوکرین کے ڈرون حملے میں روس کے خرسون ریجن کے علاقے خورلی میں ایک کیفے اور ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تقریباً سو افراد نئے سال کی تقریب میں شریک تھے، اس حملے اور آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 27 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل تھے، جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق روسی فضائی دفاع نے دارالحکومت کی جانب بڑھنے والے 26 یوکرینی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
روس کی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ کارروائیاں یوکرین کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں کے تناظر میں کی گئیں، جن میں ایک حملہ اس وقت بھی ہوا جب صدر پوتن کی روایتی نئے سال کی تقریر براہِ راست نشر ہو رہی تھی۔