ایران-امریکہ کشیدگی میں کمی: پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کلیدی کردار بن گئی

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو کشیدگی میں کمی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی خاموش مگر متحرک سفارتکاری، ترکی اور مصر کے ساتھ ہم آہنگی میں، وسیع تر علاقائی تنازعے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان نے پسِ پردہ رابطوں میں مرکزی کردار ادا کیا، اور انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے ممکن بنائے۔ ان کوششوں کا مقصد مزید فوجی کشیدگی کو روکنا اور ایک ایسے وقت میں مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنا تھا جب صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔

سفارتی کوششیں

پاکستانی قیادت پورے عمل کے دوران متحرک رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے جاری رکھے، جبکہ آرمی چیف عاصم منیر نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک ملاقاتیں کیں۔ باخبر حکام کے مطابق، توجہ صرف فوری کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں تھی بلکہ دیرپا علاقائی استحکام کی بنیاد رکھنے پر بھی مرکوز رہی۔

سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متوازن حکمت عملی اپنائی، اور امریکہ و ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ اسی پوزیشن نے اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرنے میں مدد دی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے محدود تھے۔

ٹرمپ کا اشارہ

واشنگٹن میں، ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے والے حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل کیا گیا جس نے کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایران کے ساتھ حالیہ بات چیت "بہت اچھی اور نتیجہ خیز" رہی، اور مذاکرات کا مرکز "مشرقِ وسطیٰ میں دشمنیوں کا مکمل خاتمہ" تھا۔

ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام سے بات چیت کی ہے اور یہ مذاکرات جاری رہیں گے۔ اگرچہ انہوں نے ایرانی نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم اشارہ دیا کہ بات چیت اعلیٰ سطحی شخصیات سے ہو رہی ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ، جس کی قیادت عباس عراقچی کر رہے ہیں، نے تسلیم کیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے "اقدامات" جاری ہیں، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ کسی بامعنی حل کے لیے امریکہ کا براہِ راست شامل ہونا ضروری ہے۔

جنگ اور منڈیاں

یہ تنازع، جو 28 فروری کو شروع ہوا، اب تک 2,000 سے زائد ہلاکتوں کا سبب بن چکا ہے اور عالمی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد فوری اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، اور بعد میں 101.66 ڈالر کے قریب مستحکم ہوئی۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بہتری دیکھی گئی، جو ممکنہ سفارتی پیش رفت پر محتاط امید کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم، زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اسرائیلی افواج نے تہران میں انفراسٹرکچر پر تازہ حملے کیے، جبکہ ایرانی حکام نے خرم آباد اور بوشہر سمیت کئی شہروں میں جانی نقصان کی اطلاع دی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے، جس میں اسرائیلی تنصیبات اور خلیج میں امریکی اڈوں سے متعلق اہداف شامل ہو سکتے ہیں۔

اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران نے اس راستے پر آمد و رفت محدود کر دی ہے، جو عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ تہران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خلیجی راستوں کو بارودی سرنگوں سے بند کیا جا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

علاقائی اہمیت

توانائی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا خلیجی ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جہاں پانی کی فراہمی کا بڑا انحصار ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے) کے نظام پر ہے۔ بحرین اور قطر مکمل طور پر اسی نظام پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی بڑی حد تک اسی پر منحصر ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان، ترکی اور مصر کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی طاقتیں سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ مصر کا عرب دنیا میں اثر و رسوخ اور ترکی کی علاقائی سرگرمیوں نے پاکستان کی اس صلاحیت کو مزید مؤثر بنایا کہ وہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ سکے۔

بین الاقوامی مبصرین نے اسلام آباد کے کردار کو سراہنا شروع کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ پاکستان کی متوازن سفارتکاری نے ایک نازک مرحلے پر کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب جبکہ رابطے بحال ہو چکے ہیں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ کوششیں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں