روس کی مشرق وسطیٰ میں ثالثی کی پیش کش، تنازعات کے سیاسی حل پر زور

ماسکو: (شاہد گھمن ) روسی وزارت خارجہ کے خصوصی نمائندے برائے مشرق وسطیٰ تصفیہ اور خصوصی امور کے سفیر وی کے سافرونکوف نے کہا ہے کہ ماسکو خطے میں ثالثی کے کردار کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ عملی اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ روس مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے۔

ان کے مطابق روس تمام فریقین کے ساتھ مسلسل اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے تاکہ فوجی تصادم کی بجائے سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جا سکے۔ روس اس حوالے سے ایران کے جوہری معاملے پر خدشات کے حل کے لیے بھی عملی تجاویز پیش کر رہا ہے۔

روسی نمائندے نے کہا کہ خطے سے باہر موجود ممالک کو مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور نوآبادیاتی طرزِ فکر کو ترک کر کے بات چیت اور سفارت کاری کو فروغ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی اور تعاون کے لیے ہمسائیگی، مکالمے اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر عمل ضروری ہے، اور روس اپنی ثالثی کوششیں اسی بنیاد پر جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی خطے اور دیگر تنازعات کا حل بیرونی طاقتوں کے مربوط اور متوازن کردار پر منحصر ہے، اور سب کو ایک ہی اصولی فریم ورک کے تحت کام کرنا چاہیے۔

روسی اہلکار نے بتایا کہ روس-عرب سربراہی اجلاس کا انعقاد ایک اہم اور دیرینہ منصوبہ ہے، جو مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ اس کی تاریخ اور تیاریوں پر مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے ان ممالک کا داخلی معاملہ ہیں جنہوں نے انہیں دستخط کیا، لیکن یہ معاہدے ایسے نہ ہوں جو کسی بلاک یا محاذ آرائی کو جنم دیں۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات اگر تقسیم اور کشیدگی بڑھائیں تو وہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت مشترکہ ترقی اور امن کی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں