ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملے قابلِ مذمت ہیں: روس

ماسکو: (شاہد گھمن سے) روس نے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کی عالمی برادری کو بھرپور مخالفت کرنی چاہئے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، پر حملے نہایت خطرناک ہیں اور ان سے بڑے پیمانے پر تابکاری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور ممالک مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو مزید شدت دے رہے ہیں اور اس کے سنگین نتائج کو نظر انداز کر رہے ہیں، 27 مارچ کو ایران کے خنداب ہیوی واٹر کمپلیکس اور اردکان یورینیم پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بوشہر کے قریب بھی مزید حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ماریہ زخارووا نے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ذمہ دار عناصر کو اس کے نتائج کا ادراک ہونا چاہئے، انہوں نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خطرناک صورتحال پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نہ صرف جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے بلکہ عالمی حفاظتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں، حملہ آور ممالک فوری طور پر اس تباہ کن پالیسی کو روکیں تاکہ مزید جانی نقصان اور ممکنہ عالمی بحران سے بچا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں